عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | مساجد میں علما کی جانب سے ہونے والے اعلانات کے بعد منگل کو عید منائی ہے |
پاکستان کے باقی علاقوں کے برعکس مہمند اور خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں لوگوں نے پہلی مرتبہ عید مقامی شدت پسند تنظیموں کے اعلان پر منگل کو منائی ہے۔ مہمند ایجنسی میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ شب مختلف مساجد میں علما کی جانب سے ہونے والے اعلانات کے بعد منگل کو عید منائی ہے۔ ان کے بقول دینی علما کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں منگل کو عید منانے کے اعلان کے بعد مہمند ایجنسی میں بھی منگل کو ہی منائی جائے گی۔ اعلانات میں علما نے پہلی مرتبہ کہا ہے کہ طالبان نے بھی منگل کو عید منانے کے لیے کہا ہے۔ مہمندایجنسی میں لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال عید قدر ے پر امن ماحول میں منا رہے ہیں۔گزشتہ سال مہمند ایجنسی میں عید کی خوشیاں صبح اس وقت ماند پڑ گئی تھیں جب مسلح طالبان نے عید کی اجتماع میں تقریباً پندرہ سو افراد کے سامنے چھ افراد کوگلا کاٹ کر مار دیا تھا۔ان افراد پر طالبان نے الزام لگایا تھا کہ وہ مبینہ طور پر مختلف جرائم میں ملوث ہیں۔ ادھر خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے علاقے بر قمبر خیل میں بھی ایک مقامی شدت پسند تنظیم ’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ کے اعلان پر لوگوں نے منگل کو عید منائی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تنظیم کے ایک رہنما نے اپنے غیر قانونی ایف ایم سٹیشن پر اعلان کیا کہ منگل کو سعودی عرب کے ساتھ ہی عید منائی جائے گی۔ طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ باجوڑ اور باقی علاقوں میں بھی طالبان نے منگل کو ہی عید منائی ہے۔ ان کے بقول سعودی عرب کے ساتھ عید منانے کی وجہ شرعی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں ایک ہی روز عید منانا برسوں سے ایک متنازع مسئلہ رہا ہے۔ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ مذکورہ علاقوں میں بیک وقت دو یا تین عیدیں منائی جاتی ہیں۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ طالبان کے زیر اثر علاقوں میں ان کے کہنے پر ہی حکومتی اعلان کے برعکس عید منائی جا رہی ہے۔ |