BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیس لائنز دھماکہ، چند سوالات

زخمی ہونے والوں میں تین کانسٹیبل اور ایک سب انسپیٹر شامل ہیں
جمعرات کی دوپہر کو اسلام آباد پولیس لائنز کے اندر انسداد دہشت گردی سکواڈ کے رہائشی بلاک کے باہر ہونے والے دھماکے کے بارے میں بعض سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر اس دھماکے کا مقصد خوف پھیلانا لگتا ہے۔

پولیس لائنز کے اندر جہاں نئے بھرتی ہونے والے اہلکاروں کو تربیت دی جاتی ہے وہاں تیراکی، گھڑ سواری، ڈرائیونگ اور دیگر شعبوں میں تربیت کے مراکز بھی قائم ہیں۔

چار دیواری کے اندر کئی عمارتیں ہیں جہاں انتظامی بلاک میں کافی تعداد میں لوگ موجود ہوتے ہیں اور اس کے قریب پولیس اہلکاروں کی رہائش کے بیرک بھی بنے ہیں۔

ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حملہ آور نے ایسی تمام عمارتیں جہاں زیادہ لوگ موجود تھے ان میں سے کسی کو نشانہ نہیں بنایا اور بالکل آخر میں واقع انسداد دہشت گردی سکواڈ کے رہائشی بلاک کا انتخاب کیوں کیا؟

اب تک جتنے بھی اس طرح کے حملے ہوئے ہیں ان میں حملہ آوروں کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہو۔ لیکن اس دھماکے کا بظاہر مقصد اس طرح کا نہیں لگتا۔

سوال
 انسپکٹر جنرل کے بیان سے واضح ہے کہ یہ خود کش حملہ نہیں ہے اور کوئی ہلاکت نہیں ہوئی لیکن میڈیا کے سامنے دو پولیس اہلکارایک شفاف پلاسٹک کی تھیلی کے اندر جائے واردات اور اس کے تیس میٹر کے اندر والے علاقے سے جو ایک کلو گرام کے قریب گوشت کے لوتھڑے لائے وہ کس کے تھے؟

کیونکہ جس جگہ انسداد دہشت گردی سکواڈ کی رہائش ہے اس کے ارد گرد پولیس اہلکاروں کے رہائشی بیرک بھی ہیں لیکن حملہ آور نے انتخاب انسداد دہشت گردی سکواڈ کی عمارت کا کیا جہاں بیشتر لوگ اپنی ڈیوٹی پر ہونے کی وجہ سے موجود ہی نہ تھے۔

پولیس لائنز میں ہر داخل ہونے والی گاڑی اور متعلقہ شخص کا اندراج ہوتا ہے اور آنے والے شخص سے یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ وہ کس سے ملنے آئے ہیں اور مکمل تسلی کے بعد ہی کسی کو اندر جانے دیا جاتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اس کے باوجود یہ بارود سے بھری گاڑی کیسے اندر پہنچی؟

اسلام آباد پولیس کے سربراہ سید اصغر رضا گردیزی نے بتایا کہ ایک کار آئی اور اس میں سے ایک شخص اترا اور ڈکی کھول کر مٹھائی کے دو ڈبے پیش کیے اور کچھ دیر میں دھماکہ ہوا۔

اگر دھماکہ مٹھائی کے ڈبوں میں رکھے بارود سے ہوتا تو عمارت کی اندر دھماکہ ہوتا اور عمارت گر بھی سکتی تھی؟ لیکن اس دھماکے سے تو عمارت کے سامنے والے حصے کو نقصان پہنچا اور دونوں منزلوں کی گیلریاں تباہ ہوئی ہیں اور عمارت کا ڈھانچہ اپنی جگہ قائم ہے۔

ایسے میں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ حملہ آور کی جوگاڑی باہر کھڑی تھی وہ کیسے ٹکڑے ٹکڑے ہوکر اڑی؟ اس سے تو یہ گمان ہوتا ہے کہ گاڑی کے اندر بھی بارود تھا اور گاڑی کے جو ٹکڑے اڑے ہیں عمارت کو نقصان ان سے ہی پہنچا ہوگا۔

انسپیکٹر جنرل کے بیان سے واضح ہے کہ یہ خود کش حملہ نہیں ہے اور کوئی ہلاکت نہیں ہوئی لیکن میڈیا کے سامنے دو پولیس اہلکار ایک شفاف پلاسٹک کی تھیلی کے اندر جائے واردات اور اس کے تیس میٹر کے اندر والے علاقے سے جو ایک کلو گرام کے قریب گوشت کے لوتھڑے لائے وہ کس کے تھے؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد