طالبان کا خوف، پولیس اہلکار مستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں حکام کے مطابق فوجی آپریشن کے جاری رہنے کے باوجود گزشتہ کچھ عرصے کے دوران تین سو کے قریب پولیس اہلکار مبینہ عسکریت پسندوں کے دباؤ پر نوکریاں چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ دوسری طرف سوات میں طالبان کے کہنے پر نوکریاں چھوڑنے والے اہلکاروں کے پولیس سے لاتعلقی کے اشتہارات بطور ثبوت مقامی اخبارات میں شائع ہونے کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔ سوات میں ایک اعلی پولیس افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کی دھمکیوں کے بعد سوات میں تقریباً تین سو پولیس اہلکاروں نے اپنی نوکریاں چھوڑ دی ہیں۔ ان کے بقول نوکریاں چھوڑنے والے اہلکار سبھی مقامی افراد ہیں اور مبینہ عسکریت پسندوں نے یا تو انہیں یا ان کے خاندان والوں کو پولیس فورس سے الگ ہونے کی دھمکیاں دے رکھی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شورش زدہ سوات میں اس سال کے دوران باسٹھ کے قریب پولیس اہلکاروں کو قتل کیا گیا ہے۔ پولیس افسر کے مطابق فوج اور ایف سی کے جوانوں کے مقابلے میں پولیس کو بڑی آسانی کے ساتھ نشانہ بنایا جاسکتا ہے کیونکہ ان کی مقامی سطح پر موجود گی ضروری ہوتی ہے۔
ان کے بقول سوات میں بڑھتی ہوئی شورش کی صورتحال کاجائزہ لینے کے بعد ضلعی محکمۂ پولیس نے صوبائی حکومت سے مزید اٹھارہ ہزار پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے بقول اس کے علاوہ پولیس کا حوصلہ بلندکرنے کے لیے اعلی حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ فوجی کارروائی میں شامل فوجی اور ایف سی کے نوجوانوں کی طرح پولیس کو بھی خصوصی طور پر الاؤنس دینے کا اعلان کرے۔ اس سلسلے میں صوبہ سرحد کے پولیس سربراہ ملک نوید سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سوات سمیت پورے صوبے میں پولیس کو مشکلات کا سامنا ہے تاہم اس سلسلے میں کئی ایک اصلاحات کی گئی ہیں جس سے صورتحال پر بہت جلد قابو پالیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران شورش زدہ صوبہ سرحد میں ایک سو پینسٹھ پولیس اہلکار دہشت گردی کے بھینٹ چڑھے ہیں۔ ان کے مطابق پچھلے سال باسٹھ اہلکار مارے گئے تھے جبکہ اس سال یہ تعداد پہلے دس مہینوں کے دوران ایک سو دو تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے اس سال خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو اس کا ایک اہم وجہ قرار دیا۔
ان کے بقول پولیس کو انسداد دہشت گردی کی تربیت دی جا رہی ہے اور ایلیٹ فورس کے دو ہزار جوان اس وقت ملک کے کئی حصوں میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انفراسٹرکچر کے سلسلے میں پولیس لائنز اور پولیس اسٹیشن تعمیر کیے جا رہے ہیں جبکہ ایک ٹریننگ سکول بھی بنایا جا رہا ہے جس کے لیے گیارہ سو تیرہ کینال اراضی خرید لی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت صوبے میں چالیس فیصد پولیس اسٹیشنوں اور اڑتالیس فیصد پولیس لائنز کی عمارات سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ ملک نوید کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پولیس اہلکاروں کا حوصلہ بلند کرنےکے لیے ان کی انشورنس کروا رہی ہے اور ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے رشتہ داروں کو پانچ لاکھ روپے دیے جائیں گے جبکہ ان کے قریبی رشتہ دار کو پویس میں بھرتی کیا جائے گا۔اس کے علاوہ پولیس اہلکاروں کو پلاٹس دیے جارہے ہیں اور اب تک ان میں چار سو ستر پلاٹس تقسیم کیے جاچکے ہیں۔ سوات میں پولیس اہلکارں کی نوکریاں چھوڑنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا انہوں کوئی واضح جواب تو نہیں دیا البتہ ان کا کہنا تھا کہ حکومت دیگر اضلاع سے پولیس اہلکاروں کو بھرتی کرنے کی پالیسی پر غور کر رہی ہے کیونکہ بقول ان کے مقامی اہلکاروں کو دباؤ کا سامنا ہے۔
ایک مقامی روزنامہ’ آزادی‘ کے مدیر ممتاز احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان اشتہاروں میں گزشتہ چند دنوں میں کافی تیزی آئی ہے اور اب تک انہوں نے بارہ اہلکاروں کے اشتہارت شائع کیے ہیں۔ان کے بقول ان افراد کا کہنا ہے کہ وہ اشتہارات طالبان کو بطور ثبوت پیش کریں گے تا کہ وہ موت سے محفوظ رہ سکیں۔ طالبان کے ترجمان مسلم خان نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے پولیس میں تعینات مقامی افراد کو ایک ماہ قبل اپنی نوکریاں چھوڑنے کا اعلان کیا تھا اور انہوں نے ایسا نہ کرنے والے دو اہلکاروں کو حال ہی میں سر کاٹ کر مار دیا ہے۔ ان کے بقول اب بھی تین پولیس اہلکار ان کی تحویل میں ہیں جن کے بارے میں بھی بہت جلد کوئی فیصلہ سنا دیا جاے گا۔ مسلم خان نے تقریباً گیارہ پولیس اہلکاروں کے نام پڑھ کر سنائے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے نوکریاں چھوڑنے کے بعد انہیں باقاعدہ مطلع بھی کردیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں سکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان جاری لڑائی کے دوران سکیورٹی فوسز کے درجنوں اہلکاروں نے کئی وجوہات کی بنیاد پر یا تو نوکریوں سے استعفی دیا ہے یا پھر اپنی ڈیوٹیوں سے مسلسل غیرحاضر ہیں۔ |
اسی بارے میں سوات: لڑکیوں کا سکول نذرِ آتش04 May, 2008 | پاکستان سوات میں ’عارضی جنگ بندی‘09 May, 2008 | پاکستان مالاکنڈ: شریعت کا نفاذ ایک ماہ میں13 May, 2008 | پاکستان سوات:اہلکار ہلاک، سکول نذرِ آتش21 May, 2008 | پاکستان سوات: ’معاہدے کی اہمیت نہیں‘22 May, 2008 | پاکستان ایک خاندان کے چھ افراد ہلاک25 May, 2008 | پاکستان سوات: عسکریت پسندگھر واپس26 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||