BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 August, 2008, 16:28 GMT 21:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ضابطۂ اخلاق، غیر جانبدار کمیشن کا قیام

’تین برس میں 180صحافی مختلف نوعیت کی انتقامی کارروائیوں کا شکار ہوئے‘
پاکستان کی صحافتی یونینوں نے ایک ایسے غیر جانبدار کمیشن کے قیام کا اعلان کیا ہے جہاں ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب صحافیوں کے خلاف شکایات سنی جائیں گی۔

یہ اعلان صحافیوں کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس اور پنجاب یونین آف جرنلسٹس کی طرف سے ’صحافیوں کا تحفظ اور ضابطۂ اخلاق‘ کے عنوان سے سنیچر کو لاہور میں منعقدہ ایک روزہ کانفرنس میں کیا گیا۔

اعلان کردہ کمیشن پندرہ اراکین پر مشتمل ہوگا اور اس کے اراکین میں اعلیٰ عدلیہ کے چار ریٹائرڈ جج اور وکیل، سول سوسائٹی کے چھ اور صحافیوں کے پانچ نمائندے شامل ہوں گے جبکہ کمیشن کا چیئرمن ان اراکین میں سے کسی غیر صحافی شخصیت کو مقرر کیا جائے گا۔ کمیشن کے اراکین پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے آئندہ اجلاس میں نامزد کیے جائیں گے۔

کانفرنس میں صحافی یونینوں کی جانب سے صحافتی ضابطہ اخلاق کے لیے پچیس نکاتی سفارشات بھی پیش کی گئیں۔ اس کانفرنس سے صحافیوں کی عالمی تنظیم کے سیکریٹری جنرل ایڈن وائٹ، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات شیری رحمان اور دیگر نے خطاب کیا۔

کانفرنس میں آسٹریلیا ، بھارت اور سری لنکا کے صحافی نمائندوں کے علاہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر ہما علی، سیکرٹری جنرل مظہر عباس سمیت پاکستان بھر سے صحافتی یونینوں کے نمائندے شریک ہوئے۔

ایڈن وائیٹ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صحافیوں کو نہ نوکری اور نہ ہی جان کا تحفظ حاصل ہے ، جس کی وجہ سے صحافیوں میں اندرونی بدعنوانیوں پائی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نئی حکومت نے صحافیوں کے پیشہ ور حالات کار میں بہتری لانے کے لیے جو وعدے کیے تھے وہ ان وعدوں کے وفا ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

 کمیشن پندرہ اراکین پر مشتمل ہوگا اور اس کے اراکین میں اعلیٰ عدلیہ کے چار ریٹائرڈ جج اور وکیل، سول سوسائٹی کے چھ اور صحافیوں کے پانچ نمائندے شامل ہوں گے جبکہ کمیشن کا چیئرمن ان اراکین میں سے کسی غیر صحافی شخصیت کو مقرر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو انتہائی خطرناک حالات میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کہ پاکستان میں تین سالوں کے دوران ایک سو اسی صحافی مختلف نوعیت کی انتقامی کارروائیوں کا شکار ہوئے ۔ انہوں نے پاکستان حکومت سے ساتویں ویج بورڈ ایوارڈ کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیری رحمان نے بتایا کہ جس طرح حکومت پیمرا کے کالے قوانین ختم کر رہی ہے اسی طرح پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس میں بھی ترامیم کی جائیں گی اور مجوزہ ترامیم کا بل رواں ماہ قومی سمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت اطلاعات حادثوں یا تشدد کا شکار ہونے والے صحافیوں کے لیے ایک فنڈ بھی قائم کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صحافیوں کے ساتویں ویج بورڈ ایوارڈ کے نفاذ کی کوششیں کر رہی ہیں تاہم اس میں انہیں وقت درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی اور صحافتی ادارے ضابطہ اخلاق کے لیے خود انضباطی نظام بنائیں، وزارت اطلاعات اور حکومت معاون کا کردار ادا کرے گی۔

مظہر عباس کا کہنا تھا کہ گذشتہ سات برسوں میں پاکستان میں سینتیس صحافی قتل کئے گئے لیکن آج تک کسی بھی ادارے نے اپنے صحافی کے قتل کے معاملے کی تحقیقات نہیں کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد