آئی ایم ایف قرضہ، ایک ’عارضی سہارا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جاری مالی بحران کا حل صرف عالمی مالیاتی ادارے سے قرضہ لینا نہیں بلکہ اس کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس کے لیے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا جانا چاہیے۔ سوموار کو اسلام آباد میں ایک غیر سرکاری ادارے ’ایس ڈی پی آئی‘ کے زیرِ اہتمام ہونے والے سیمینار میں شریک اقتصادی ماہرین نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس موجودہ صورتحال میں عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف) سے قرض لینے کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس سے ملکی معیشت کو عارضی سہارا ملے گا اور ملک کے موجودہ معاشی نظام میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت جیسے مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے’ایس ڈی پی آئی‘ کے ڈائریکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے کے عمل کو شفاف بنائے اور اس حوالے سے مالیاتی ادارے کی شرائط کے بارے میں عوام کا آگاہ کیا جائے کیونکہ قرض حاصل کرنے کے بعد صرف ایسے شعبوں پر مزید ٹیکس لگائے جائیں گے جس سے عام آدمی براہ راست متاثر ہوتا ہے جبکہ بڑے سرمایہ دار ، جاگیردار اور سٹاک ایکسچینج مافیا پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلائے جس میں حکومت بتائے کہ کن شرائط پر آئی ایم ایف سے قرض حاصل کرنے کےلیے بات چیت ہو رہی ہے اور آئی ایم ایف کی شرائط سے غریب عوام کو متاثر ہونے سے بچانے کےلیے حکمت عملی بنائی جائے ۔ اس کے ساتھ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں معاشی بحران کے دیر پا اور ٹھوس حل کے لیے ایک واضع قومی پالیسی تشکیل دی جائے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر قیوم سلہری نے کہا کہ پاکستان کو فرینڈز آف پاکستان سے کو قرضہ ملنا ناممکن ہے کیونکہ جن ممالک سے پاکستان قرض مانگ رہا ہے وہ آئی ایم ایف کے رکن ہیں اور جب تک آئی ایم ایف سے ان کو اجازت(لیٹر آف کمفٹ) نہیں ملے گی وہ قرض نہیں دے سکتے ہیں ۔ سیمینار میں شریک ڈاکٹر پرویز طاہر نے کہا کہ معیشت کا مسئلہ حل کیے بغیر ملک کو درپیش دیگر مسائل کو حل نہیں کیا جا سکتا اور اب موثر فیصلے کرنے کا وقت ہے جس کے تحت حکومت کو اپنے اخراجات میں نمایاں کمی کرنا ہوگی اور اس کے علاو دفاع سمیت دیگر نظر انداز شعبوں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانا ہوگا۔ واضع رہےکہ پاکستان اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہے جس کے لیے چین اور سعودی عرب جیسے دوست ممالک سے مالی امداد کے حصول کے لیے ہونے والی بات چیت میں کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی ہے ۔جس کے بعد پاکستان کو اب عالمی مالیاتی ادارے سے سخت شرائط پر قرضہ حاصل کرنا پڑے گا۔ اس حوالے حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط کو وفاقی کابینہ میں زیرِ بحث لانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ | اسی بارے میں آئی ایم ایف، خصوص اجلاس10 November, 2008 | پاکستان پاکستان:قرضوں کی وصولی کےگائڈلائن04 November, 2008 | پاکستان چینی امدادی پیکج، بازار پر مثبت اثر10 November, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||