BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریمانڈ میں توسیع، لائسنس معطل

مناف کالیا
عدالت میں حاضری کے موقعے پر مناف کالیا نے صحافیوں کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا
لاہور کی مقامی عدالت نے کرنسی کی سمگلنگ کے الزام میں ملوث جاوید خانانی کے ریمانڈ میں چار دنوں کی توسیع کردی ہے جبکہ پاکستان کے مرکزی بینک نے تیس روز کے لیے فوری طور پر خانانی اینڈ کالیا ایکسچینج کمپنی کا لائسنس معطل کردیا ہے۔

سٹیٹ بینک کے اعلامیے میں مذکورہ کمپنی پر قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

بینک کے مطابق خانانی اینڈ کالیا ایکسچینج کمپنی کے صدر دفتر، تمام برانچوں اور فرنچائزز میں کسی قسم کا کوئی بھی لین دین نہیں ہوگا۔

غیرقانونی طور پر زرِ مبادلہ بیرونِ ملک منتقل کرنے کے الزام میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ( یف آئی اے) نے ایک فارن ایکسچینج کمپنی کے چار افراد کو حراست میں لیا تھا جن میں جاوید خانانی کو لاہور جبکہ مناف کالیا کو کراچی سےگرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب کراچی کی مقامی عدالت سے ایف آئی اے حکام نے خانانی اینڈ کالیا ایکسچینج کمپنی کے ڈائریکٹر مناف کالیا کا لاہور منتقلی کے لیے ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔

ایف آئی اے نے مناف کالیا کو سخت پولیس پہرے میں پیر کی صبح جوڈیشل میجسٹریٹ محمد عمر اعوان کی عدالت میں پیش کیا اور تین روز کا ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کیا۔

ایف آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے خلاف لاہور میں ایف آئی آر درج ہے جس میں ان سے تفتیش کرنی ہے۔

مناف کالیا کے وکیل رضا ہاشمی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کے کمر میں تکلیف رہتی ہے اس لیے ان کا طبی معائنہ کرایا جائے۔ عدالت نے ان درخواست قبول کرتے ہوئے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ اگر ملزم کوئی شکایت کرے تو ان کا طبی معائنہ کرایا جائے۔

عدالت میں حاضری کے موقعے پر مناف کالیا نے صحافیوں کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا اور ہر سوال کے جواب میں نو کمنٹس کہتے رہے۔

دریں اثناء کرنسی ڈیلرز کی تنظیم پاکستان فاریکس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل طاہر جمالی کا کہنا ہے کہ جب اتنا بڑا قدم اٹھایا جائے تو غیر یقینی تو یقیناً جنم لے گی جس میں تھوڑی بہت زیادتی بھی ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہا ’یہ سخت قدم ہے۔ جب ملک بالکل بھوکا ننگا ہوگیا تھا اور غیر ملکی ذخائر میں چند ملین ڈالر رہ گئے تھے تو یہ ہی لوگ کام آئے تھے۔ اس طرح ٹی وی پر انہیں ہتھکڑیاں لگا کر دکھانا کوئی مثبت نشانی نہیں ہے۔ اس سے مارکیٹ میں خوف و ہراس پھیلے گا۔ لیکوئیڈٹی تو پانی کی طرح ہے جس کو جہاں سے راستہ ملے گا وہاں نکل پڑے گی۔‘

ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا اس کارروائی کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ کچھ حد تک یہ عنصر بھی شامل ہے۔

سخت قدم
 ’یہ سخت قدم ہے۔ جب ملک بالکل بھوکا ننگا ہوگیا تھا اور غیر ملکی ذخائر میں چند ملین ڈالر رہ گئے تھے تو یہ ہی لوگ کام آئے تھے۔ اس طرح ٹی وی پر انہیں ہتھکڑیاں لگا کر دکھانا کوئی مثبت نشانی نہیں ہے۔ اس سے مارکیٹ میں خوف و ہراس پھیلے گا۔ لیکوئیڈٹی تو پانی کی طرح ہے جس کو جہاں سے راستہ ملے گا وہاں نکل پڑے گی۔
طاہر جمالی

طاہر جمالی کے مطابق انیس سو اٹھانوے اور ننانوے میں جب ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگی تھیں اور ملکی ذخائر صرف ساڑہ چارسو ملین ڈالر تھے، منی چینجرز نے حکومت کو پیشکش کی تھی کہ وہ تین سو ملین ڈالر ماہانہ دیں گے۔

یاد رہے کہ ملک بھر میں خانانی اینڈ کالیا کی چوبیس برانچیں اور نو فرنچائز ہیں، اور اوپن مارکیٹ میں زرمبادلہ کا چالیس فیصد کاروبار اسی کمپنی کے ذریعے ہوتا ہے۔

ایف آئی اے نے خانانی اینڈ کالیا ( کے اینڈ کے) انٹرنیشنل فارن کرنسی ایکسچینج کمپنی کے ڈائریکٹر جاوید خانانی کو سوموار کو دوبارہ ضلع کہچری لاہور میں سپیشل مجسریٹ کے سامنے پیش کیا اور تفتیش کے لیے ان کا سات دنوں کا ریمانڈ مانگا۔

سپیشل میجسریٹ فیصل جمیل نے جاوید حانانی کا سات کے بجائے چار روز کے لیے ریمانڈ دیتے ہوئے انہیں تفتیش کے لیے دوبارہ ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا۔

جاوید خانانی کو سنیچر کو گرفتار کیا گیا اور اتوار کو ہفتہ وار تعطیل کی وجہ سے انہیں ڈیوٹی مجسٹریٹ میاں جاوید اکرم کی عدالت میں پیش کرکے ان کا ایک دن ریمانڈ لیا گیا تھا۔

اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر اعظم جوئیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان افراد کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ اور الیکٹرانک آرڈینینس کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ملزمان کی فرنچائزڈ کمپنیاں ہنڈی کے کاروبار میں ملوث ہیں‘ اور ان کے بقول یہ جرم ناقابل ضمانت ہے۔

خیال رہے کہ ایف آئی اے کے اہلکاروں نےگوجرانوالہ میں فارن ایکسچینج کرنسی کے ایک آفس پر چھاپہ مارکر وہاں سے لاکھوں روپے کی مالیت کی غیرملکی کرنسی کے علاوہ کمپیوٹر اور دیگر دستاویز برآمد کر کے دو افراد کوگرفتار کرلیا۔

گرفتار ہونے والوں میں رُستم علی خان اور طارق محمود شامل ہیں۔ ان افراد کو ایف آئی اے کےصوبائی ہیڈ کوراٹر لاہور منتقل کر دیا گیا جہاں ان افراد کی نشاندہی پر جاوید خانانی کوگرفتار کیا گیا ہے جبکہ اُن کے ایک اور ساتھی مناف کالیا کو کراچی میں حراست میں لیا گیا ہے۔

کے اینڈ کے یعنی خانانی اینڈ کالیا انٹرنیشنل پاکستان میں فارن زرِ مبادلہ کا کاروبار کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے اور پاکستان میں فارن کرنسی ایکسچینج کے کاروبار پراس کمپنی کاچالیس فیصد کنٹرول ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد