BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 November, 2007, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافیوں پر لاٹھی چارج،گرفتاریاں و رہائیاں

پاکستان بھر میں صحافیوں نے میڈیا پر پابندیوں کے خلاف احتجاج کیا ہے

کراچی اور سندھ کے دوسرے شہروں میں میڈیا پر پابندی کے خلاف احتجاج کرنے والے صحافیوں پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور دو سو سے زائد صحافیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ رات گئے ان میں سے کچھ صحافیوں کو رہا کر دیا گیا۔

کراچی پولیس کے ہاتھوں گرفتار کیے جانے والے 181 صحافیوں میں سے 35 کو رہا کر دیا گیا ہے جن میں اکثریت سینئر صحافیوں کی ہے۔

اس دوران پولیس نے گرفتار کیے جانے والے صحافیوں میں سے پانچ صحافیوں کو دیگر سے علیحدہ کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ امکان ہے کہ پولیس الگ کیے جانے والے صحافیوں کے خلاف مقدمہ درج کرے گی۔

نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے والے صحافیوں میں نجیب احمد، اے ایچ خانزادہ، اصغر عمر، موسیٰ کلیم اور غلام مصطفی شامل ہیں۔

صحافیوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کی اطلاع پر زیرحراست صحافیوں میں بے چینی پھیل گئی اور اُنہوں نے اپنے ساتھیوں کے بغیر رہا ہونے سے انکار کر دیا۔
دوسری جانب وہ صحافی جنہیں درخشان پولیس سٹیشن سے رہا کیا جا چکا تھا وہ بھی کلفٹن تھانے پہنچ گئے جہاں رات گئے صحافیوں نے میڈیا پر عائد پابندیوں اور آزادی صحافت کے حق میں نعرے لگانا شروع کر دیے۔

صوبہ سندھ کے نو منتخب ورزیرِ داخلہ برگیڈئر ریٹائرڈ ضامن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گرفتار ہونے والے تمام صحافیوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا تھا آج رات ہی رہا کردیا جائے گا۔

واضع رہے کہ پولیس نے گرفتاری کے بعد صحافیوں کو ڈاکس، درخشان، کلفٹن اور فریئر تھانوں میں قید کیا تھا۔

بی بی سی اردو کے عباس نقوی کے مطابق منگل کی صبح کو صرف کراچی میں پولیس نے 181صحافیوں کو لاٹھی چارج کے بعدگرفتار کر لیا تھا جن میں خواتین صحافیوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ صحافی کراچی پریس کلب کے باہر چینلز کی بندش اور حکومتی پابندیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔


جب صحافیوں نے مولانا دین محمد وفائی روڈ پر آنے کی کوشش کی وہاں پہلے سے موجود پولیس کی بھاری نفری نے ڈنڈے برسانا شروع کر دیے جس سے متعدد صحافی زخمی ہوگئے جنہیں پریس کلب میں ابتدائی طبی امداد مہیا کی گئی۔

ابتدائی طور پر پولیس نے لاٹھی چارج کے بعد جن صحافیوں کو گرفتار کیا تھا اُن میں کراچی یونین آف جرنلسٹ کے صدر شمیم الرحمان، اور سابق صدر حفاظ الرحمان سمیت ایک درجن سے زائد کارکن شامل تھے۔

پولیس نے بعض صحافیوں کو کراچی پریس کلب کے گیٹ کے سامنے سے بھی حراست میں لیا اور پریس کلب میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے بعد پریس کلب کے دروازے بند کر دیے گئے۔پولیس نے نعرے بازی کرنے والے مزید صحافیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جس کے بعد صحافیوں نے رضاکارانہ گرفتاریاں دینا شروع کر دیں۔

کراچی پولیس کے چیف اظہر علی فاروقی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گرفتار ہونے والے صحافیوں کے خلاف مقدمات کا اندراج کیا جائے گا، تاہم اُنہوں نے یہ نہیں بتایا کہ گرفتار صحافیوں کی تعداد کیا ہے اور اُن پر کن دفعات کے تحت مقدمات کا اندراج کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب پولیس نےگرفتار کیے جانے والے صحافیوں کو مختلف تھانوں میں منتقل کردیا ہے۔ ڈاکس تھانے میں زیرِ حراست 37 صحافیوں میں 6 خواتین بھی شامل ہیں جن میں ڈان ٹی وی کی حسنہ علی، دی نیوز کی زرین، ڈیلی ٹائمز کی عروج ضیاء، جیو انگلش کی سبین آغا اور عذرا پاشا اور ایک فری لانس جرنلسٹ بلقیس جہاں شامل ہیں۔

