BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 November, 2008, 07:10 GMT 12:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چارسدہ: خود کش حملہ، تین ہلاک

حالیہ دنوں میں صوبہ سرحد میں دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے
صوبہ سرحد کے ضلع چارسدہ میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے ایک عارضی مرکز پر ہونے والے ایک مبینہ کار بم خودکش حملے میں تین اہلکاروں کے ہلاک جبکہ چار کے زخمی ہوگئے ہیں۔

دوسری طرف سوات میں بھی سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین تازہ جھڑپوں میں فوج نے اٹھ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے جبکہ ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

پشاور سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور چارسدہ کے علاقے شب قدر میں ہونے والے خود کش حملے کے عینی شاہدین کے مطابق یہ حملہ بدھ کی صبح دس بجے کے قریب پیش آیا۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے تصدیق کی کہ یہ خودکش حملہ تھا جس میں بارود سے بھری گاڑی کو استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس جگہ حملہ ہوا ہے وہاں فوج اور سکیورٹی فورسز کا ایک مشترکہ عارضی مرکز تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک مبینہ خودکش حملہ آوار نے بارود سے بھری گاڑی سکیورٹی فورسز کے مرکز سے ٹکرائی جس سے وہاں زوردر دھماکہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے ہوائی فائرنگ شروع کردی اور سارے علاقے کو سیل کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے مہمند ایجنسی اور آس پاس کے علاقوں میں مشتبہ طالبان کے ٹھکا نوں کو بھاری توپ خانے سے نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد شب قدر بازار اور آس پاس کے علاقوں میں تمام دکانیں بند ہو گئیں اور ہر طرف سکیورٹی اہلکار دکھائی دے رہے تھے۔

گزشتہ شام مچنی کے علاقے میں بھی ایک مارٹر گولہ گھر پرگرنے سے تین عام شہری مارے گئے تھے۔ تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق حملہ طالبان کے ٹھکانے پر کیا گیا تھا۔

ادھر صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں فوج نے تازہ جھڑپوں میں آٹھ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے جبکہ ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

سوات میڈیا سنٹر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق بدھ کی صبح تازہ جھڑپیں تحصیل کبل کے علاقے میں پیش آئے جہاں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بھاری توپ خانے سے حملے کئے گئے جس میں آٹھ شدت پسند مارے گئے جبکہ ایک سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

تاہم سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے حکومتی دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کل سے جاری جھڑپوں میں بیس سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا جوابی دعوی کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لڑائی میں ان کا کوئی ساتھی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کبل کے علاقوں اخون کلی اور زوڑہ میں گزشتہ کئی دنوں سے کرفیو نافذ ہے اور فریقین ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کررہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد