BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 November, 2007, 09:16 GMT 14:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پانچ ہزار سے زائد کی رہائی شروع‘

گرفتار کارکن(فائل فوٹو)
پولیس نے ہزاروں کارکنوں کو حراست میں لیا تھا
پاکستان کی وزارت داخلہ نے کہا کہ ہنگامی حالت کے بعد اس کے مطابق نقص امن کے خطرے کے پیش نظر گرفتار کئے گئے پانچ ہزار سے زائد افراد کی رہائی شروع ہوگئی ہے اور منگل کی صبح تک تین ہزار سے زائد افراد کو رہا کیا جاچکا ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان ریٹائرڈ برگیڈیئر جاوید اقبال چیمہ نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکام نے منگل کی صبح تک تین ہزار چار سو سولہ افراد کو رہا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہائی پانے والے افراد میں سیاسی کارکن اور وکلاء شامل ہیں۔

چیمہ نے کہا دو ہزار اب بھی حراست میں ہیں اور ان میں ان کے کہنے کے مطابق زیادہ تر جلد ہی رہا ہوجائیں گے اور یہ کہ ان میں سے کچھ کو آج رہا کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جن افراد کو گرفتار کیا گیا تھا ان میں سے بعض ایسے ہیں جن پر تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے یا جن کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ ان کو اپنی رہائی کے لیے عدالت سے ضمانت حاصل کرنا پڑے گی۔

اس سوال پر کہ تحریک انصاف کے رہنما عمران خان اور پیپلز پارٹی کے رہنما اور سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر اعتزاز حسن کی رہائی کب تک ممکن ہوگی تو انہوں نے کہا کہ یہ حالات پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ سیاسی رہنماؤں کو ابتدا میں حفاظتی تدبیر کے طور پر حراست میں لیا گیا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ’ عمران خان پنجاب یونیورسٹی میں گئے تھے جہاں وہ طلبہ کو حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لئے اکسا رہے تھے‘۔
انہوں نے کہا کہ’اس ضمن میں ان کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا ہے اور وہ عدالت سے راحت حاصل کرسکتے ہیں‘۔

تین نومبر کو پاکستان میں ہنگامی حالت کے نفاد کے بعد ملک بھر میں ایمرجنسی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جس دوران پولیس نے وکلاء، سول سوسائٹی کے کارکنوں، طلبہ، سیاسی کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ان رہائیوں سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ حکومت اندرونی اور بیرونی دباؤ کے پیش نظر ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد لگائی گئی سختیوں میں نرمی لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

حکومت کی جانب سے حراست میں لیے جانے والے افراد کی رہائی کا عمل شروع کرنے سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ حکومت اندرونی اور بیرونی دباؤ کے پیش نظر ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد لگائی گئی سختیوں میں نرمی لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

لیکن وزارت داخلہ کے ترجمان کا ساتھ ہی یہ کہا کہ پرامن احتجاج جمہوری عمل کا حصہ ہے لیکن مرکزی اور صوبائی حکومتیں انتخابات سے پہلے بدامنی پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کریں گے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ معزول ججز اگر گھر جانے کی خواہش رکھتے ہیں تو وہ اپنے گھر جانے کے لئے آزاد ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مرضی اور منشا کے مطابق ججز کالونی میں رہتے ہیں اور یہ کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی اپنی مرضی اور منشا کے مطابق کالونی میں رہتے ہیں۔

اسی بارے میں
ایمرجنسی:’جلد بازی کی گئی‘
20 November, 2007 | پاکستان
عام انتخابات آٹھ جنوری کو
20 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد