آئی ایم ایف، خصوص اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے قرض فراہم کرنے کے لئے پیش کردہ شرائط کو وفاقی کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس میں زیر بحث لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ کے اس خصوصی اجلاس میں ملکی معیشت کی عمومی صورتحال پر بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس بات کا فیصلہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور انکے مشیر خزانہ شوکت ترین کے درمیان ایک ملاقات میں کیا گیا۔ ملاقات کے بعد جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق مشیر خزانہ نے وزیراعظم کو آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ پاکستانی وزارت خزانہ کے افسران گزشتہ ایک ماہ سے آئی ایم ایف سے رابطے میں ہیں اور ان کے ساتھ پاکستان کو درپیش معاشی بحران اور ان کے ممکنہ حل کے لئے دستیاب مختلف تجاویز پر تبالہ خیال کیا جا رہا ہے۔ دبئی میں ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستان نے ابھی تک قرض کے حصول کے لئے باقاعدہ درخواست جمع نہیں کروائی ہے تاہم اس آپشن کو استعمال کرنے کی صورت میں آئی ایم ایف کی جانب سے ممکنہ شرائط غیر رسمی طور پر حکومت پاکستان کےحوالے کی جا چکی ہیں۔ وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں مشیر خزانہ ان ممکنہ شرائط سے ارکان کو آگاہ کریں گے۔ مشیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ عام تاثر کے برعکس آئی ایم ایف کی شرائط غیرمعمولی نہیں ہیں۔ انہوں نے اس بارے میں تفصیل بتانے سے گریز کیا۔ تاہم سابق وزیر خزانہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان کو جو معاشی چیلنجز درپیش ہیں ان سے نمٹنے کے لئے آئی ایم ایف کا ہنگامی اصلاحاتی پروگرام ہی دستیاب ہو گا جو خاصی کڑی شرائط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان نے آخری مرتبہ جب آئی ایم ایف سے گیارہ برس قبل قرض لیا تھا تو سرتاج عزیز اس وقت وزیرخزانہ تھے۔ سرتاج عزیز کے علاوہ بعض دیگر معاشی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی کوئی خفیہ شرائط نہیں ہوتیں بلکہ ہر پروگرام کے ساتھ شرائط کا ایک مجموعہ ہوتا ہے جسے قرض لینے والے ملک نے اپنے مقامی حالات کے تناظر میں لاگو کرنا ہوتا ہے۔ ان شرائط میں انتظامی اور ترقیاتی اخراجات میں کمی کے ذریعے مالیاتی خسارے میں کمی کا فلسفہ پیش کیا جاتا ہے۔ سرتاج عزیز کے مطابق اس نوعیت کے سخت مالیاتی نظم پر عمل کرنے سے ملکی معیشت عموماً گھٹن کا شکار ہو جاتی ہے جو سیاسی طور پر ناپسندیدہ صورتحال ہوتی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتیں عموماً ان شرائط کو پورا کرنے کے لئے عوام کو دی جانے والی مالی رعایتیں یا سبسڈیز کم کر دیتے ہیں۔ لیکن یہ اس بار پاکستان میں نہیں ہو سکے گا کیونکہ گزشتہ ایک برس میں پاکستان صارفین کو گیس، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی مد میں ملنے والی اربوں روپے کی سبسڈیز پہلے ہی ختم کی جا چکی ہیں۔ آئی ایم کی شرائط کے علاوہ شوکت ترین ملکی معیشت کی بہتری کے لئے اس نو نکاتی پروگرام کو بھی کابینہ کے اس خصوصی اجلاس کے سامنے پیش کریں گے جو آنے والے دنوں میں حکومت کی معاشی پالیسیوں کی بنیاد بنے گا۔ معاشی معاملات پر کابینہ کے اس خصوصی اجلاس کی تاریخ کا تو تعین نہیں کیا گیا لیکن حکومت کو آئندہ چند روز میں آئی ایم ایف سے قرض لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کرنا ہے کیونکہ پاکستان کو دسمبر کے مہینے میں غیر ملکی قرض خواہوں کو چار ارب ڈالر ادا کرنے ہیں۔ |
اسی بارے میں کیش ریزرو 6 فیصد کردی گئی17 October, 2008 | پاکستان کے ایس ای: حکومتی یقین دہانی15 October, 2008 | پاکستان زرِمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی25 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||