پاکستان:قرضوں کی وصولی کےگائڈلائن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے مرکزی بینک نے قمقروضوں اور نادہندگان کی مشکلات دور کرنے کے لیے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ان کے واجبات کی وصولی کے لیے رہنماء اصول جاری کیے ہیں۔ منگل کو جاری کیے گئے ان اصولوں کے ساتھ سٹیٹ بینک نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان اصولوں پر سختی سے کاربند رہیں ورنہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ان گائیڈ لائنز کے اجرا سے کنزیومر فائنانسنگ کے واجبات کی شفاف وصولی کے سلسلے میں بینکوں/ترقیاتی مالیاتی اداروں کے لیے کم سے کم سٹینڈرڈز کا تعین ہوگیا ہے۔ ان گائیڈ لائنز کا اطلاق کریڈٹ کارڈز، ہاؤسنگ لونز، آٹو اور پرسنل لونز وغیرہ سمیت کنز یومر فائنانسنگ کی مختلف سہولتوں پر ہوگا۔ تمام بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کو جاری کردہ ایک سرکولر میں سٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ اگر کوئی بینک یا ترقیاتی مالیاتی ادارہ پہلے ہی واجبات کی وصولی کے ضمن میں اپنا ضابطہ اخلاق مرتب کرچکا ہے تو وہ اس میں فیئر ڈیٹ کلیکشن گائیڈلائنز کے مطابق ترمیم کرے گا۔ مرکزی بینک نے بینکوں اور مالیاتی اداروں سے کہا ہے کہ وہ اپنے صارفین یا مقروضوں سے واجبات کی وصولی کے ضمن میں کارروائی شروع کرنے سے قبل اس امر کو یقینی بنائیں کہ وہ متعلقہ صارفکو اس پر واجب الادا ادائیگیوں سے متعلق مکمل معلومات فراہم کریں۔ بینک قانونی طریقے سےصارف کی رہائش گاہ، دفتر، یا کاروبار کے مقام پر جانے سے قبل متعلقہ صارف یا قرضدار کو واجب الادا رقم کی ادائیگی کے ضمن میں مراسلے یا ایس ایم ایس کے ذریعے 14 دن کا نوٹس دیا جائے گا۔ جب کسی بینک/ مالیاتی ادارے کا عملہ ادائیگی وصول کرے تو اس کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ وہ صارف کو پیشگی نوٹس دے اور اگر ایسا صارف کی درخواست پر کیا جائے تو اس کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے۔ اسی طرح بینک/ ترقیاتی مالیاتی ادارے واجبات کی وصولی کی اپنی کوششوں کے ضمن میں اس امر کو یقینی بنائیں کہ صارف یا مقروض سے نامناسب وقت پر رابطہ نہ کیا جائے، بینک کا نام اور فون کال کا مقصد مکمل طور پر ظاہر کیے جائیں، اس نوع کے رابطے میں صرف قانونی اور قابل قبول کاروباری زبان اور پیشہ ورانہ رویہ اختیار کیا جائے۔ واجبات کی وصولیوں کے ضمن میں فون کالز کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے۔ مرکزی بینک نے مزید ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ صارفین یا قرضداروں سے ان کی جانب سے دیے گئے پتوں یا ٹیلیفون نمبرز پر رابطہ قائم کیا جائے اور اگر ان سے رابطہ نہ ہوسکے تو واجبات کی وصولی کے ضمن میں کوششوں کے ذریعے حاصل کیے گئے متبادل پتے یا فون نمبر پر رابطہ کیا جائے، وِزٹ رپورٹس کا ریکارڈ ہارڈ کاپی یا الیکٹرانک کلیکشن سسٹمز پر کم از کم چھ ماہ تک رکھا جائے، قرضوں کی وصولی پر مامور عملہ ان کے اہل خانہ کو ہراساں نہیں کرے، لیکن اگر مقروض کی جانب سے پہلی عدم ادائیگی کے بعد اس سے 30 روز تک رابطہ نہ ہوسکے تو متعلقہ قرضداروں کے اہل خانہ یا دوستوں یا تیسرے فریق سے اس کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو رہنما اصول متعارف کراتے ہوئے مرکزی بینک نے کہا ہے کہ صارفین یا قرض لینے والوں کی جانب سے معاہدے کی کسی خلاف ورزی یا نادہندگی کی صورت میں بینک یا مالیاتی ادارے لِیز پر دی گئی گاڑی واپس اپنے قبضے میں لینے سے قبل 14 روز کا تحریری نوٹس دیں گے اور صارفین کو گاڑی سے قیمتی اشیاء نکالنے دیں۔ بینکوں یا ترقیاتی مالیاتی اداروں کو مندرجہ ذیل امور کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے کہ واجبات کی وصولی پر مامور عملے کے لیے ایک قانونی ضابطہ اخلاق مرتب کیا جائے، واجبات کی وصولیوں پر مامور عملے کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے ایک واضح طریقہ کار متعارف کرایا جائے، واجبات کی وصولیوں کے طریقوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جاتا رہے تاکہ ان میں قانون، مارکیٹ کے تقاضوں اور پیش رفت کے مطابق مزید بہتری لائی جاسکے، واجبات کی وصولی کے لیے مناسب تعلیم یافتہ عملہ مقرر کیا جائے اور اسے ضروری تربیت دی جائے، اور واجبات کی وصولی پر مامور عملے یا ایجنسیوں کی سرگرمیوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے۔ مرکزی بینک کے مطابق فیئر ڈیٹ کلیکشن گائیڈلائنزمتعلقہ قوانین یا قواعد و ضوابط کے علاوہ ہیں۔ سٹیٹ بینک معائنے کے دوران ان گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کی جانچ پڑتال کرے گا اور ان پر عملدرآمد نہ کرنے والے بینک/ ترقیاتی مالیاتی ادارے کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ |
اسی بارے میں ’خودکشی بینک کے رویے کے باعث‘29 April, 2008 | پاکستان ضوابط کا اعلان، روپے میں بہتری09 July, 2008 | پاکستان پاکستان، بینک کی شرح سود سب سے زیادہ25 July, 2008 | پاکستان ’ملک کا بینکاری نظام محفوظ‘22 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||