رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
| | جاپانی صحافی موٹاکی یوٹسوکورا کو ٹخنے میں گولی لگی ہے اور ان کی حالت بھی بہتر ہے |
پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے خیبر ایجنسی کے قریب دو غیر ملکی صحافیوں کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا ہے۔ زخمیوں میں ایک صحافی کو سینے میں گولی لگی ہے تاہم اس کی حالت بہتر بتائی جا رہی ہے۔ خیال ہے کہ مسلح افراد صحافیوں کو اغوا کرنا چاہتے تھے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کی دوپہر قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے قریب واقع ماڈرن علاقے حیات آباد میں شاہ کس کے مقام پر پیش آیا۔ حیات آباد پولیس تھانہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جاپانی صحافی موٹاکی یوٹسوکورا اور افغان صحافی سمیع یوسف زئی حیات آباد میں اپنے گاڑی میں جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی۔ تاہم صحافیوں کی طرف سے مزاحمت پر مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے دونوں صحافی زخمی ہوگئے۔ خیال ہے کہ حملہ آوار عسکریت پسند تھے تاہم مقامی طور پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی تا حال کسی تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ افغان صحافی کو دو گولیاں لگی ہیں جس میں ایک ان کے ہاتھ میں جب کہ دوسری گولی سینے میں لگی ہے تاہم ڈاکٹروں نے ان کی حالت بہتر بتائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپانی صحافی کو ٹخنے میں گولی لگی ہے اور ان کی حالت بھی بہتر ہے جب کہ انہیں ان کی درخواست پر اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ افغان صحافی امریکی میگزین نیوز ویک سے منسلک ہیں جبکہ جاپانی صحافی ایک جاپانی اخبار کے لیے افغانستان اور پاکستان میں بطور خصوصی نمائندہ کام کرتے ہیں۔ پشاور میں گزشتہ روز ایرانی قونصلیٹ کے کمرشل اتاشی کو بھی حیات آباد کے علاقے سے نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا جب کہ ان کے ڈرائیور کو گولیاں مارکر قتل کردیا گیا تھا۔ اس سے ایک روز قبل یونیورسٹی ٹاؤن کے علاقے میں قبائلی علاقوں کی ترقی کےلیے کام کرنی والی امریکی تنظیم کے سربراہ کو ڈرائیور سمیت ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پشاور سےگزشتہ دو ماہ کے دوران متعدد غیر ملکی شخصیات اور سفارت کاروں کو بندوق کی نوک پر اغوا کیا جا چکا ہے۔ |