کرنسی سمگلنگ، چار افراد گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے غیرقانونی طور کرنسی بیرون ملک منتقل کرنے کے الزام میں ایک فارن ایکسچینج کمپنی کے چار افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے طارق پرویز نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے کہ کس طرح انہوں نے غیرملکی کرنسی بیرون ملک منتقل کی۔ ابھی تفتیش ابتدائی مراحل میں ہے تاہم اُن کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں مزید انکشافات کی توقع ہے۔ فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایف آئی اے کے اہلکاروں نے گوجرانوالہ میں مقدمہ درج کرنے کے بعد ایک منی چینجر کمپنی سے تعلق رکھنے والے چند افراد کو حراست میں لے لیا جن میں ملک کی بڑی منی ایکسچینچ کمپنی ’خانانی اینڈ کالیا‘ کے ڈائریکٹر مناف کالیا بھی شامل ہیں۔ ملک بوستان نے کہا کہ خانانی اینڈ کالیا نے گوجرانوالہ میں ’دنیا ایکسچینج کمپنی‘ کو فرنچائز کیا تھا اور ایف آئی اے کو کچھ شواہد ملے ہیں کہ انہوں نے بھاری مقدار میں غیرملکی کرنسی غیر قانونی طریقے سے ملک سے باہر بھجوائی ہے۔ اس معاملے میں براہِ راست کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی اے نے مناف کالیا اور دیگر تین افراد کو کراچی اور لاہور میں حراست میں لے لیا ہے۔ ملک بوستان نے بی بی سی کو بتایا کہ ایف آئی اے کی اس کارروائی کا منفی اثر ملک کے ایکسچینج ریٹ پر بھی پڑسکتا ہے جو ملک اور کسی کے بھی حق میں نہیں ہے۔ ملک بوستان نے کہا کہ فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان مشیرِداخلہ رحمان ملک سے پرزور احتجاج کرے گی۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ قومی احتساب بیورو کے اختیارات ایف آئی اے کو تفویض کرنے کے بعد ملک سے تسلسل کے ساتھ غیرملکی زرمبادلہ بیرون ملک منتقل ہونے کی وجہ سے حکومتی ہدایت پر ایف آئی اے کے کرائم ونگ نے اس کی تحقیقات شروع کردی۔
اس ضمن میں ایف آئی اے کے اہلکاروں نے گوجرانوالہ میں فارن ایکسچینج کرنسی کے ایک آفس پر چھاپہ مارکر وہاں سے لاکھوں روپے مالیت کی غیرملکی کرنسی کے علاوہ وہاں سے کمپیوٹر اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کرلیں اور دو افراد کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ہونے والوں میں رُستم علی خان اور طارق محمود شامل ہیں۔ ان افراد کو ایف آئی اے کےصوبائی ہیڈ کوراٹر لاہور منتقل کر دیا گیا جہاں پر ان افراد کی نشاندہی پر جاوید خانانی کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ اُن کے ایک اور ساتھی مناف کالیا کو کراچی میں حراست میں لیا گیا ہے۔ اس مقدے کی تحقیقات کرنے والے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر اعظم جوئیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان افراد کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ اور الیکٹرانک آرڈینینس کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کی فرنچائزڈ کمپنیاں ہنڈی کے کاروبار میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جرم ناقابل ضمانت ہے۔ تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ ملزمان کی فارن ایکسچینج کی کمپنی کو سٹیٹ بینک نے اے کیٹگری میں رکھا ہوا تھا جس کے تحت وہ دو کروڑ روپے سے زائد رقم بیرون ملک نہیں بھجوا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرملکی کرنسی بیرون ملک منتقل کی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے طارق پرویز نے کہا کہ قبضے میں لیے گئے کمپیوٹرز کو ایف آئی اے کی لیبارٹری میں بھجوا دیا گیا ہے جہاں پر ان میں موجود ڈیٹا کاپی کیا جائے گا۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حراست میں لیے گئے افراد غیرملکی کرنسی دیگر ممالک میں بھیجنے کےالزام میں ملوث پائے گئے تو سٹیٹ بینک اُن کا لائسنس منسوخ کر سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سکینڈل میں سرکاری افسران کے ملوث ہونےکو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایف ائی آے کرائم ونگ کے اہلکار ملک کے دوسرے شہروں میں بھی چھاپے مار رہے ہیں۔ ادھر ملک بوستان نے دعوٰی کیا کہ خانانی اینڈ کالیا کمپنی براہِ راست کرنسی کی سمگلنگ میں کسی طور بھی ملوث نہیں ہے اور ان کی ایسوسی ایشن کو ایف آئی اے کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ کسی کے ساتھ بھی زیادتی نہیں کی جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ حکومت سے بات کریں گے کیونکہ اس قسم کے کسی بھی معاملے میں ایف آئی اے کو براہِ راست کارروائی کے بجائے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو کارروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دو ہفتے پہلے ایف آئی اے کے اہلکاروں کے ساتھ فاریکس ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا اجلاس ہوا تھا اور کرنسی سمگلنگ روکنے کے لئے مشترکہ کوششوں کو سراہا گیا تھا لیکن یہ پہلی بار ہے کہ ایک باقاعدہ ایکسچینج کمپنی کے خلاف شکایت آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے افغان سرحد اور ائر پورٹس پر انٹرنیشنل ڈپارچر پر نظر رکھے اور کسی بھی کرنسی سمگلنگ کی کوشش کو وہاں ناکام بنائے کیونکہ ایف آئی اے کی جانب سے کیا گیا حالیہ اقدام منفی تاثر چھوڑے گا اور کہیں ایسا نہ ہو کہ غیرملکی کرنسی ملک میں لانا ہی جرم بن جائے۔ ملک بوستان نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے بین الاقوامی کرنسی کے مقابلے میں روپے کی قدر کمزور ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاریکس ایسوسی ایشن کا وفد مشیرِ داخلہ رحمان ملک سے ملاقات کرے گا اور اپنے تحفظات سے آگاہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ منی چینجرز حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں تاکہ روپے کی قدر مستحکم ہو کیونکہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت اور ہم دونوں نے ملک کی بہتری کے لیے کام کرنا ہے، نہ کہ ملک کے خلاف کام کرنا ہے‘۔ | اسی بارے میں بدعنوانی کا الزام: (ر) بریگیڈئرگرفتار 19 July, 2006 | پاکستان روپے کی قدر میں’ریکارڈ کمی‘08 July, 2008 | پاکستان روپیہ سستا، ڈالر مہنگا16 August, 2008 | پاکستان بیرون ملک مقدموں میں معافی نہیں01 November, 2007 | پاکستان نیب کے مقدمات کارروائی ملتوی04 September, 2008 | پاکستان بازار حصص، انجماد ختم کرنے کی کوششیں جاری14 October, 2008 | پاکستان کرپشن اور عدلیہ15 August, 2006 | پاکستان ’مشرف حکومت کرپٹ ہے‘20 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||