BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 June, 2008, 06:21 GMT 11:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قومی بجٹ 09-08 پیش کر دیا گیا

سید نوید قمر
وزیر خزانہ نے ایک روز پہلے اقتصادی سروے پیش کیا تھا
وفاقی وزیر خزانہ سید نوید قمر نے بدھ کی شام پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کا پہلا سالانہ میزانیہ (بجٹ) 09 - 2008 قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے۔

بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے سے پہلے کابینہ کے خصوصی اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر کے اہم نکات اور مجوزہ بجٹ دستاویز میں شامل ٹیکسوں اور دیگر اہم پالیسیوں کے بارے میں وزیراعظم اور کابینہ کو اعتماد میں لیا۔

کابینہ کی منظوری کے بعد مجوزہ بجٹ دستاویز حکمران اتحادی جماعتوں کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پیش کی گئیں اور مختصر بحث کے بعد وزیر خزانہ نے شام ساڑھے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر شروع کی جو آخری اطلاعات تک جاری تھی۔

اس سے پہلے بجٹ تقریر سات جون کو ہونا طے پائی تھی لیکن گزشتہ ماہ مسلم لیگ نون کے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے استعفے کے باعث اسے چند روز آگے بڑھا دیا گیا۔

نوید قمر سالانہ اقتصادی جائزے کے اجراء کے موقع پر بجٹ سے ایک روز پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یہ سال ملکی معیشت کے لیے اچھا نہیں رہا لہذا آئندہ برس کے لیے حکومت کو چند مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔

اس پس منظر میں حکومت کی جانب سے عوام کو مختلف مدوں، مثلاً تیل، بجلی، گیس اور خوراک پر دی جانے والی رعایت (سبسِڈی) کے اعداد و شمار خاصے اہمیت کے حامل ہوں گے کیونکہ حکومت نے عالمی مالیاتی اداروں کے باوجود ان شعبوں میں سبسِڈی دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ بھی عوام کا یہ بوجھ حکومت کے ذمہ لیتے رہیں گے۔

آئندہ مالی سال کے لیے ترقیاتی اخراجات کی حد تو پہلے ہی مقرر ہو چکی ہے لیکن حکومت کے لیے اس بار بجٹ کی مختلف مدوں میں رقوم کی تقسیم کے دوران ان اخراجات کو مزید کٹوتی سے روکنا بھی اہم چیلنج ہو گا۔

 اقتصادی ترقی کی شرح جو پانچ سال سات فیصد کی سطح پر رہنے کے بعد اس برس چھ فیصد سے بھی کم رہی، اسے اگلے برس ساڑھے چھ فیصد تک بڑھانے کا ہدف رکھ جانے کی توقع ہے۔

اس بار پہلی مرتبہ قومی اسمبلی میں دفاعی اخراجات کا خاکہ ایوان میں پیش کیا جائے گا اور اس پر بحث کا موقع بھی ارکان کو دستیاب ہو گا۔ اس سلسلے میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے دو روز قبل قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ وزارت دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان سے مشاورت کے بعددفاعی اخراجات کا ایک خاکہ تیار کر لیا گیا ہے جس کے تحت دفاعی بجٹ کی تفصیل قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔ ماہرین اس بجٹ کی تفصیل کا جائزہ لینے کے لیے بھی خاصے بے چین ہیں گو بعض کی رائے میں یہ محض ایک رسمی کارروائی ہی ہو گی۔

دو ہفتے قبل وزیراعظم کو پیش کیے گئے بجٹ اہداف کے مطابق اگلے مالی سال کے لیے بجٹ کا کل حجم دو ہزار دو سو پچاس ارب روپے سے زائد ہو گا جو پچھلے برس کی نسبت پندرہ فیصد زائد ہے۔

اقتصادی ترقی کی شرح جو پانچ سال تک سات فیصد کی سطح پر رہنے کے بعد اس برس چھ فیصد سے بھی کم رہی، اسے اگلے برس ساڑھے چھ فیصد تک بڑھانے کا ہدف رکھے جانے کی توقع ہے۔ اسی طرح زراعت، صنعت اور دیگر شعبوں کے لیے بھی حوصلہ افزا اہداف مقرر کیے جائیں گے لیکن وزیر خزانہ نوید قمر کے بقول انکی حکومت غیر حقیقت پسندانہ اہداف سے گریز کرے گی۔

وزیر اعظم نے حلف اٹھانے کے بعد اپنی پہلی باقاعدہ تقریر میں کم از کم اجرت کی حد چھ ہزار مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ آج اس اعلان کو بھی بجٹ میں شامل کیا جائے گا۔

عوام کیا چاہتے ہیں؟
بجٹ سے اسلام آباد کے شہریوں کی توقعات
بجٹبجٹ کیسے بنےگا؟
بجٹ سر پر ہے مگر وزیرِ خزانہ کوئی نہیں
طلبہتعلیم کیلیے مزید رقم
سیاسی جماعتوں کا بجٹ4 % تک بڑھانے کا وعدہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد