اسلام آباد کی پھیکی عید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کسی تہوار پر شہروں میں دیکھی جانے والی رونق اسلام آباد میں ڈھونڈے سے نہیں ملتی،ۙ یہاں عید نہ میٹھی ہے نہ نمکین نہ گرم نہ سرد، نہ چھوٹی ہے نہ بڑی۔ یہ صرف پھیکی ہے۔ عام دنوں میں تو اس شہر میں لوگوں کی سرگرمیاں موٹروں کی رفتار کی صورت میں نظر آتی رہی تھیں، مگر جوں جوں عید قریب آتی گئی یہ سرگرمیاں ماند پڑتی گئیں۔ عید سے ایک رات قبل اسلام آباد کے بازاروں میں دیکھی جانے والی رونق یقیناً پاکستان کے کسی بھی دوسرے شہر کی نسبت انتہائی کم تھی مگر عید کے روز نظر آنے والی ویرانی سے اسلام آباد کسی ایسے شہر کا منظر پیش کر رہا تھا جہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اچانک ہجرت کر گیا ہو۔ اس عید کو دیکھ کر اسلام آباد شہر ایک بڑے سرائے کی صورت معلوم ہوا، جہاں گھر کم ہوٹل اور مسافر خانے زیادہ ہوں۔ ہری پور ہزارہ سے تعلق رکھنے والے محمد خالد گزشتہ چار برس سے اسلام آباد میں ٹیکسی چلا رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہر تہوار پر اسلام آباد کی صورتحال یہی ہوتی ہے اور ان جیسے لوگوں کے لیے یہ دن گزارنا نہایت مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس دن بس یا ویگن بھی نہیں ملتی۔ اسلام آباد کے بعض علاقے کراچی کے رہائشی علاقوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔
ایف سیوں میں ایک عمارت کے سیکورٹی گارڈ شمیم کا کہنا ہے کہ اُن کے اہلِ خانہ چکوال میں ہیں اور ابھی فون کرنے پر اُنہیں معلوم ہوا کہ بکرا قربان کر دیا گیا ہے اُس میں سے چوبیس کلو گوشت نکلا ہے۔ شمیم چھٹی نہ ملنے کی وجہ سے اپنے اہلِ خانہ سے دور ہیں۔ بعض لوگ اسلام آباد کو سرائے ایوبی (ایوب خان) کے نام سے پکارتے ہیں جس کی وجہ یہاں کے باسی ہیں جو اپنے کاموں کی وجہ سے شہر میں رہتے ہیں اور جب کام ختم ہوجاتا ہے واپس اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ ادھر پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں عیدالاضحی کے موقع پر پچھلے سالوں کی طرح کھالیں چھیننے کے شکایات سامنے نہیں آئی ہیں۔ عام رائے یہ ہے کہ اسکی بڑی وجہ عام انتخابات کا قریب ہونا ہے جس میں ہر سیاسی جماعت کی یہی کوشش ہے کہ ووٹرز سے قریبی رابطہ رکھیں اور انہیں شکایت کا موقع نہ دیں۔
تاہم شہر میں آٹے کے بحران اور اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافے کے عام آدمی کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے اور اس کے باعث قربانی کے جانوروں کی فروخت میں پچھلی عیدوں کی طرح جوش و خروش نظر نہیں آیا۔ کراچی کے مرکزی علاقے صدر میں عام لوگوں سے جب پوچھا کہ انکے خیال میں ان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے تو سب کا ایک ہی جواب تھا۔ مہنگائی۔ ’یہاں تو ہر شے ہی مہنگی ہے، بکرے تو اس مرتبہ حد سے زیادہ ہی مہنگے تھے اور کوئی بھی قیمت کم کرنے پر تیار نہیں ہے، اچھا بکرہ بیس ہزار سے اوپر مل رہا ہے، عام آدمی کے لیے تو اب بہت مشکل ہے قربانی کرنا‘ یوسف نامی شخص نے مزید بتایا کہ گائے کی قیمتیں بکروں سے بھی زیادہ ہیں اور ایک گائے کی آٹھ دس لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ان کے خیال میں جانوروں کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ لوگوں میں قربانی کے نام پر اپنی مالی حیثیت کی نمودونمائش کرنے کا رجحان ہے۔ ’اب یہ قربانی تھوڑی ہے۔ہ یہ تو دکھاوہ ہے۔ آج سے پانچ سات پہلے تک ایسا کچھ بھی نہیں تھا، پہلے سات آٹھ ہزار کا جانور کہاں بکتا تھا۔ لوگ چپ چاپ جانور خریدتے تھے اور قربانی کرتے تھے۔ اب لوگ یہ نہیں پوچھتے کہ کونسا جانور خریدا ہے بلکہ یہ پوچھتے کہ کتنے میں خریدا۔‘
لیکن صدر کے علاقے کے ہی رہائشی علی رضا نے جانوروں کی قیمتیں بڑھنے کی ایک اور وجہ بھی بتائی۔’منڈی میں جو لوگ جانور بیچنے کے لیے لاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ منڈی کا ٹھیکہ آرمی والوں کے پاس ہے اور وہ ایک ایک جانور کو وہاں رکھنے کا ڈھائی سو روپے یومیہ کرایہ دے رہے ہیں، پانی اور بجلی کے الگ پیسے دے رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ انہیں لاگت ہی اتنی زیادہ پڑ رہی ہے کہ وہ کیا کریں۔‘ لوگوں کو قصائیوں سے بھی شکایت ہے کہ وہ جانور ذبح کرنے کا معاوضہ بہت زیادہ وصول کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قصائی بکرے کو ذبح کرنے کے پندرہ سو روپے اور گائے کے ڈھائی سے تین ہزار روپے وصول کررہے ہیں۔ لیکن قصائی کچھ اور کہتے ہیں۔ ایک قصائی محمد وسیم نے بتایا کہ عید قرباں سال میں ایک بار آتی ہے اور اسکے بعد وہ ایک ماہ کی چھٹی بھی کرتے ہیں اس لئے انہیں اتنے پیسے لینا پڑتے ہیں۔ وہ بھی مہنگائی کا رونا روتے ہوئے نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا ’آپ دیکھیں مہنگائی کتنی بڑھ چکی ہے۔ جو ساٹھ روپے لیٹر تیل تھا وہ ایک سو بیس روپے مل رہا ہے اور ہم تو اس سال بھی پچھلے سال والا ریٹ ہی لے رہے ہیں۔‘ قربانی کے اخراجات اپنی جگہ لیکن بہت سے لوگ جو قربانی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، وہ بھی عید کے موقع پر فکرمند ہی نظر آئے۔ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے حیدر علی نے، جو صدر کی ایک مارکیٹ میں چوکیدار کے فرائض انجام دیتے ہیں، بتایا کہ ان کی تنخواہ چھ ہزار روپے ہے جس میں گزارا بہت مشکل ہے۔ ’پچھلے سال سے اس سال تک صرف گھی پر تقریباً دو سو روپے بڑھے ہیں۔ آٹا ایک ہزار روپے فی من مل رہا ہے، آپ خود اندازہ کریں کہ کیسے گزارا ہوتا ہوگا، حکومت تو کہتی ہے کہ لوگ بہت خوش ہیں کیونکہ موبائل فون بہت بک رہے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||