پولیس گرفتار صحافیوں کو شہر کے مختلف تھانوں میں لے گئی

اس ہی طرح پولیس نے 35 صحافیوں کو درخشاں پولیس اسٹیشن، 30 صحافیوں کو کلفٹن پولیس اسٹیشن، اور دس کو فریئر پولیس اسٹیشن میں منتقل کیا ہے۔

درخشان تھانے میں زیر حراست کراچی یونین آف جرنلسٹ کے صدر شمیم الرحمان نے فون پر بی بی سی بات کرتے ہوئے ملکی اور بین الاقوامی صحافی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان میں میڈیا پر عائد پابندیوں اورصحافیوں پر پولیس تشدد کا نوٹس لیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہمیں مجرموں کی طرح تھانے کے لاک اپ میں رکھا گیا ہے۔

اندورن سندھ میں گرفتاریاں

سکھر میں بی بی سی کے نمائندے نثار کوکھر کے مطابق پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر اندرون سندھ کے مختلف شہروں میں صحافیوں نے میڈیا پر پابندیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں ۔جبکہ حیدرآباد اور گھوٹکی میں پولیس نے درجنوں صحافیوں کے گرفتار کر لیا ہے ۔

حیدرآباد کے صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے پریس کلب کےباہر مشترکہ مظاہرہ کیا۔صحافیوں نے میڈیا پر پابندیاں ختم کرنےکےحق میں نعرے لگانا شروع کیے تو پولیس کے دستے حرکت میں آگئے ۔

حیدرآباد اور گھوٹکی میں پولیس نے درجنوں صحافیوں کے گرفتار کر لیا ہے

حیدرآباد پولیس نے صحافی اقبال ملاح ،ناز سہتو، ایاز لطیف پلیجو، ابرار قاضی سمیت ستائیس صحافیوں اور سول سوسائٹی کےنمائندوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

حیدرآباد پولیس کےمطابق گرفتار شدہ صحافیوں کو کینٹ تھانہ کےلاک اپ میں رکھا گیا ہےاور بالا حکام کے احکامات کے بعد مزید کارروائی کی جائی گی۔

اطلاعات کے مطابق چند گھنٹے کی حراست کے بعد میں ان صحافیوں کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

یاد رہے کہ حیدرآباد کے صحافیوں نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پہلی مرتبہ منگل کےروز پریس کلب کی عمارت کےباہر مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس سے قبل سندھ کے بیشتر شہروں کے صحافیوں کی طرح حیدرآباد پریس کلب کی عمارت کے اندر احتجاج کیا جا رہا تھا۔

ادھر ضلع گھوٹکی کے شہر اوباوڑو میں پولیس نے صحافیوں کے جلوس کو روکا اور تین صحافیوں کو گرفتار کر لیا ہے ۔مقامی پولیس کے مطابق گرفتار شدہ صحافیوں کے خلاف دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی کےمقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

دوسرح جانب سکھر میں منگل کے روز صحافیوں نے پریس کلب سے باہر نکل کر احتجاج کیا اور میڈیا پر پابندیوں کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔انہوں نےمنارہ روڈ کا گشت کیا اور ایمرجنسی کے خلاف نعرے لگائے۔
جبکہ نوابشاہ، لاڑکانہ، خیرپور، بدین سمیت اندرون سندھ کے بیشتر شہروں میں صحافیوں نے میڈیا پر پابندیوں کےخلاف احتجاج اور بھوک ہڑتال کی ہے۔

پنجاب میں مظاہرے
منگل کے دن پنجاب کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں صحافیوں نے صحافت کی آزادی کے حق میں اور پیمرا قوانین کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے اور ریلیاں نکالیں۔ان احتجاجی مظاہروں میں صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے سول سوسائٹی کے اراکین نے بھی شرکت کی۔

