BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 November, 2008, 11:19 GMT 16:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹرکوں کا اغواء، طالبان کی سیاست

خیبر فوٹو
ٹرکوں کے لیے خیبر پاس افغانستان جانے کا اہم راستہ ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں درجنوں مسلح طالبان کی جانب سے افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے لیے فوجی اور دیگر بھرے ٹرکوں کو اغواء کرنا اور پھر سامان خالی کراکے ویران علاقے میں چھوڑ دینا اپنی نوعیت کا ایک اہم اور بڑا واقعہ سمجھا جاتا رہا ہے۔

اگرچہ افغانستان میں تعینات امریکی اور اتحادی افواج کے لیے پاکستان کے راستے تیل اور دیگر سامان کی ترسیل کرنے والی گاڑیوں اور آئل ٹینکروں کو اغواء یا تباہ کرنے کے واقعات گزشتہ کئی سالوں سے پیش آتے رہے ہیں مگر اس سال اس میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے مارکیٹوں اور طورخم بازار میں ایسا سامان سرِ عام بِک رہا ہے جو نیٹو فورسز اور امریکی فوجیوں کے لیےمخصوص ہے۔ان میں فوجی وردیاں، جیکٹس، وزن کم کرنے والی مشینیں، بوٹ، خنجر، چاکلیٹ، لوبیا اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء شامل ہیں۔

پاکستان کے دیگر قبائلی علاقوں کی نسبت خیبر ایجنسی کی اہمیت اس لحاظ سے زیادہ ہے کہ اسی راستے سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑے پیمانے پر تجارت اور عام لوگوں کی نقل و حرکت ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ماضی میں حکومتِ پاکستان کی کوشش رہی تھی کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مبینہ عسکریت پسندی خیبر ایجنسی بالخصوص اس کی دو اہم تحصیلوں جمرود اور لنڈی کوتل تک نہ پہچنے پائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے خیبر ایجنسی کو بیت اللہ محسود کی تحریکِ طالبان سے محفوظ رکھنے کے لیے مقامی شدت پسند تنظیموں کی بالواسطہ طور پر حوصلہ افزائی کی۔

حکومت کا کردار
 امر بالمعروف و نہی عنی المنکر کی حکومت کے ساتھ قربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس سال انتیس اپریل کو تنظیم کے مقتول رہنما حاجی نامدار اور خیبر ایجنسی میں محسود اسکاؤٹس کے کمانڈنٹ کرنل مجاہد حسین نے ایک ہی تقریب سے خطاب کیا اور اگلے روز پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں جب تصویر چھپی تو اس میں دونوں کو ساتھ ساتھ بیھٹے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
ان تنظیموں میں لشکر اسلام، انصارالاسلام او امر بالمعروف و نہی عنی المنکر بھی شامل ہیں۔ان میں امر بالمعروف کے سوا باقی دونوں تنظیموں کا ایجنڈا ایک حد تک مقامی رہا ہے اور دونوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ علاقہ کو کنٹرول کرنے کے معاملے پر کئی سالوں سے لڑائی جاری ہے۔

امر بالمعروف و نہی عنی المنکر کی حکومت کے ساتھ قربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس سال انتیس اپریل کو تنظیم کے مقتول رہنما حاجی نامدار اور خیبر ایجنسی میں محسود اسکاؤٹس کے کمانڈنٹ کرنل مجاہد حسین نے ایک ہی تقریب سے خطاب کیا اور اگلے روز پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں جب تصویر چھپی تو اس میں دونوں کو ساتھ ساتھ بیھٹے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تنظیم کے سربراہ نے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں نہیں افغانستان میں غیرملکی فوجیوں کے خلاف’جہاد‘ کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہی تنظیم کے سات جنگجو افغانستان کے صوبہ ننگر ہار میں نیٹو فورسز کی مبینہ بمباری میں ہلاک بھی ہوئے تھے مگر انہی غیرملکی فوجیوں کے لیے فوجی اور دیگر ساز وسامان ان کے آبائی علاقے کے راستے ہی لے جائی جا رہی ہے مگر انہوں نے کبھی نے اس کا راستہ نہیں روکا۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بیت اللہ محسود کی تحریک طالبان کی کوشش ہے کہ خیبر ایجنسی میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا کر نیٹو فورسز کی نہ صرف سپلائی لائن میں رکاوٹ ڈالے بلکہ لوٹے گئے سامان سے مسفید بھی ہوسکیں۔امر بالمعروف و نہی عنی المنکر اور بیت اللہ محسود کے درمیان موجود اختلافات میں ایک یہ وجہ بھی بتائی جا رہی ہے۔

