تنخواہوں میں اضافہ، سبسڈی کم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی وفاقی حکومت نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال کے لئے دوہزار ارب روپے سے زائد کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے جس میں خسارے کا تخمینہ پانچ سو بیاسی ارب روپے ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے علاوہ روزگار کے لئے نئی سکیم شروع کرنے اور انتہائی غریب افراد کی مالی امداد کا بھی اعلان کیا گیا ہے جبکہ سرکاری اخراجات میں کمی کے لئے خوراک، تیل اور دیگر مدوں میں دی گئی رعایت یا سبسڈی میں کمی کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں مالی سال دو ہزار آٹھ اور نو کے لئے سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نوید قمر نے کہا کہ مشکل وقت میں اتحادی حکومت بہترین بجٹ پیش کر رہی ہے جس کا ہدف غریب اور مستحک افراد ہوں گے۔ کوئٹہ سے نامہ نگار عزیز اللہ نے بتایا ہےکوئٹہ میں بیشتر لوگوں نے آئندہ سال کے بجٹ پر عدم دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ انھیں اچھائی کی کوئی توقع نہیں ہے۔ایک مقامی سیاسی کارکن کا کہنا تھا کہ انھیں اس لیے بجٹ میں دلچسپی نہیں ہے کہ انھیں معلوم ہے کہ عوام پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز پیش کی جا چکی ہے اور اگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہوگا بھی تو وہ آٹے میں نمک کے برابر ہوگی۔ نوید قمر نے بجٹ میں وفاقی سرکاری ملازمین کے لئے پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں اور پنشن میں بیس فیصد اصافے کی تجویز ہے اور یہ اضافہ مسلح افواج کے ملازمین پر بھی لاگو ہوگا۔ انہوں نے کم سے کم پنشن کی حد تین سو سے بڑھا کر دو ہزار روپے جبکہ گریڈ انیس تک کے ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں سو فیصد اضافہ کرنے کا اعلان کیا۔ وزیر خزانہ نے گریڈ ایک سے سولہ کے ملازمین کے میڈیکل الاؤنس میں پچھتر روپے کے اضافے کے ساتھ اسے پانچ سو روپے کرنے کی تجویز پیش کی۔
نوید قمر نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے اعلان کے مطابق گریڈ ایک سے پندرہ کے تمام کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا بھی اعلان کیا جسکا ایوان میں زبردست خیر مقدم کیا گیا۔ انہوں نے انتہائی غریب افراد کی مالی اعانت کے لئے ’بینظیر انکم سپورٹ پروگرام‘ شروع کرنے کا اعلان کیا جسکے تحت منتخب خاندانوں کو ایک ہزار روپے ماہانہ امداد دی جائے گی۔ اس مقصد کے لئے اس بجٹ میں چونتیس ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ پیپلز روزگار پروگرام شروع کرنے کی تجویز ہے جس کے تحت بیروزگار افراد کو کاروبار شروع کرنے کے لئے چھوٹے قرضے دئیے جائیں گے۔ ارکان اسمبلی کے ذریعے پیپلزپارٹی کے سابقہ دور میں شروع کئے گئے پیپلز ورکس پروگرام کو بھی دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بجٹ میں تیل، بجلی، کھادوں اور خوراک پر رعایت (سبسڈی) دینے کے لئے دو سو پچانوے ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی جو پچھلے برس اس مد میں رکھی گئی رقم سے ایک سو بارہ ارب روپے کم ہے۔ تیل پر سبسڈی کے لئے رواں برس کے دوران مختص کردہ ایک سو پچھتر ارب کے مقابلے میں ایک سو چالیس ارب رکھے گئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیل کے صارفین کو اس سال گزشتہ برس کی نسبت کم سرکاری رعایت دستیاب ہو گی۔ بجلی پر پچھلے برس کے ایک سو تیرہ ارب کے مقابلے میں چوہتر ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی، کے ای ایس سی کے لئے انیس کے مقابلے میں تیرہ ارب روپے، جبکہ یوٹیلیٹی سٹورز کے لئے طے شدہ سبسڈی ایک ارب روپے اضافے کے بعد دو ارب ستر کروڑ کر دی گئی ہے۔ عوام کو سبسڈی کے ذریعے دی جانے والی امداد میں اس کمی کا جواز پیش کرتے نوید قمر نے کہا کہ پاکستان جیسا غریب ملک ان سبسڈیز کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا اور ان سبسڈیوں سے وہ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو انکے حقدار نہیں ہوتے۔ زرعی شعبے کے لئے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے گندم کی امداد قیمت پر اسکی بوائی کے وقت دوبارہ نظرثانی کی تجویز پیش کی جبکہ ڈی اے پی کھاد کی امدادی قیمت چار سو ستر روپے فی بوری سے بڑھا کر ایک ہزار کرنے کا اعلان کیا۔ جبکہ صنعتی شعبے کے لئے درآمد ہونے والے خام مال اور مشینریوں پر ڈیوٹیز پر کمی کی تجایوئم پیش کی گئیں۔ نوید قمر نے غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے کے لئے سرکاری محمکوں کے تنـخواہوں کے بجٹ کو منجمد کرنے کا اعلان کیا اور ایوان کو بتایا کہ اب کوئی سرکاری محمکہ نئی گاڑی یا دیگر سامان تعیش نہیں خرید سکے گا۔ انہوں نے احتساب کے ادارے نیب کا بجٹ میں تیس فیصد کٹوتی کی بھی تجویز پیش کی۔ بجٹ میں تعلیم کے لئے پچھلے برس کی نسبت معمولی کمی کی گئی ہے اور اسکی موجودہ مالیت چوبیس ارب روپے تجویز کی گئی ہے جس میں سے سترہ ارب ثانوی تعلیم پر خرچ کئے جائیں گے۔ صحت کے لئے ساڑھے پانچ ارب اور سماجی شعبے کے لئےساڑھے چار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر کے دوران سپریم کورٹ میں ججوں کی آسامیوں کی تعداد سولہ سے بڑھا کر انتیس کرنے کی تجویز پیش کر کے حاضرین کو حیران کر دیا۔ قومی اسمبلی میں پیش کردہ بجٹ دستاویز کے مطابق اگلے مالی سال کے دوران حکومت کو ٹیکسوں کی مد میں بارہ سو اکاون ارب روپے کی آمدن متوقع ہے جو اس سال کے ہدف سے دو سو چھبیس ارب روپے زیادہ ہے۔ براہِ راست ٹیکسوں کی مد میں چار سو چھیانوے ارب روپے جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں ساڑھے سات سو ارب روپے اکٹھے کئے جائیں گے۔ مجموعی ٹیکس آمدن میں صوبائی محاصل کی مقدار پانچ اور اڑسٹھ ارب روپے ہوگی جو پچھلے سال سے بائیس فیصد زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ رواں برس کے دوران حکومت ایک ہزار پچیس ارب روپے کا ٹیکس ریونیو کا ہدف بھی حاصل نہیں کر پائی ہے۔ اگلے مالی سال میں حکومت جاری اخراجات کی مد میں ڈیڑھ فیصد کمی کر کے اسے چودہ سو ترانوے ارب روپے تک رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جبکہ وسائل پچھلے سال کے تیرہ سو چورانوے سے بڑھ کر اٹھارہ سو چھتیس ارب ہونے کا تخمینہ ہے۔ ترقیاتی اخراجات کی مد میں پچھلے سال کے پانچ سو تینتالیس ارب کے مقابلے میں ساڑھے پانچ سو ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ دفاع کی مد میں دو سو چھیانوے ارب روپے رکھے گئے ہیں جو پچھلے برس اس مد میں بجٹ میں مختص رقم سے اکیس ارب زائد ہیں۔ مقامی قرضوں کی ادائیگی کی مد میں چار سو انسٹھ ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ حکومت اس سال غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کی مد میں پانچ سو باون ارب روپے صرف کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیراتی کاموں پر ستائیں ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ |
اسی بارے میں ’معیشت کیلیے اچھا سال نہیں تھا‘10 June, 2008 | پاکستان ’دفاعی بجٹ کا خاکہ اسمبلی میں‘09 June, 2008 | پاکستان بجٹ کےموقع پر یوم سیاہ کا اعلان04 June, 2008 | پاکستان آئینی پیکج بجٹ کے بعد اسمبلی میں03 June, 2008 | پاکستان بجٹ سر پر مگر وزیرِ خزانہ کوئی نہیں14 May, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||