BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 October, 2008, 10:44 GMT 15:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ملک کا بینکاری نظام محفوظ‘

ڈاکٹر شمشاد اختر
ڈاکٹر شمشاداختر نے کہا کہ سب پرائم مارکیٹیں سے پاکستان کی فائنانشل مارکیٹ براہ راست متاثر نہیں ہوئی
پاکستان کے مرکزی بینک نے کہا ہے کہ ملک کا بینکاری نظام حالیہ عالمی مالیاتی بحران کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رہا ہے۔

یہ بات گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر شمشاداختر نے کراچی کے ایک ہوٹل میں دی ایشین بینکر ڈائیلاگ میں’ہمارے پسندیدہ بینک اور پاکستانی بینکوں پر عالمی مالیاتی بحران کے اثرات‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔

تاہم گورنر سٹیٹ بینک نے کہا ’میرے خیال میں پاکستان کی معیشت اب تک زیادہ تر عالمی حالات کے بالواسطہ اثرات سے متاثر ہوئی ہے کیونکہ یہ حالات اشیاء کی عالمی قیمتوں میں اضافے کا سبب ہیں۔‘

ان کے بقول شاید پاکستان کی معیشت اشیاءکی عالمی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے کیونکہ یہ مجموعی معیشت کی بنیاد کو ہلادینے کا ایک بڑا سبب ہے۔

صورتحال کی وضاحت کرنے کے لیے انہوں نے ایک مثال بیان کرتے ہوئے کہا کہ مالی سال دوہزار آٹھ میں ایکسٹرنل کرنٹ اکاؤنٹ کا تقریباً 80 فیصد خسارہ تیل کے درآمدی بل کے مساوی ہے جو مالی سال دوہزار آٹھ میں گیارہ ارب ڈالر سے زیادہ ہوگیا جب کہ چند سال قبل تک یہ تین ارب ڈالر سے بھی کم تھا۔

ڈاکٹر شمشاداختر نے کہا کہ سب پرائم مارکیٹیں یا ان سے منسلک دیگر اثرات سے پاکستان کی فائنانشل مارکیٹ براہ راست متاثر نہیں ہوئی ہیں اور جولائی 2007 سے ستمبر2008 کی مدت کے دوران ملک کے بینکاری نظام کو مالی بحران کے کسی مسئلے کاسامنا نہیں کرنا پڑا۔

سب پرائم مارکیٹیں یا ان سے منسلک دیگر اثرات سے پاکستان کی فائنانشل مارکیٹیں براہ راست متاثر نہیں ہوئی ہیں اور جولائی 2007 سے ستمبر2008 کی مدت کے دوران ملک کے بینکاری نظام کو مالی بحران کے کسی مسئلے کاسامنا نہیں کرنا پڑا
گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان

انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی بینک نے جولائی 2008 میں مالیاتی شعبے میں دوررس اصلاحات شروع کی ہیں تاکہ نئے چیلنجوں کامقابلہ کرنے کے لیے ایک مستحکم مالیاتی نظام کی بنیاد رکھی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے بینکاری نظام کی بیلنس شیٹ کی اساس (4 اکتوبر2008 کو) اکاون کھرب روپے ہے اور بینکاری نظام کے قرضے اور ڈپازٹس بالترتیب اٹھائیس کھرب روپے اور اڑتیس کھرب روپے کے لگ بھگ ہیں۔

پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (PBA) کے توسط سے سٹیٹ بینک نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سسٹم میں لیکویڈٹی میں احتیاط سے شریک ہوں اوراس امر کو یقینی بنائیں کہ کال ریٹس منی مارکیٹ کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہوں۔

انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک نے اپنے طور پر مالی نظام کوباقاعدہ سرمایہ فراہم کیا ہے۔ سٹیٹ بینک نے اگست 2008 سے اب تک 13 اوپن مارکیٹ آپریشنز کے ذریعے بینکوں کو 300 ارب روپے سے زیادہ کا عارضی سرمایہ فراہم کیا ہے اوربینکوں کو ڈسکاؤنٹ ونڈو پرسہولت مہیّا کی ہے۔

ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ مرکزی بینک نے اس صورتحال سے بروقت اور مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے کیش ریزرو کی شرح میں نرمی کرتے ہوئے بینکوں کو تقریباً 270 ارب روپے کا سرمایہ فراہم کیا، جو بینکنگ نظام سے نکلوائے جانے والے ڈپازٹس سے زیادہ رقم ہے۔

بینکاری نظام میں سرمائے کے حالیہ دباؤ اورانٹربینک قرضہ پر سود کی شرح میں اضافے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ دباؤ وقتی عوامل (عید کے تہوار کے لیے رقوم نکلوانے اورکموڈیٹی فائنانس کے سیزن کے آغاز) اور بیرونِ ملک سے رقوم کی آمد میں کمی کے باعث پیدا ہوا ہے۔

 سٹیٹ بینک نے اپنے طور پر مالی نظام کوباقاعدہ سرمایہ فراہم کیا ہے۔ سٹیٹ بینک نے اگست 2008 سے اب تک 13 اوپن مارکیٹ آپریشنز کے ذریعے بینکوں کو 300 ارب روپے سے زیادہ کا عارضی سرمایہ فراہم کیا ہے اوربینکوں کو ڈسکاؤنٹ ونڈو پرسہولت مہیّا کی ہے
ڈاکٹر شمشاداختر

تاہم بعض بددیانت عناصر کی جانب سے بینکاری نظام کوغیرمستحکم کرنے کے مقصد سے پھیلائی گئی مسلسل افواہوں کے سبب سرمائے کا دباؤ شدت اختیار کرگیا تھا۔

مرکزی بینک اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہر بینک ابھرتے ہوئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو، ہر بینک کے لیے انفرادی سطح پر بھی مزید کام کررہا ہے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ مرکزی بینک بینکوں کی مخصوص مد میں سرمائے کی رکاوٹیں دور کرنے کے لئے اقدامات پر بھی غور کررہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بینکوں کوہدایت کی گئی ہے کہ وہ دیہی علاقوں میں بینکاری کی زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیا کرنے کے علاوہ ڈپازٹس کے حصول کے لئے بھی انتھک کوشش کریں۔

دریں اثناء رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران کمرشل اور خصوصی بینکوں کی جانب سے زرعی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں سالانہ بنیاد پر 28.36 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا۔

بینکوں نے رواں مالی سال کے پہلے3 ماہ (جولائی تا ستمبر) کے دوران زرعی شعبے کو 46.618 ارب روپے کے قرضے فراہم کئے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران زرعی شعبے کو 36.319 ارب روپے کے قرضے فراہم کئے گئے تھے۔ اس طرح رواں مالی سال کے اس عرصے کے دوران زرعی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں 10.3 بلین روپے کا نمایاں اضافہ ہوا۔

واضح رہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے رواں مالی سال 2008-09 کے لیے زرعی قرضوں کی فراہمی کا 250 ارب روپے ہدف تجویز کیا ہے، جو گزشتہ مالی سال کے ہدف سے 50 ارب روپے یا 25 فیصد زیادہ ہے اور زرعی قرضوں کی مد میں مالی سال 2007-08 میں فراہم کی جانے والی اصل رقم سے 38 ارب روپے زیادہ ہے۔

گزشتہ مالی سال 2007-08 کے دوران زرعی قرضوں کی فراہمی کا ہدف 200 ارب روپے تھا جبکہ زرعی شعبے کو مجموعی طور پر 212 ارب روپے کے قرضے فراہم کئے گئے تھے۔

معیشتمستحکم سے منفی
پاکستان کا عالمی معاشی درجہ رو بہ زوال
پٹرولدس فیصد پٹرول
قیمت میں کمی کا فائدہ دس فیصد سے کم کو
نوید قمراقتصادی سروے
’پاکستانی معیشت کے لیے اچھا سال نہیں تھا‘
معیشتمعیشت اور بحران
’پاکستانی معیشت پر چندگروہوں کا قبضہ‘
معیشتسٹیٹ بینک رپورٹ
پاکستانی معیشت کو درپیش خطرات میں اضافہ
اسی بارے میں
کیش ریزرو 6 فیصد کردی گئی
17 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد