عید بازاروں میں رونقیں نہیں ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں غذائی اشیاء، خوردنی تیل، ایندھن، گیس، بجلی اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافے کے بعد مہنگائی نے اب عید بازاروں کی رونقوں کو بھی گہن لگا دیا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ حقیقی خریدار بازاروں میں کم ہیں اور ان کی سیل پرمنفی اثر پڑا ہے جبکہ ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ مجموعی معاشی صورتحال گذشتہ کچھ عرصے سے زبوں حالی کا شکار ہے اور یہ اسی کا اثر ہے کہ عید کی خریداری میں جوش و خروش نہیں ہے۔ کراچی شہر کے ہر بازار میں عید سے چند روز قبل تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوا کرتی تھی اور خاص طور پر صدر بوہری بازار میں تو جیسے انسانوں کا سیلاب امڈ آیا ہو۔ خریدار اپنی پسند کے کپڑے، زیور، جوتے وغیرہ خرید کر عید کی تیاری مکمل کیا کرتے تھے اور دکاندار اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پورے سال کا منافع کمانے کی کوشش میں ہوتے۔ تاہم اس سال صورتحال اس کے برعکس ہے اور کئی دکانوں میں تو سیل لگا دی گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خریداروں کی کس قدر کمی ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سےکاروبار پر منفی اثر پڑا ہے۔ خلیل اعوان کا کہنا ہے کہ لوگوں کی قوتِ خرید اتنی تیزی سے نہیں بڑھی جس تیزی سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بازاروں میں ایک تو رش کم ہے اور اوپر سے حقیقی خریدار تو اور بھی کم ہیں ایسے میں کاروبار پر تو برا اثر پڑنا ہی ہے۔ ان کے بقول وہ لوگ جو چار چار سوٹ خریدا کرتے تھے اب ایک یا دو پر ہی اکتفا کررہے ہیں۔
عید کی خریداری کے سلسلے میں آئے خریداروں میں ایک فرزانہ خاتون بھی تھیں جو اپنے بارہ سالہ بیٹے کے ساتھ عید کے کپڑوں کی خریداری کررہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی بہت ہوگئی ہے، جب بھی بازار جاؤ تو سوچ سے زیادہ ہی قیمتیں سننے کو ملتیں ہیں، میرے بیٹے کی جو پینٹ پچھلے سال دو سو میں مل جاتی تھی اب تین سو روپے میں بھی نہیں مل رہی ہے۔ ایک اور خریدار جنید آفتاب نے بتایا کہ وہ تین گھنٹے سے بازار میں گھوم رہے ہیں اور اب تک فیصلہ نہیں کرپائے ہیں کہ انہیں کیا خریدنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے تو جیسے چیزوں کو آگ لگادی ہے، حکومت کو چاہیے کو وہ مہنگائی کو کم کرنے کے لیے قابلِ عمل اور مؤثر اقدامات کرے۔ عید کی خریداری میں سب سے زیادہ توجہ کپڑوں کو حاصل ہوتی ہے اور خریداروں میں کمی کی وجہ سے صرف دکانداروں ہی کا نقصان نہیں ہورہا بلکہ اس صنعت سے وابستہ تمام لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ گارمنٹ کی صنعت سے وابستہ صعنت کار انیس اسماعیل کا کہنا ہے کہ بجلی، گیس، سفری اخراجات، دھاگہ، لیبر ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے تو لامحالہ کپڑے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے جبکہ اس برس کاروبار میں بھی کمی رہی ہے۔ ماہر معاشیات ظفر موتی کہتے ہیں کہ عام طور پر دکاندار عید کی خریداری پر شرح منافع بڑھا دیا کرتے تھے تاکہ وہ پورے سال کے اہداف حاصل کرسکیں لیکن اب قوتِ خرید کم ہونے کی وجہ سے منافع کی شرح میں بھی کمی کی گئی ہے، اور اس قسم کے حالات معیشت میں گراوٹ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں لوگوں کے پاس چیزیں خریدنے کی قوت نہیں رہتی۔ ماہرین کے خیال میں معیشت میں تمام شعبے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور جب معیشت بحران کا شکار ہو تو اس کا اثر ہر شعبے پر ہوتا ہے لہذٰا اگر معیشت کی بحالی کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا بلکہ معاشی صورتحال مزید دگرگوں ہوجائے گی۔ | اسی بارے میں کراچی: دکانیں کھلی ہیں، خریدار غائب 29 October, 2005 | پاکستان عید شاپنگ اور موبائل چور14 October, 2006 | پاکستان قربانی آن لائن20 January, 2005 | پاکستان پاکستان کی اقتصادی حالت26 April, 2005 | پاکستان وزیرستان، زندگی کی چہل پہل06 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||