حسن مجتبیٰ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک |  |
 | | | ایمرجنسی کے خلاف تحریک میں صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے |
سال دو ہزار سات میں دنیا بھر میں اپنے فرائض کے دوران ہلاک ہونیوالے چونسٹھ صحافیوں میں سے پانچ کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ دنیا بھر میں اس سال مرنے والے صحافیوں کی تعداد گزشتہ دس سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ بات نیویارک میں دنیا بھر میں صحافیوں کے تحفظ کیلیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ یا سی پی جے کی طوف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہی گئی ہے۔ سی پی جے کے رابط افسر برائے اییشیا بوب ڈیئٹز کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گيا ہے کہ دنیا بھر میں اسی سال دو ہزار سات میں اپنے فرائض کے دوران یا کام کے سلسلے میں مارے جانیوالے چونسٹھ صحافیوں میں سے پانچ صحافیوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ سال دو ہزار سات میں اپنے فرائض کے دوران پاکستان میں ہلاک کیے جانیوالے جن صحافیوں کے نام بتائے گئے ہیں ان میں چارسدہ کے فری لانس صحافی محبوب خان، باجوڑ میں روزنامہ پاکستان کے نور حکیم خان، اسلام آباد میں اخبار مرکز اور برطانوی ٹی وی ڈی ایم ڈیجیٹل کے جاوید خان، کراچي میں اے آر وائي کے محمد عارف اور میرپورخاص میں روزنامہ 'جنگ' کے زبیر احمد مجاہد شامل ہیں۔ بوب کے ڈئيٹز نے ’سی پی جے‘ کی تحقیقات کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ سب کے سب پاکستانی صحافی اپنے کام یا تحقیقی رپورٹنگ کی وجہ سے مارے گۓ تھے۔ سی پی جے نے اپنے اس بیان میں بتایا ہے کہ سنہ انیس سو ستانوے سے لیکر اب تک یعنی گزشتہ دس سالوں میں اپنے فرائض کی بجا آوری کے دوران مرنے والے صحافیوں کی سب سے زیادہ تعداد اسی سال دوہزار سات میں ہے جب چونسٹھ صحافی مارے گئے ہیں۔ سنہ دو ہزار سات کے دوران ہلاک ہونیوالے صحافیوں میں سب سے زیادہ تعداد عراق میں مارے جانے والے صحافیوں کی ہے۔ |