صحافیوں پرحملہ، ملزم گھنٹوں میں رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافیوں پر حملہ کرنے والے کرنے والے مبینہ ملزمان چوبیس گھنٹے سے بھی کم عرصے میں رہا ہوگئے۔ اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نےمقامی نجی ٹی وی چینل جیو کےصحافی ابصار عالم اور وقت ٹی وی کے بیورو چیف راؤ خالد پر حملے کےالزام میں گرفتار ہونے والے آٹھ افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔ عدالت نے وہ بیس بیس ہزار کے مچلکے عدالت میں جمع کروائیں۔مقدمے کی سماعت اُنیس جولائی کو ہوگی۔ مقدمے کے تفتیشی افسر فیاض اکبر کا کہنا ہے کہ ملزمان سے کوئی برآمدگی تو نہیں کرنی تھی اس لیے پولیس نے عدالت سے انہیں جیل بھیجنے کی استدعا کی تھی۔ تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ تمام قابل ضمانت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ وہ ایک مقامی ہوٹل میں کھانا کھا رہے تھے کہ اسی دوران ابصار عالم بھی اپنے دوستوں کے ہمراہ اُسی ہوٹل میں آگئے۔ تفتیشی افسر کے بقول کھانے کے دوران ملزمان نے ابصار عالم کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا ٹی وی یکطرفہ خبریں نشر کر رہا ہے جس سے لوگوں میں اُس کی ساکھ شدید متاثر ہو رہی ہے۔ فیاض اکبر نے کہا کہ باتوں باتوں میں فریقین کے درمیان جھگڑا ہوگیا اور ملزمان نے مقامی صحافی کو زدوکوب کیا۔ ادھر ابصار عالم کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ کھانا کھانے کے لیےگئے کہ شراب کے نشے میں دُھت آٹھ افراد نے یہ کہہ کر اُن پر حملہ کردیا کہ ملک میں حالیہ بحرانوں کا ذمہ دار میڈیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ملزمان کا تعلق سابق حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والی ایک سیاسی شخصیت سے ہے۔ مقامی صحافی تنظیموں نے اس صحافیوں پر تشدد کے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔ | اسی بارے میں خطروں سے کھیلتے پاکستانی صحافی05 July, 2007 | پاکستان صحافیوں پر لاٹھی چارج،گرفتاریاں و رہائیاں20 November, 2007 | پاکستان چینل وہی کہہ رہے ہیں جو حکومت چاہتی ہے22 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||