مقتول صحافی کے لیے ایوارڈ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اغوا کے بعد قتل کردیۓ جانے والے فاٹا کے صحافی حیات اللہ خان کو کینیڈا کے شہر ٹورونٹو میں ایک انتہائی پروقار تقریب میں اس سال کا بین الاقوامی آزادی صحافت ایوارڈ دیا گیا۔ اس تقریب کا انعقاد صحافیوں کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ’کینیڈین جرنلِسٹس فار فری ایکسپریشن‘ یعنی سی جے ایف ای نے کیا تھا۔ کینیڈا کے شہر ٹورونٹو میں واقع آرکیڈیئن کورٹ آڈیٹوریئم میں منعقدہ ایک شاندار تقریب میں کینیڈا بھر کے علاوہ دنیا کے متعدد ممالک سے صحافتی تنظیموں کے سربراہان،صحافیوں کے امور اور غیرسرکاری تنظیموں کے نمائندوں، بین الاقوامی ٹی وی نیٹ ورکس کے اعلی عہدیداران اور جلاوطن صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔
اس تقریب کے مقررِ خصوصی مشہور کینیڈین دانشور اور سفارتکار ڈائریکٹر آف سینٹر فارگلوبل ریلیشنز پال ہین بیکر تھے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں سچ بولنے کی قیمت موت ہے اورصحافی اس قیمت کو چکانے کے لیے تیار ہوتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ سچ پہاڑوں کو بھی ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ مرحوم پاکستانی صحافی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تقریب میں موجود تمام شرکاء نے کھڑے ہو کر ایک منٹ کی خاموشی اختیا ر کی۔ حیات اللہ کی زندگی پر ایک مختصر دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔ سی جے ایف ای کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عینی گیم نے کہا ہے کہ ’حیات اللہ نے صحافتی فریضہ سرانجام دینے کے لیے جو قیمت ادا کی ہے وہ بہت بڑی قربانی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بہادر صحافی کے جذبے کی قدر کرنی چاہیے اور ان جرات مند صحافیوں کے حوصلے سے صحافت زندہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صحافیوں پر گزشتہ چند سالوں سے ظلم وستم میں شدت آئی ہے۔ عینی گیم نے حکومت پاکستان سے صحافیوں کے تحفظ اور تقدس کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا اگر ان صحافیوں کو تحفظ نہیں ملے گا تو عوام میں اظہار رائے کی آزادی کیسے ہوگی۔ سی جے ایف ای کی ایوارڈ کمیٹی کی چیئرپرسن کیرول آف نے کہا کہ حیات اللہ کے قتل کا واقعہ اب عالمی صحافتی تنظیموں کے لیۓ ایک چیلنج بن گیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان میں صحافیوں پر ہونے والے حملوں سے دنیا ہر پل آگاہ ہے اور سی جے ایف ای پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ جلاوطن صحافیوں کی تنظیم کی صدر ایرانی نژاد صحافی مریم اقوامی نے کہا کہ پاکستان کی حکومت کو صحافیوں کا تحفظ کرنا چاہیے اور اغوا شدہ صحافیوں کو جلد از جلد بازیاب کرانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آزادی صحافت میں ہر روز گراف نیچے گر رہا ہے جو حکومت کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ جس ملک کے صحافی محفوظ نہیں اس ملک میں بیرون ملک سے آنے والے صحافی کیسے اپنے فرائض سرانجام دے سکتے ہیں۔ اس موقع پر صحافی حیات اللہ کی بیوہ مہرالنساء اور بچوں کی طرف سے ایک پیغام بھی حاضرین کو سنایا گیا جس نے تقریب میں موجود ہر آنکھ کو اشک بار کر دیا۔ پیغام میں انہوں نے کہا کہ حیات اللہ کے قتل کے بعد ’میں نے یہ تسلیم کیا تھا کہ وہ شہید ہوگیا ہے اور میں اس دنیا میں اکیلی رہ گئی ہوں مگر دنیا بھر سے صحافیوں نے مجھے بڑا حوصلہ دیا ہے اور تمام صحافیوں اور صحافتی تنظیموں کے تعاون سے مجھے حیات اللہ کے قاتلوں کی گرفتاری کی بڑی امید ہے۔اس ایوارڈ پر وزیرستان کے خواندہ و ناخواندہ لوگوں اور پاکستان کے صحافیوں کو بڑا فخر ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ حیات اللہ کو ہلاک کرنے والوں کوہار کا سامنا کرنا ہوگا۔ ’حیات اللہ نے اپنے قلم سے ثابت کر دیا ہے کہ قلم کی طاقت تلوار و بندوق سے بے پناہ زیادہ ہے۔ حیات اللہ کے قتل کی تحقیقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے میرے بچوں کے لیے دس لاکھ روپوں کی امداد کا اعلان کر کے صرف پانچ لاکھ روپے دیے ۔سپریم کورٹ کی طرف سے ہونے والی انکوائری کا معاملہ بھی کھٹائی میں پڑا ہوا ہے‘۔ سی جے ایف ای اس سے قبل دنیا بھر سے دو صحافیوں کو اس ایوارڈ کے لیے منتخب کرتی رہی ہے مگر اس برس پاکستانی صحافی حیات اللہ مرحوم کوخصوصی طور پر اس ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ فاٹا کے علاقے میں کام کرنے والے مرحوم صحافی حیات اللہ کو دسمبر دو ہزار پانچ میں اغواء کیا گیا تھا اور ان کی ہتھکڑیوں میں جکڑی ہوئی لاش سولہ جون دو ہزار چھ کو شمالی وزیرستان سے ملی تھی۔ صحافی حیات اللہ کے علاوہ ایک نوجوان مصری صحافی عبیر العسکری اور کولمبیا کے صحافی ہالمین مورس کو بھی آزادی صحافت کا ایوارڈ دیا گیا۔ سی جے ایف ای دنیا کی دیگر 72 صحافتی تنظیموں کے ہمراہ آئی فیکس کے پلیٹ فارم سے آزادی صحافت اور صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہے۔ اس سے قبل ایک پاکستانی صحافی ظفریاب احمد مرحوم کو بھی آزادی صحافت کا یہ بین الا قوامی ایوارڈ مل چکا ہے۔ |
اسی بارے میں حیات اللہ کے بچوں کی امداد کا اعلان18 July, 2006 | پاکستان ’حیات اللہ کو جال میں پھنسایا گیا‘18 June, 2006 | پاکستان ’حکومت پرائم اکیوزڈ ہے‘ گورنر19 June, 2006 | پاکستان ’اِن کیمرہ‘ تحقیقات قبول نہیں: صحافی28 June, 2006 | پاکستان ’یہ صحافتی آزادی کا قتل ہے‘ 16 June, 2006 | پاکستان حیات اللہ کے قتل پر احتجاج17 June, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||