عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | حیات اللہ کے قتل پر پاکستان بھر میں صحافیوں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے |
دنیا بھر میں صحافتی آزادی کے لیے سرگرم صحافیوں کی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے قبائلی صحافی حیات اللہ کی دوسری برسی کے موقع پر مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے قتل کے متعلق ہونے والی تحقیقات کو منظرِ عام پر لا کر اس میں ملوث افراد کو سزا دے۔ حیات اللہ کو پانچ دسمبر دو ہزار پانچ کو شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی سے اغواء کیا گیا تھا اور چھ ماہ تک لاپتہ رہنے کے بعد سولہ جون دو ہزار چھ کو ان کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی لاش ملی تھی۔ حیات اللہ میر علی میں ایک مکان پر حکومت کی جانب سے القاعدہ کے خلاف کارروائی کی کوریج کے بعد سے لاپتہ ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد حیات اللہ نے اپنی رپورٹوں میں شواہد کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ یہ ہلاکتیں کسی طیارے سے داغے گئے میزائلوں سے ہوئی تھی۔ یہ مؤقف سرکاری بیان کی نفی کرتا ہے جس میں یہ ہلاکتیں مکان میں دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے قرار دی گئی تھیں۔ صحافیوں کی تنظیم نے اپنے ایک بیان میں سابقہ حکومت پر الزام لگایا ہے کہ حیات اللہ کے اغواء اور ہلاکت کے متعلق کافی کچھ جاننے کے باوجود جان بوجھ کر اس بارے میں کچھ کہنے سےگریز کرتی رہی۔ بیان میں نومنتخب مرکزی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ملزمان کی نشاندہی کرکے انہیں قرار واقعی سزا دے۔ بیان کے مطابق حکومت نے حا ل ہی میں مہمند ایجنسی میں اتحادی افواج کی بمباری میں اپنے گیارہ فوجیوں کی ہلاکت پر غم وغصے کا اظہار تو کیا ہے لیکن حیات اللہ ہی نے اس سے قبل ہونے والی امریکی بمباری کی کوریج کی تھی جس کے نتیجے میں انہیں اغواء کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔  |  مقتول صحافی کی بیوہ کی ایک بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد ان کے خوفزدہ یتیم بچوں کو تحفظ فراہم کیا جائے  احسان اللہ |
حیات اللہ کی سات سالہ بیٹی فرشتہ خان نے کہا ہے کہ ’میں جاننا چاہتی ہوں کہ میرے والد کو کس نے قتل کر دیا ہے‘۔ حیات اللہ کے چھوٹے بھائی احسان اللہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقتول صحافی کی بیوہ کی ایک بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد ان کے خوفزدہ یتیم بچوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ آر ایس ایف کا مزید کہنا ہے کہ حیات قتل کیس کے متعلق جسٹس محمد رضا خان نے اپنی انکوائری رپورٹ اٹھارہ اگست دو ہزار چھ کو حکام کےحوالے کردی تھی مگر حکومت نے کیس کے حوالے سے باقاعدہ تحقیقات کرانے کی مزید کوئی کوشش نہیں کی ہے۔ تنظیم کے بقول ’ ادارے نےجسٹس رضا خان کی جانب سے مرتب کردہ تحقیقاتی رپورٹ کا مطالعہ کیا ہے اور تحقیقاتی رپورٹ میں ایسی معلومات موجود ہیں جن کی مدد سے قاتلوں کی نشاندہی ہوسکتی ہے‘۔ حیات اللہ کی ہلاکت پر ملکی اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا جس کے بعد حکومت پاکستان نے تین الگ الگ انکوائری کمیشن قائم کیے تھے۔ ان میں ایک پشاورہائی کورٹ کے جج محمد رضا خان کی سربراہی میں، دوسرا پولٹیکل انتظامیہ کی طرف سے اور تیسرا انکوائری کمیشن فاٹا سیکریٹریٹ کی جانب سے قائم کیا گیا تھا۔تاہم آج تک ان میں کسی بھی کمیشن کی تحقیقات کو منظر عام پر نہیں لایا جا سکا ہے۔ |