بازار حصص، انجماد ختم کرنے کی کوششیں جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سٹاک ایکسچینج میں کاروبار حصص گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے تقریباً منجمد ہے اور کاروبار کو بحال کرنے کے لیے کے ایس ای کے ممبران اور سکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے اہلکاروں کے درمیان چار دنوں سے مسلسل اجلاسوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم اب تک مثبت نتائج کا انتظار ہے۔ کراچی سٹاک مارکیٹ فروری میں پندرہ ہزار پوائنٹس سے زیادہ پر کاروبار کر رہی تھی لیکن اس کے بعد مسلسل مندی کا شکار رہی اور اگست تک یہ نو ہزار دو سو پوائنٹس تک گِر چکی تھی۔ اس مندی کے نتیجے میں چھوٹے سرمایہ کاروں کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا یہاں تک کہ کئی تو کنگال بلکہ قرضدار ہوگئے۔ نقصان اٹھانے والے چھوٹے سرمایہ کاروں کی جانب سے اس سال جولائی میں پرتشدد احتجاج بھی کیا گیا تھا۔ احتجاج کے باوجود سٹاک مارکیٹ میں مندی برقرار رہی اور اس مندی پر مصنوعی قابو پانے کے لئے ستائیس اگست کو کاروبار نو ہزار ایک سو چوالیس پوائنٹس پر منجمد کردیا گیا جو تاحال منجمد ہے۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف سمال اینڈ میڈیم انوسٹرز کے چیئرمین کوثر قائمخانی نے الزام عائد کیا ہے کہ چند بڑے سرمایہ کاروں کے سرمائے کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کو منجمد کیا گیا ہے۔ آئی جی آئی سکیوریٹیز کے سربراہ اظہر باٹلہ کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کو بند کرنے کی وجہ بازارِ حصص میں سرمائے کا فقدان ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ میں ادھار پر بھی کاروبار ہوتا ہے جو بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے حاصل کیا جاتا ہے اور چونکہ سرمائے کا فقدان ہے لہذٰا سرمایہ کاروں کا پیسہ ڈوبنے کے نتیجے میں دیگر مالیاتی اداروں کو بھی نقصان اٹھانا پڑے گا کیونکہ انہیں بھی ان کا سرمایہ واپس ملنا مشکل ہوجائے گا۔ کوثر قائمخانی نے کہا کہ ان کی ایسوسی ایشن نے اس سال مئی میں سٹاک مارکیٹ کے ممبران کو متنبہ کردیا تھا کہ حالات خراب ہو رہے ہیں اور اس سلسلے میں اقدامات کیے جائیں لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی اور کئی چھوٹے سرمایہ کاروں کو نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ رہی سہی کسر جولائی میں پوری ہوگئی جب چھوٹے سرمایہ کار دیوالیہ ہوگئے اور قرضوں میں جکڑ گئے۔ انہوں نے کہا کہ ’جب ہم نے آواز اٹھائی تھی وہ صحیح وقت تھا اور اسی وقت اقدامات کرلیے جاتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے مگر اس وقت ہم سے کہا گیا کہ کاروبار کو معطل نہیں کیا جاسکتا تاہم اب جب ان پر پڑی تو مارکیٹ کو منجمد کردیا گیا۔ یہ تو مکافاتِ عمل کا حصہ ہے اور اب ہم تو سب کچھ ہار کر صرف تماشائی ہیں۔‘ اظہر باٹلہ نے کہا کہ چھوٹے سرمایہ کار سٹاک مارکیٹ میں صرف بیس فیصد ہیں، جب یہ کاروبار میں سرمایہ لگاتے ہیں اور ان کا پیسہ دس گنا بڑھ جاتا ہے تو خاموش رہتے ہیں لیکن اگر مارکیٹ گِرتی ہے اور انہیں نقصان ہوتا ہے تو یہ احتجاج کرکے میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کی کوشش کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت ان کے مالی نقصان کا ازالہ کرے جو قطعی نامناسب بات ہے اور اس سے بین الاقوامی طور پر بہت برا تاثر جاتا ہے۔ کوثر قائمخانی کا کہنا تھا کہ اس وقت چھوٹے سرمایہ کاروں کا اعتماد مارکیٹ پر سے اٹھ چکا ہے اور وہ کاروبار میں حصہ نہیں لے رہے تو اب ان کے مزید نقصان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اب بڑے سرمایہ کار اپنے آپ کو بچانے کے لئے حکومت سے بیس ارب روپے سرمایہ کاری کرنے کے لئے دباؤ کیوں ڈال رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت وہ آواز اٹھا رہے ہیں لیکن اُن کی آواز میں چھوٹے سرمایہ کاروں کی آواز شامل نہیں ہے اور اسی لئے اُن کی آواز میں اثر نہیں ہے۔ ان کے بقول اب بڑے سرمایہ کاروں کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ جب تک وہ عام یا چھوٹے سرمایہ کاروں کو ساتھ لے کر نہیں چلیں گے اور شفاف قوانیں نہیں بنائے جائیں گے اس وقت تک مارکیٹ نہیں چل سکتی۔ سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق چھوٹے سرمایہ کار زیادہ تر بدلے کا کام کرتے ہیں یعنی ایک لاکھ روپے کے عوض مالیاتی اداروں سے دو لاکھ روپے تک ادھار حاصل کیا جاسکتا ہے اور تین لاکھ روپے سے کاروبار کیا جا سکتا ہے، منافع کی صورت میں اصل رقم اپنی جگہ اور منافع بھی آپ کا لیکن ایک لاکھ روپے نقصان کی صورت میں اصل رقم تو ڈوب گئی اور ادھار لی گئی رقم بھی ادا کرنا پڑے گی۔ | اسی بارے میں حصص:پہلے مندی پھر کچھ بہتری07 October, 2008 | آس پاس مالی بحران،مشترکہ اقدام کا فیصلہ04 October, 2008 | آس پاس اہم یورپی بینک دیوالیہ کے قریب05 October, 2008 | آس پاس ہائپو کو بچانے کے لیے پیکج تیار06 October, 2008 | آس پاس معاشی بحران، تیل کی قیمتوں میں کمی06 October, 2008 | آس پاس بینک دیوالیہ مگر سربراہ ’مالا مال‘07 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||