حاجی نامدار پر اس سے قبل یکم مئی کو جو مبینہ خودکش حملہ ہوا تھا اس میں محفوظ رہنے کے بعد انہوں نے اسکا الزام بیت اللہ محسود پر عائد کیا تھا اور بعد میں کرم ایجنسی میں طالبان کے کمانڈر حکیم اللہ نے قبائلی جرگے کے توسط سےخود کش حملہ آور کی لاش بھی وصول کر لی تھی۔

لیکن گزشتہ ایک سال سے تحریکِ طالبان کی خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں قوت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ تحصیل جمرود صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور سے متصل ہے اور اس کے حدود بابِ خیبر سے شروع ہوتے ہیں۔اس تحصیل کےگودر، شیر گڑھ اور مہمند ایجنسی سے متصل ملا گوری کے علاقے میں تحریکِ طالبان کے درجنوں جنگجوؤں کی پناہ گاہیں موجود ہیں۔

کل جن تیرہ ٹرکوں کو اغواء کیا گیا ان میں امریکی فوج کی دو فوجی گاڑیاں بھی شامل تھیں اور ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی تصویروں میں اس کے آگے ایک بینر لگایا گیا ہے جس پر لکھا گیا ہے کہ’تحریکِ طالبان پاکستان بیت اللہ کارواں‘ جبکہ ساتھ میں نقاب پوش مسلح جنگجو کھڑے ہیں۔

ٹرکوں کے اغواء کے حوالے سے ایک سوال یہ بھی اٹھایا جاتا ہے کہ واردات کے وقت مقامی انتظامیہ کہاں تھی حالانکہ کاروائی کے وقت پاک افغان شاہرہ آدھے گھنٹے تک بند بھی رہی۔

بعض مبصرین کا یہ بھی خیال ہے کہ قبائلی علاقوں میں امریکی فو ج کی جانب کیے گئے میزائل حملوں پرحکومتِ پاکستان کی جانب سے اٹھائی جانے والی صدائے احتجاج کے بےاثر ہونے کے بعد حکومت بطورِ دباؤ ان واقعات پر ایک حد تک ’چشم پوشی‘ سے کام لینے کی مبینہ کوشش کر رہی ہے۔

اس سے قبل حکومت نے نیٹو فورسز کی خیبر ایجنسی کے راستے سامان کی ترسیل ایک دن کے لیے روک دی تھی جس کے لیے وزیر دفاع احمد مختار نے موقف اختیار کیا تھا کہ ایسا غیرمعمولی حالات کی وجہ سے کیا گیا۔ یہ ایسے وقت کیا گیا تھا جب پاکستان میں بغص سیاسی اور مذہبی حلقے حکومت پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ میزائل حملوں کے ردعمل میں پاکستان کے راستے نیٹو فورسز کی سپلائی لائن کاٹ دے۔

افغان ملاپھر نائن الیون ہو گیا
پاک افغان تعلقات یونہی رہیں گے
عیدقبائلی علاقوں میں
طالبان کے کہنے پر منگل کو عید کی گئی
طالبان طالبان کا مطالبہ
’فوجی بریفنگ یک طرفہ، ہمیں بھی موقع دیا جائے‘
طالبان ’تصویر کادوسرا رخ ‘
طالبان کی پارلیمان کو بریفنگ کا حامی کون
پولیس اہلکار مستعفی
طالبان کا خوف، پولیس اہلکاروں کے استعفے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد