BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 November, 2008, 15:12 GMT 20:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: ڈالر لانے لیجانے کا کاروبار

ڈالر
غیر قانونی ڈیلروں کا نظام زیادہ سہل اور پیچیدگیوں سے پاک ہے
سرفراز احمد (فرضی نام) آجکل خاصے پریشان ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ چھ ماہ قبل انہوں نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں واقع اپنا پلاٹ فروخت کر کے اس سے ملنے والی رقم سے ڈالر خریدے تھے جو انہوں نے اسلام آباد میں کرنسی کا کاروبار کرنے والے ایک دفتر کے ذریعے یورپ میں اپنے بھائی کو ارسال کر دئیے۔

اب انہیں معلوم ہوا ہے کہ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ’غیر قانونی‘ تھا۔

خانانی اینڈ کالیا ایکسچینج کمپنی کی طرح سرفراز احمد نے جس منی چینجر کے ذریعے رقم بیرون ملک بھجوائی تھی وہ لائسنس یافتہ کمپنی تھی جن کی پاکستان میں کل تعداد چونسٹھ ہے۔ غیر قانونی شاید ہزاروں ہیں۔

یہ قانونی اور غیر قانونی منی ڈیلر پاکستان میں ہر سال ساڑھے پانچ ارب ڈالر کا لین دین کرتے ہیں۔ اس میں بیشتر کاروبار قانون کے دائرے میں ہوتا ہے لیکن کچھ باہر بھی جسے ہنڈی یا حوالہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

ان ایکسچینج کمپنیوں (یا منی چینجر) کے کام کا طریقہ اتنا بھی پیچیدہ نہیں جتنا ایف آئی اے اور دیگر حکومتی اہلکار، بعض ماہرین کی نظر میں بنا کر پیش کر رہے ہیں۔

سائبر قوانین
 گزشتہ برس بننے والے سائبر قانون کے تحت یہ ای میل ان افراد کے خلاف ثبوت کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہیں۔ ایف آئی اے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک کی تحقیقات میں ان کمپنیوں کے ’منی لانڈرنگ‘ میں ملوث ہونے یا یہ رقوم غیر قانونی ذرائع یعنی سامان کی صورت میں اپنے ساتھ بیرون ملک لیجانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا
غیر قانونی ڈیلروں کا نظام زیادہ سہل اور پیچیدگیوں سے پاک ہے۔ جس نے رقم بھجوانی ہے وہ یہ روپے لے کر ’دوکان‘ پر آتا ہے۔ جسے رقم بھجوانی مقصود ہو اس کا پتہ درج کرواتا ہے۔ اگلے چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے میں یہ رقم ڈالروں کی شکل میں دنیا میں کہیں بھی مطلوبہ جگہ پہنچ جاتی ہے۔

اصل میں یہ ڈالر نہ ملک سے باہر جاتے ہیں اور نہ آتے ہیں۔ نہ ہی بنکاری نظام میں ان کا کوئی دخل ہوتا ہے۔ ان ڈیلروں کے ایجنٹس ہر اس ملک میں موجود ہوتے ہیں جہاں پاکستانی رہتے ہیں۔ بیشتر ممالک میں ایک ایک ایجنٹ کئی کئی پاکستانی کمپنیوں کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کا پاکستان میں موجود دفتر کے ساتھ حساب اس نوعیت کا ہوتا ہے کہ وہ جو ڈالر اسے کسی کو ادا کرنے کی ہدایت ملتی ہے، وہ ایک مخصوص کوڈ بتانے والے فرد کو اتنے ڈالر اپنے پاس سے ادا کرتا ہے۔

اس کے بدلے جب اسے پاکستان ڈالر بھجوانے ہوتے ہیں تو وہ رقم یہاں ادا کرنے کے بعد اس کے حساب سے منہا کر دی جاتی ہے۔ ان منی ڈیلروں کا سارا منافع روپے کو ڈالر میں اور ڈالر کو روپے میں تبدیل کرنے میں ہوتا ہے۔

لائسنس یافتہ ایکسچینج کمپنیوں کا کام بھی کم و بیش انہیں خطوط پر چلتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قانون کے تحت یہ کمپنیاں رقم کے اس کاروبار سے سٹیٹ بنک آف پاکستان کو مطلع کرنے کی پابند ہوتی ہیں۔ انہیں اس رقم کا دس فیصد گارنٹی کے طور پر سٹیٹ بنک کے پاس جمع بھی کروانا ہوتا ہے۔

چالیس ارب
 گزشتہ چھ ماہ کے دوران چالیس ارب روپے کے مساوی رقم اس کمپنی کے ذریعے بھیجی گئی لیکن اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ ایف آئی اے نے ثبوت کے طور پر وہ ای میل اس کمپنی کے گوجرنوالہ اور کراچی کے دفاتر میں موجود کمپیوٹروں سے حاصل کر لی ہیں جو بیرون ملک اس کمپنی کے ایجنٹوں کو ارسال کی گئیں
حکومت ایکسچینج کمپنیوں کی فراہم کردہ اطلاع کی بنیاد پر ان ڈالروں کو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ظاہر کر دیتی ہے۔

یہ قانونی طور پر لائسنس یافتہ کمپنیاں جو غیر قانونی کام کرتی ہیں وہ یہ کہ رقوم کے اس لین دین سے سٹیٹ بنک کو بے خبر رکھتی ہیں، جو ڈالر ملتے ہیں انہیں بنک میں جمع کروانے کے بجائے اپنے پاس رکھتی ہیں اور موقع ملتے ہیں انہیں غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک بھیج دیا جاتا ہے۔

خانانی اور کالیا پر یہی الزام لگایا جا رہا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران چالیس ارب روپے کے مساوی رقم اس کمپنی کے ذریعے بھیجی گئی لیکن اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ ایف آئی اے نے ثبوت کے طور پر وہ ای میل اس کمپنی کے گوجرنوالہ اور کراچی کے دفاتر میں موجود کمپیوٹروں سے حاصل کر لی ہیں جو بیرون ملک اس کمپنی کے ایجنٹوں کو ارسال کی گئیں۔

ان ای میلوں میں رقم بھیجنے اور وصول کرنے والے کے پتے اور وہ خفیہ کوڈ بھی موجود ہیں جن کے ذریعے یہ رقم ارسال کی گئیں۔

گزشتہ برس بننے والے سائبر قانون کے تحت یہ ای میل ان افراد کے خلاف ثبوت کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہیں۔ ایف آئی اے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک کی تحقیقات میں ان کمپنیوں کے ’منی لانڈرنگ‘ میں ملوث ہونے یا یہ رقوم غیر قانونی ذرائع یعنی سامان کی صورت میں اپنے ساتھ بیرون ملک لیجانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

پاکستانی قوانین کے مطابق ایک مسافر اپنے ہمراہ دس ہزار ڈالر سے زائد رقم ملک سے باہر نہیں لیجا سکتا۔

خانانی اینڈ کالیا اور زیرتفتیش بعض دیگر کمپنیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے اس طریقے سے لاکھوں ڈالر ملک سے باہر بھجوائے جو ملک میں ڈالر کی کمیابی کا باعث بنے ہیں۔ ان کے خلاف ثبوت ای میل اور سرفراز احمد جیسے افراد ہیں جنہوں نے یہ رقوم بھجوائیں۔

اور یہی سرفراز احمد کی پریشانی کی وجہ ہے۔ ایف آئی کے ایک اہلکار نے گواہ کے طور پر ان کا نام اپنے پاس تحریر کر لیا ہے۔

اسی بارے میں
کرنسی ملزم: ریمانڈ میں توسیع
10 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد