BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 November, 2008, 08:37 GMT 13:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اغواء کیے گئے ٹرک لوٹ لیے گئے

خیبر فوٹو
افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے لیے رسد لے جانیوالے ٹرکوں کی لوٹ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں مبینہ مسلح طالبان نےنیٹو فورسز کے لیے رسد لے جانے والے بارہ ٹرکوں کو لوٹ کر ایک پہاڑی سلسلے میں چھوڑ دیا ہے اور ان ٹرکوں میں بھیجی جانے والی دو بکتر بند ’ہم وی‘ فوجی گاڑیوں کو بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے۔

خیبر ایجنسی سے پیر کو اغواء کیے جانے والے ان ٹرکوں میں گاڑیاں، فوجی ساز و سامان اور خورد و نوش کی اشیاء تھیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق ان گاڑیوں کو خیبر ایجنسی میں چار مقامات سے اغواء کیا گیا ہے اور اس واقعے لگ بھگ ساٹھ مسلح افراد ملوث تھے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک تحصیلدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود کے علاقے وزیر ڈانڈ‘ سور قمر اور ٹیڈی بازار سے اغواء کیے گئے بارہ ٹرکوں میں سے دو امریکی فوجی گاڑیوں سمیت دیگر سامان لوٹ کر ٹرکوں کو ایک پہاڑی سلسلے میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بارہ ٹرکوں میں سے ایک ٹرک میں امریکی فوج کے لیے دو بکتر بند ’ہم وی‘ گاڑیاں تھیں اور گیارہ ٹرکوں میں گندم بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے ٹرکوں میں سوار اغواء ہونے والے چھبیس افراد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا البتہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عملے کے چھبیس افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ بارہ ٹرکوں میں سے ایک ٹرک میں دو امریکی فوجی گاڑیاں تھیں اور گیارہ ٹرکوں میں گندم بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے ٹرکوں میں سوار اغواء ہونے والے چھبیس افراد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا البتہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عملے کے چھبیس افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
ان واقعات کے بعد انتظامیہ نے مختلف علاقوں کی ناکہ بندی کر دی تھی لیکن اغواء کاروں کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ پولیٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اغواء کی جانے والی گاڑیوں میں خورد و نوش کی مختلف اشیاء سمیت دیگر ضروری سامان بھی تھا۔

ان کے مطابق اس واقعے کے بعد پولیٹیکل انتظامیہ نے خاصہ دار اور سکاؤٹس فورس کے دستوں کو مختلف علاقوں میں تعینات کر دیا تھا اور خیبر ایجنسی کے قبائلی عمائدین سے بھی رابطے قائم کیے جا رہے تھے۔

واضح رہے کہ خیبر ایجنسی افغانستان اور پاکستان کے درمیان نقل و حمل کا اہم راستہ ہے اور اس راستے سے افغانستان کو مختلف اشیاء ترسیل کی جاتی ہیں۔ افغانستان میں پاکستان کے سفیر طارق عزیزالدین کو بھی اسی راستے سے افغانستان جاتے ہوئے اغواء کیا گیا تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں نیٹو افواج کے لیے سامان لے جانے والے ٹرکوں کے خلاف کارروائی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ خیبر ایجنسی کے علاقے میں پہلے بھی نیٹو افواج کے لیے سامان لے جانے والے کئی ٹرکوں کو اغواء کر لیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ چند ماہ قبل نیٹو افواج کے لیے درآمد کردہ بکتر بندگاڑیاں ایک ٹرالر کے ذریعے افغانستان جانے کے لیے کراچی بندرگاہ کے قریب ماری پور ٹرک سٹینڈ پر تیار کھڑی تھیں اور چند نامعلوم افراد نے ٹرالر کو آگ لگا دی تھی جس کے باعث بکتر بند گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

افغان ملاپھر نائن الیون ہو گیا
پاک افغان تعلقات یونہی رہیں گے
عیدقبائلی علاقوں میں
طالبان کے کہنے پر منگل کو عید کی گئی
طالبان طالبان کا مطالبہ
’فوجی بریفنگ یک طرفہ، ہمیں بھی موقع دیا جائے‘
طالبان ’تصویر کادوسرا رخ ‘
طالبان کی پارلیمان کو بریفنگ کا حامی کون
پولیس اہلکار مستعفی
طالبان کا خوف، پولیس اہلکاروں کے استعفے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد