BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 August, 2008, 13:18 GMT 18:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روپیہ سستا، ڈالر مہنگا

روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

پاکستان میں مہنگائی کے اضافے کے ساتھ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مسلسل تنزلی کا شکار ہے اور گزشتہ تین ماہ میں روپے کی قدر میں دس روپے تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سنیچر کو بھی ڈالر کے مقابلے میں ملکی کرنسی کی قدر اوپن مارکیٹ میں ساڑھے چھہتر روپے تک رہی۔

اسی طرح وفاقی ادارہ برائے شماریات (Federal Bureau of Statistics) کے مطابق پاکستان میں رواں ماہ میں مہنگائی کی شرح چوبیس فیصد ہے جبکہ اس سال جون میں یہ شرح سب سے زیادہ یعنی تیس فیصد رہی۔

ماہرین مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کی وجوہات سیاسی غیر یقینی کو قرار دیتے ہیں جس کی وجہ سے ملکی برآمدکنندگان بھی اپنے فروخت شدہ مال کی رقم پاکستانی بینکوں میں منتقل نہیں کرا رہے ہیں۔

جہاں تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا تعلق ہے تو معمولی کمی بیشی کے ساتھ گزشتہ تین دن سے ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں اوپن مارکیٹ ریٹ چھہتر روپے پچاس پیسے جبکہ انٹر بینک ریٹ پچھتر روپے سے کچھ زیادہ ہی ہے۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان روپے کی قدر میں کمی کی بینادی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر پرویزمشرف کے مواخذے کا معاملہ کاروبار کو متاثر کرنے میں انتہائی منفی کردار ادا کررہا ہے، اس کے علاوہ گزشتہ تین ماہ سے برآمد کنندگان نے بیس کروڑ ڈالر ملک سے باہر بینکوں میں روک رکھے ہیں جنہیں اب تک ملک کے بینکوں میں منتقل نہیں کیا گیا ہے، اور امریکی ڈالر بین لاقوامی منڈی میں مضبوط ہو رہا ہے، دوسری جانب پاکستان کا تجارتی خسارہ بھی تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے اور اس وقت بیس ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سرمایہ کار بھی اپنے سرمائے کا اخراج کررہے ہیں اور یہ تمام وجوہات مل کر پاکستانی کرنسی پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں جس سے امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

ملک بوستان کے بقول جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا اور کوئی واضح پالیسی نہیں آئے گی اور اس کے علاوہ تجارتی خسارہ کم ہوکر دس ارب ڈالر تک نہیں آئے گا جسے گزشتہ کچھ عرصے تک بیرونِ ملک سے آنے والی سرمایہ کاری سے پُر کیا جارہا تھا، اس وقت تک روپے کی قدر کو بہتر کرنا مشکل نظر آرہا ہے۔

پاکستان کے مرکزی بینک کے مطابق بینک کی گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر نے بھی تمام کمرشل بینکوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ برآمدات کی رقم جو غیر ملکی بینکوں میں ہے اسے ملک میں لانے کے لئے اپنی کاوشوں کو تیز کریں اور برآمد کنندگان کی اس بابت حوصلہ افزائی کریں۔

جہاں ایک جانب روپے کی قدر میں کمی آئی ہے وہیں دوسری جانب مہنگائی میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس کا مجموعی اثر عام صارفین پر پڑ رہا ہے جو روزبروز خوراک اور دیگر روزمرّہ اشیاء کی قیمتیں بڑھنے سے پریشان ہیں۔ وفاقی ادارہ برائے شماریات کے مطابق گزشتہ جون کے ماہ میں مہنگائی کی شرح تیس فیصد رہی جبکہ جولائی اور رواں ماہ میں یہ شرح چوبیس فیصد تک ہے۔

اقتصادی ماہر مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے بعد پاکستان میں بھی حکومت نے گزشتہ چار ماہ میں اکہتر فیصد اضافہ کیا ہے جس کے بعد سینتیس فیصد ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اِتنا اضافہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

مزمل اسلم کے بقول عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور غذائی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام آنے کے بعد اب ملک میں بھی قیمتوں کے بڑھنے کا امکان معدوم ہے بلکہ چند ماہ بعد ان کی قیمتوں میں قدرے کمی کی توقع کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کے مختلف اشارے ایسے مل رہے ہیں کہ اگلے چند ماہ تک مہنگائی کا اثر تو رہے گا لیکن امید ہے کہ جنوری کے بعد سے مہنگائی میں کچھ کمی آنا شروع ہوجائے گی۔

ماہرین کے مطابق صدر کے مواخذے کا معاملہ جلد از جلد حل ہونا چاہیے جس کے بعد ملک میں سیاسی استحکام کو یقینی بنانے کے ضرورت ہے تاکہ ملک معاشی ترقی کی جانب گامزن ہوسکے اور مہنگائی پر قابو پانے کے ساتھ روپے کی گرتی ہوئی قدر کو بھی سہارا دینے کے مثبت اقدامات کیے جاسکیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد