BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 November, 2007, 07:32 GMT 12:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیرون ملک مقدموں میں معافی نہیں

بینظیر بھٹو
بینظیر بھٹو فوجی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد پاکستان لوٹی ہیں
وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر طارق عظیم نے کہا ہے کہ مفاہمتی آرڈیننس کا اطلاق بینظیر بھٹو کے خلاف بیرون ملک مقدمات پر نہیں ہوگا۔

اسلام آباد میں مسلم لیگ ہاؤس میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ ایک فوجداری مقدمہ ہے جس میں بینظیر بھٹو کو 18 ماہ تک سزا ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر غیرملکی عدالتوں نے شواہد مانگے تو حکومت انہیں تمام شواہد فراہم کرے گی۔

طارق عظیم نے کہا کہ سوئس عدالت میں ایس جی ایس کوٹیکنا کیس میں بے نظیر بھٹو اور زرداری کے خلاف 72 ملین ڈالر کی کرپشن کے مقدمات زیر سماعت ہیں جبکہ سپین کی عدالت میں اقوام متحدہ کے عراق کےلیے تیل برائے فوڈ پروگرام میں 2 ملین ڈالر کا کیس زیر سماعت ہے اور اس کی تحقیقات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز سوئس عدالت کے جج ونسنٹ فورنیئر نے بینظیر اور آصف زرداری کے خلاف کیس اٹارنی جنرل کو بھیج دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے تحقیقات مکمل کرلی ہیں اور تین افراد کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان کا بیرون ملک مقدمات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس سلسلے میں متعلقہ ممالک حکومت پاکستان سے جو کاغذات چاہتے ہیں وہ فراہم کئے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے 18 اگست 2006ء میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی حکومت پارٹی نہیں بن سکتی لیکن جو آرڈر جاری کیا گیا ہے اس میں بینظیر کا یہ دعویٰ مسترد کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوئس عدالت کے مجسٹریٹ نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری وعدے کے باوجود پیش نہیں ہوئے اور وہ تاخیری حربے اپنا رہے ہیں جو انہیں قبول نہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس کا سوئٹزرلینڈ اور دیگر عدالتوں میں چلنے والے کیسوں سے کوئی تعلق نہیں اور مفاہمتی آرڈیننس کا ان پر اطلاق نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ سوئس عدالت جو بھی ریکارڈ مانگے گی ہم فراہم کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں طارق عظیم نے کہا کہ رحمان ملک کو ابھی تک سزا نہیں ہوئی اس لیے وہ ابھی تک ملزم نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم قومی مفاہمت چاہتے ہیں لیکن بینظیر بھٹو نے 16 اکتوبر کو وطن واپسی سے قبل صدر کو خط لکھ کر اس مفاہمت کو خراب کرنے میں پہل کی ہے۔

اسی بارے میں
بینظیر: سیاسی آغاز سے ڈیل تک
14 September, 2007 | پاکستان
مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ
02 October, 2007 | پاکستان
قومی مصالحتی آرڈیننس جاری
05 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد