کرنسی ملزم: ریمانڈ میں توسیع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کی مقامی عدالت نے کرنسی کی سمگلنگ کے الزام میں ملوث جاوید خانانی کے ریمانڈ میں چار دنوں کی توسیع کردی ہے۔جاوید خانانی کا تعلق ایک فارن ایکسچینج کمپنی سے ہے۔ ادھر پاکستان کے مرکزی بینک نے تیس روز کے لیے فوری طور پر خانانی اینڈ کالیا ایکسچینج کمپنی کا لائسنس معطل کردیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعلامیے میں مذکورہ کمپنی پر قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ بینک کے مطابق خانانی اینڈ کالیا ایکسچینج کمپنی کے صدر دفتر، تمام برانچوں اور فرنچائزز میں کسی قسم کا کوئی بھی لین دین نہیں ہوگا۔ دوسری جانب کراچی کی مقامی عدالت سے ایف آئی اے حکام نے خانانی اینڈ کالیا ایکسچینج کمپنی کے ڈائریکٹر مناف کالیا کا لاہور منتقلی کے لیئے ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔ ایف آئی اے نے مناف کالیا کو سخت پولیس پہرے میں پیر کی صبح جوڈیشل میجسٹریٹ محمد عمر اعوان کی عدالت میں پیش کیا اور تین روز کا ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کیا۔ ایف آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے خلاف لاہور میں ایف آئی آر درج ہے جس میں ان سے تفتیش کرنی ہے۔ مناف کالیا کے وکیل رضا ہاشممی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کے کمر میں تکلیف رہتی ہے اس لیئے ان کا طبی معائنے کرایا جائے عدالت نے ان درخواست قبول کرتے ہوئے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ اگر ملزم کوئی شکایت کرے تو ان کا طبی معائنہ کرایا جائے۔ عدالت میں حاضری کے موقعے پر مناف کالیا نے صحافیوں کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا اور ہر سوال کے جواب میں نو کمنٹس کہتے رہے۔ یاد رہے کہ ملک بھر میں خانانی اینڈ کالیا کی چوبیس برانچیں اور نو فرنچائز ہیں، اور اوپن مارکیٹ میں زرمبادلہ کا چالیس فیصد کاروبار اسی کمپنی کے ذریعے ہوتا ہے۔ ایف آئی اے نے خانانی اینڈ کالیا ( کے اینڈ کے) انٹرنیشنل فارن کرنسی ایکسچینج کمپنی کے ڈائریکٹر جاوید خانانی کو سوموار کو دوبارہ ضلع کہچری لاہور میں سپیشل مجسریٹ کے سامنے پیش کیا اور تفتیش کے لیے ان کا سات دنوں کا ریمانڈ مانگا۔ سپیشل میجسریٹ فیصل جمیل نے جاوید حانانی کا سات کے بجائے چار روز کے لیے ریمانڈ دیتے ہوئے انہیں تفتیش کے لیے دوبارہ ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا۔ جاوید خانانی کو سنیچر کو گرفتار کیا گیا اور اتوار کو ہفتہ وار تعطیل کی وجہ سے انہیں ڈیوٹی مجسٹریٹ میاں جاوید اکرم کی عدالت میں پیش کرکے ان کا ایک دن ریمانڈ لیا گیا تھا۔ اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر اعظم جوئیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان افراد کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ اور الیکٹرانک آرڈینینس کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ملزمان کی فرنچائزڈ کمپنیاں ہنڈی کے کاروبار میں ملوث ہیں‘ اور ان کے بقول یہ جرم ناقابل ضمانت ہے۔ خیال رہے کہ ایف آئی اے کے اہلکاروں نےگوجرانوالہ میں فارن ایکسچینج کرنسی کے ایک آفس پر چھاپہ مارکر وہاں سے لاکھوں روپے کی مالیت کی غیرملکی کرنسی کے علاوہ کمپیوٹر اور دیگر دستاویز برآمد کر کے دو افراد کوگرفتار کرلیا۔ گرفتار ہونے والوں میں رُستم علی خان اور طارق محمود شامل ہیں۔ ان افراد کو ایف آئی اے کےصوبائی ہیڈ کوراٹر لاہور منتقل کر دیا گیا جہاں ان افراد کی نشاندہی پر جاوید خانانی کوگرفتار کیا گیا ہے جبکہ اُن کے ایک اور ساتھی مناف کالیا کو کراچی میں حراست میں لیا گیا ہے۔ کے اینڈ کے یعنی خانانی اینڈ کالیا انٹرنیشنل پاکستان میں فارن زرِ مبادلہ کا کاروبار کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے اور پاکستان میں فارن کرنسی ایکسچینج کے کاروبار پراس کمپنی کاچالیس فیصد کنٹرول ہے۔ | اسی بارے میں کرنسی سمگلنگ، چار افراد گرفتار08 November, 2008 | پاکستان کشمیر: مشترکہ کرنسی پر مِلا جُلا ردِ عمل18 April, 2008 | پاکستان افغانستان: اکیسں ٹن کرنسی سکے چوری 02 October, 2005 | پاکستان پاکستان: بیس روپے کے نوٹ کا اجراء05 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||