نیٹو کا سامان لے جانے والے ٹرک اغواء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں نیٹو فورسز کے لیے امداد لے جانے والے بارہ ٹرکوں کو سامان اور عملے کے چھبیس افراد سمیت اغوا کر لیا گیا ہے۔ سامان کے کنٹینروں کے ساتھ اغوا ہونے والے چھبیس افراد ٹرک ڈرائیور اور کلینر ہیں۔ پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہل کار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پہلی گاڑی خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود کے علاقے وزیر ڈانڈ سے اغوا کی گئی جس کے بعد سور کام کے علاقے سے آٹھ اور چیجی بازار کے علاقے سے تین گاڑیاں اغوا کی گئیں۔ ان واقعات کے بعد پولیٹیکل انتظامیہ نے مختلف علاقوں کی ناکہ بندی کر دی ہے لیکن آخری اطلاعات ملنے تک اغواء کیے جانے والے افراد اور ٹرکوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی تھی۔ پولیٹیکل اہلکار کے مطابق اغواء کی جانے والی گاڑیوں میں خورد و نوش کی مختلف اشیاء سمیت دیگر ضروری سامان بھی تھا۔ ان کے مطابق اس واقعے کے بعد پولیٹیکل انتظامیہ نے خاصہ دار اور سکاؤٹس فورس کے دستوں کو مختلف علاقوں پر تعینات کر دیا ہے اور خیبر ایجنسی کے قبائلی عمائدین سے بھی رابطے قائم کیے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ خیبر ایجنسی افغانستان اور پاکستان کے درمیان نقل و حمل کا اہم راستہ ہے اور اس راستے سے افغانستان کو مختلف اشیاء ترسیل کی جاتی ہے۔افغانستان میں پاکستان کے سفیر طارق عزیزالدین کو بھی اسی راستے سے افغانستان جاتے ہوئے اغواء کیا گیا تھا۔ پاکستان اور اس کے قبائلی علاقوں میں نیٹو افواج کے لیے سامان لے جانے والے ٹرکوں کے خلاف کارروائی کا یہ پہلا واقعہ نہیں اور خیبر ایجنسی کے علاقے میں پہلے بھی نیٹو افواج کے لیے سامان لے جانے والے کئی ٹرکوں کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ چند ماہ قبل نیٹو افواج کے لیے درآمد کردہ بکتر بندگاڑیاں ایک ٹرالر کے ذریعے افغانستان جانے کے لیے کراچی بندرگاہ کے قریب ماری پور ٹرک سٹینڈ پر تیار کھڑی تھیں اور چند نامعلوم افراد نے ٹرالر کو آگ لگا دی تھی جس کے باعث بکتر بند گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ | اسی بارے میں خیبر، تین سکیورٹی اہلکار ہلاک08 July, 2008 | پاکستان خیبر ایجنسی :سترہ خاصہ دار اغواء23 June, 2008 | پاکستان خیبر ایجنسی: جھڑپیں، تین ہلاک11 October, 2006 | پاکستان پاک افغان شاہراہ احتجاجاً بند 04 March, 2008 | پاکستان خیر ایجنسی میں تین صحافی رہا28 June, 2006 | پاکستان خیبر سے غیرملکی سمیت دو گرفتار13 February, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||