امریکی سمیت چار افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شہروں پشاور اور چار سدہ میں ایک خود کش کار بم حملے سمیت تشدد کے دو مختلف واقعات میں ایک امریکی اور تین فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں کی ترقی کے لیے کام کرنے والی امریکی تنظیم کے ایک سربراہ کو نامعلوم مسلح افراد نے ان کے ڈرائیور سمیت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ ایس پی کینٹ عبدالقادر نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ واقعہ بدھ کی صبح تقریباً نو بجے پشاور کے پوش علاقے یونیورسٹی ٹاؤن میں اس وقت پیش آیا ہے جب قبائلی علاقوں کی ترقی کے لیے کام کرنے والے ایک امریکی تنظیم کےسربراہ اپنی رہائش گاہ سے دفتر جارہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کردی۔ ان کے بقول امریکی شہری اور ان کا مقامی ڈرائیور موقع پر ہی ہلاک ہوگئے ہیں۔انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں کس نے اور کیسے نشانہ بنایا۔اس بارے میں پولیس آفسر کا کہنا تھا کہ وہ تحقیقات کررہے ہیں تاکہ واقعہ کی مزید تفصیلات سامنے آسکیں۔
امریکی شہری کا نام سٹیفن وانس بتایا جارہا ہے اور وہ امریکی یو ایس ایڈ کے تحت چلنے والے’فاٹا لائیولی ہڈ ڈویلپمنٹ پروگرام‘ میں’ لوئر ایریا‘ کے ڈائریکٹر تھے۔ لوئر ایریا میں جنوبی اور شمالی وزیرستان، کرم اور اورکزئی ایجنسی وغیرہ آتے ہیں۔ یہ واقعہ یونیورسٹی ٹاؤن میں واقع امریکن کلب کے گیٹ سےتقریباً دس قدم کے فاصلے پر سڑک پر پیش آیا ہے۔ یہاں پر کلوز سرکٹ کیمرے بھی نصب ہیں جبکہ ایک سکیورٹی گارڈ ہروقت موجود رہتا ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ پاکستان قبائلی علاقوں میں امریکی تنظیم یو ایس ایڈ نے اس سال کے اوائل میں’فاٹا لائیولی ہڈ ڈویلپمنٹ پروگرام‘ کے نام سے آئندہ پانچ سال تک بارہ ارب روپوں کے متعدد ترقیاتی منصوبے بنارکھے ہیں۔ یوایس ایڈ نے ان علاقوں میں منصوبوں پر عملدرآمد کرنے کے لیے امریکہ کی غیر سرکاری تنظیموں کو مختلف منصوے تقویض کیے ہیں۔ ان میں سڑکیں، سکول، صحت کے بنیادی مراکز، قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کو وظیفے، پیشہ ورانہ اداروں میں مختصر میعاد کےکورسز کرانا اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔ ترقیاتی کاموں کے حوالے سے قبائلی علاقوں کو لوئر اور اپر حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور مقتول سٹیفن ڈیونسی کا تعلق امریکہ کی غیر سرکاری تنظیم سی ایچ ایف سے بتایا جارہا ہے جو لوئر ایریا میں کام کرنے کی ذمہ دار ہے۔
یاد رہے کہ یہ حالیہ چند ماہ میں پشاور میں کسی امریکی شہری پر حملے کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل اگست میں یونیورسٹی ٹاؤن کے علاقے میں ہی نامعلوم مسلح افراد نے پشاور میں امریکی قونصل خانے کی پرنسپل سٹاف افسر لینسی ٹریسی کی گاڑی پر فائرنگ کی تھی تاہم اس حملے میں گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا تھا اور وہ محفوظ رہیں تھیں۔ دوسری طرف ایک اور واقعہ میں شمال مغربی علاقے چار سدہ میں ایک خود کش حملے میں کم از کم دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پشاور سے 25 کلومیٹر دور چارسدہ ڈسٹرکٹ کے شب قدر علاقے میں ایک خودکش بمبار نے دھماکہ خیز مواد سے بھری اپنی گاڑی سکیورٹی فورسز کے کیمپ کے گیٹ سے ٹکرا دی جسکے نتیجے میں دو اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ | اسی بارے میں امریکی سفارتکار کی گاڑی پر حملہ26 August, 2008 | پاکستان پشاور، افغان قونصل جنرل اغوا22 September, 2008 | پاکستان ’امریکی شہری‘ کا جسمانی ریمانڈ17 October, 2008 | پاکستان خیبر ایجنسی اعلٰی اہلکار اغوا21 October, 2008 | پاکستان افغان وزیر کے بھائی پشاور سے اغوا31 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||