’مزید گرفتاریاں ہوں گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں داخلہ اُمور کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر رحمان ملک نے کہا ہے کہ گوجرانوالہ میں ایک فارن کرنسی ایکسچینج کمپنی کے دفتر پر چھاپے کے دوران قبضے میں لیے گئے بیس کمپیوٹر میں سے ایک کا ریکارڈ ’ڈی کوڈ‘ کیا گیا ہے جس میں سے اب تک اُنتالیس ارب روپے غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجے جانے کا ریکارڈ ملا ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے مالیاتی سکینڈل میں جو لوگ ملوث ہیں ان کے نام سکینڈل کی تحقیقات مکمل ہونے پر منظر عام لائے جائیں گے۔ منگل کے روز سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ ملک سے ہنڈی کا کاروبار ختم کردیں گے اور اس کاروبار میں ملوث افراد کی گرفتاری کے بعد ملک میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت مستحکم ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہنڈی کے کاروبار میں ملوث سات فارن کرنسی ایکسچینج کمپنیوں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند روز میں مزید گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جن کمپنیوں کے پاس لائسنس ہے وہ اپنا کاروبار جاری رکھ سکتی ہیں۔ رحمان ملک نے کہا کہ ملک کے اندر ڈالر کی لین دین کی کوئی حد مقرر نہیں ہے لیکن بیرونِ ملک ڈالر کے حوالے سے ایک حد مقرر ہے اور جو افراد گرفتار کیے گئے ہیں انہوں نے اس قانونی حد کی خلاف ورزی کی تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار افراد پاکستان میں ایک متوازی بنکنگ کا نظام چلا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک سے ہنڈی کے کاروبار کو ختم کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے علم میں یہ بات اس وقت آئی جب لاہور سے بتیس ملین ڈالر بیرونِ ملک لے جائے گئے۔اس کے بعد پشاور سے چھتیس کروڑ اور کراچی سے اڑتالیس کروڑ روپے سمگل کرنے کی کوشش کو ناکام بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف یہ ایک منظم انداز میں سازش کی جا رہی تھی جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔ رحمان ملک نے مزید کہا کہ جو روپے بیرونِ ملک لے جائے گئے ہیں ان واقعات کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ سے رجوع کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ایف آئی اے نے ایک ویب سائٹ کا پتہ چلایا ہے جس سے کروڑوں ڈالروں کے بیرونِ ملک لیے جائے جانے کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔ ادھر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے مالیاتی سکینڈل میں جو لوگ ملوث ہیں ان کے نام سکینڈل کی تحقیقات مکمل ہونے پر منظر عام لائے جائیں گے۔لاہور سے ہمارے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق منگل کی شام لاہور پہنچنے پر ہوائی اڈے پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مالیاتی سکینڈل میں ملوث لوگوں کے نام اس لیے منظرعام پر نہیں آ سکے کیونکہ ابھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان دونوں باتوں کا جواب اکٹھا دیا جائے گا کہ اس سکینڈل میں کون ملوث ہے اور یہ کارروائی اس وقت کیوں نہیں کی گئی جب ڈالر بیرون ملک سمگل کیے جا رہے تھے۔ | اسی بارے میں کرنسی سمگلنگ کے ملزم ریمانڈ پر09 November, 2008 | پاکستان خانانی کے بعد کالیا بھی ریمانڈ پر11 November, 2008 | پاکستان کرنسی ملزم: ریمانڈ میں توسیع10 November, 2008 | پاکستان پاکستان: ڈالر لانے لیجانے کا کاروبار11 November, 2008 | پاکستان آئی ایم ایف قرضہ، ایک ’عارضی سہارا‘10 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||