حیات اللہ قتل کو ایک سال ہو گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقےشمالی وزیرستان میں قتل کیے جانے والے صحافی حیات اللہ کی پہلی برسی سنیچر کو منائی جا رہی ہے تاہم نہ تو انکی ہلاکت کے سلسلے میں قائم کیے جانے والی تین مختلف انکوائری کمیشنوں کی تحقیقات منظر عام پر آ سکی ہیں اور نہ ہی اس سلسلے میں اب تک کوئی گرفتاری عمل آئی ہے۔ حیات اللہ کو پانچ دسمبر دوہزار پانچ کو شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی سے اغواء کیا گیا تھا اور چھ ماہ تک لاپتہ رہنے کے بعد سولہ جون دو ہزار چھ کو انکی زنجیروں میں جکڑی ہوئی لاش ملی تھی۔ انکی ہلاکت پرملکی اور بین ااقوامی تنظیموں کی جانب سے ہونے والے شدید احتجاج کے بعد حکومت پاکستان نے تین الگ الگ انکوائری کمیشن قائم کیے تھے۔ ان میں ایک پشاورہائی کورٹ کے جج محمد رضا خان کی سربراہی میں، دوسرا پولٹیکل انتظامیہ کی طرف سے اور تیسرا انکوائری کمیشن فاٹا سیکریٹریٹ کی جانب سے قائم کیا گیا تھا۔ مرحوم حیات اللہ کے بھائی احسان اللہ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سال گزرنے کے باوجود بھی انہیں انصاف نہیں ملا ہے۔
احسان اللہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے آٹھ مرتبہ وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی سے ملاقاتیں کی ہیں مگر وہ اس موضوع پر بات کرنے سے کتراتے رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات نے مرحوم حیات اللہ کے بچوں کو پشاور میں گھر اور حکومتی خرچے پر تعلیم فراہم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا وہ بھی ابھی تک پورا نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اور گورنر سرحد کی جانب سے مالی امداد کے سلسلے میں اعلان کردہ پانچ پانچ لاکھ روپے مرحوم کے بچوں کو مل چکے ہیں۔ احسان اللہ نے یہ دعوی بھی کیا کہ انہیں دو ماہ قبل خفیہ ایجنسی کے ایک اہلکار نے فون پر بتایا کہ حیات اللہ کی ہلاکت میں انکا ادارہ ملوث نہیں ہے بلکہ انہوں نے بعض مقامی سرکاری افسران کا نام لیکر انہیں ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ دوسری طرف جب حیات اللہ کی بیوہ مہرالنساء سے بات ہوئی تو وہ بہت ہی خفا تھیں اور انہوں نے کہا کہ انکے بچے اپنے مرحوم باپ کوہر وقت یاد کرتے رہتے ہیں۔ مہرالنساء کو بچوں کے مستقبل کی فکر دامن گیر ہے۔
’میر ے تین بچے گھر سے تقریباً آٹھ کلومیٹر دور تعلیم حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں اور مجھے ہر وقت یہ خوف لگا رہتا ہے کہ کہیں انہیں بھی اپنے باپ کی طرح قتل نہ کر دیا جائے‘۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے انکے بچوں کے لیے پشاور میں گھر اور تعلیم کا بندوبست کرے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر اطلاعات اور سیکریٹری فاٹا اور دیگر حکومتی اہلکاروں سے بارہا رابطے کی کوششیں ناکام رہیں۔ دوسری طرف حیات اللہ کی پہلی بر سی کے موقع پر صحافیوں کے تحفظ کے لیے سرگرم ایک بین الاقوامی تنظیم ’رپورٹرز ود آوٹ فرنٹیئرز‘ نے تحقیقات مکمل ہونے کے باوجود حیات اللہ کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ ادارے نےجسٹس رضا خان کی جانب سے مرتب کردہ تحقیقاتی رپورٹ کا مطالعہ کیا ہے اور تحقیقاتی رپورٹ میں ایسی معلومات موجود ہیں جن کی مدد سے قاتلوں کی نشاندہی ہوسکتی ہے۔ بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ حکومت اور وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی کیس کو فراموش کرانے اور ذمہ دار افراد کو سزا سے بچانےکی کوشش کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جسٹس محمد رضا خان نے اپنی انکوائری رپورٹ اٹھارہ اگست دوہزار چھ کو حکام کےحوالے کردی تھی مگر حکومت نے کیس کے حوالے سے باقاعدہ تحقیقات کرانے کی مزید کوئی کوشش نہیں کی ہے۔ بیان میں دعوی کیاگیا ہے کہ ’حکومت ایک ایسے قتل کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے جس میں فوج کی خفیہ ایجنسی کے اہلکار ملوث ہوسکتے ہیں‘۔ آر ایس ایف نے حیات اللہ کے اغواء اور قتل کے متعلق حقائق جاننے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ تنظیم مرحوم کے عزیز و اقارب اور ساتھیوں کی جانب سے حقائق کےمنظر عام پر لانے اور انصاف بہم پہنچانے کے مطالبات کی حمایت کر تی ہے۔ | اسی بارے میں حیات اللہ کے لیئےصحافتی ایوارڈ14 October, 2006 | پاکستان صحافی حیات اللہ قتل انکوائری17 September, 2006 | پاکستان حیات اللہ کے بچوں کی امداد کا اعلان18 July, 2006 | پاکستان حیات اللہ کا قتل‘ طالبان کا انکار20 June, 2006 | پاکستان حیات اللہ کے قتل پر ملک گیر یومِ سیاہ19 June, 2006 | پاکستان ’حکومت پرائم اکیوزڈ ہے‘ گورنر19 June, 2006 | پاکستان ’حیات اللہ کو جال میں پھنسایا گیا‘18 June, 2006 | پاکستان حیات اللہ کے قتل پر احتجاج17 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||