صحافیوں کا احتجاج تین نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے جاری ہے

پنجاب میں بڑا مظاہرہ لاہور میں ہوا جس میں صحافیوں نے میڈیا پر عائد پابندیوں اور نجی ٹی وی چینلوں کی بندش کے خلاف لاہور پریس کلب سے بنجاب اسمبلی تک احتجاجی ریلی نکالی اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ احتجاجی صحافیوں نے سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں اور بینرز اور پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے جن پر صحافت کی آزادی کے حوالے سے بھی مختلف نعرے اور نظمیں درج تھیں۔

صحافی حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں تک پہنچے اور جذباتی تقاریر کیں۔ اس موقع پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سربراہ آئی اے رحمان نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ جب تک میڈیا پر عائد پابندیاں ختم نہیں ہوتیں صحافی اپنی جدوجہد جاری رکھیں‘۔پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے پیمرا قوانین میں کی گئی ترامیم کو واپس نہ لیا تو صحافی گرفتاریاں دیں گے۔

اس کے علاوہ ملتان، بہالپور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں بھی صحافیوں نے آزادیِ اظہار پر لگائی گئی پابندیوں اور ایمرجنسی کے خلاف احتجاجی مُظاہرے کیے، ریلیاں نکالیں اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خاتمے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

گرفتاریوں اور تشدد کی مذمت
اسلام آباد میں قومی و بین الاقوامی صحافتی تنظیموں نے ایک اجلاس میں کراچی میں صحافیوں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بی بی سی کے ہارون رشید کے مطابق اجلاس میں پاکستانی صحافیوں کے علاوہ اجلاس میں انٹرنشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس، ’رپورٹرز وِد آوٹ فرنٹیئرز‘ اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر پی ایف یو جے کے صدر ہما علی کا کہنا تھا کہ حقوق واپس لینے کے لیے اگر اب کوشش نہ کی گئی تو پھر کبھی نہیں ملیں گے۔ انہوں نہ کہا کہ صحافی آزاد رہنا چاہتے ہیں اور اسی کے لیے متحدہ جدوجہد کر رہے ہیں۔ رپورٹرز وِد آوٹ فرنٹئرز کے اقبال خٹک نے فوجی حکمرانوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنرل پرویز مشرف بظاہر درائع ابلاغ کی آزادی غصب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ ہائی کورٹ بار نے اعلان کیا ہے کہ گرفتار صحافیوں کی نہ صرف عدالت کے اندر اور قانونی بلکہ اخلاقی اور مالی مدد بھی کی جائےگی۔ ہائیکورٹ بار کے صدر ابرار حسن نے پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ صحافیوں کے ساتھ ہیں اور بار کی جنرل باڈی میں بھی اس کی مذمتی قرار داد منظور کی جائےگی۔

ادھر متحدہ مجلس عمل نے پولیس کارروائی کو آمریت کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔ اتحاد کے صوبائی صدر مولانا اسدللہ بھٹو نے کہا ہے کہ پولیس کی کارروائی سے حکمرانوں کی صحافت دشمن اور آمرانہ عزائم کی عکاسی ہوتی ہے۔

انسانی حقوق کمیشن نے کہا ہے صحافیوں پر بے رحمانہ تشدد کی ذمے دار سندھ حکومت ہے۔ تنظیم کے سیکرٹری جنرل اقبال حیدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میڈیا پر پابندی نہ صرف پاکستان کے آئین کے منافی ہے یہ انسانی حقوق کے بین اقوامی چارٹر کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گرفتار صحافیوں کو غیر مشروط طور پر فوری رہا کیا جائے۔ حقوقِ انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی کراچی میں صحافیوں پر پولیس تشدد کی مذمت کی ہے۔

ایمرجنسی مخالف مظاہرےاحتجاج جاری ہے
میڈیا،سول سوسائٹی کے مظاہرے جاری
صحافیوں کا احتجاج(فائل فوٹو)احتجاج جاری
ٹی وی چینلوں پر پابندی کےخلاف مظاہرے جاری
اسی بارے میں
عدلیہ کی بحالی تک بھوک ہڑتال
19 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد