BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 July, 2008, 07:52 GMT 12:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہمند ایجنسی: مغوی صحافی رہا

طالبان(فائل فوٹو)
صحافیوں کو طالبان کی ویڈیو فلم بناتے وقت اغواء کیا گیا:ترجمان طالبان
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں طالبان نے گزشتہ روز اغواء ہونے والے دو پاکستانی صحافیوں کو رہا کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے لیے جز وقتی طور پر کام کرنے والے صحافی پیر زبیر شاہ اور فوٹوگرافر اختر سومرو کو جمعہ کی صبح دس بجے صدر مقام غلنئی سے چالیس کلومیٹر شمال مغرب کی جانب تحصیل صافی کے زیارت ماربل کے علاقے سے اغواء کیا گیا تھا۔

مہمند ایجنسی میں طالبان کے ترجمان ڈاکٹر اسد نے صحافیوں کی رہائی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ دونوں صحافیوں کو ابتدائی تفتیش کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

پولٹیکل حکام کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق باہر سے آنے والے ہر صحافی کو پہلے ان کے ساتھ رابطہ کرنا چاہیے لیکن ان دونوں صحافیوں نے اپنی آمد کے متعلق انہیں آگاہ نہیں کیا تھا۔

پاکستان میں نیویارک ٹائمز کے نامہ نگار کارلوٹا گال نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مغوی صحافی ان کے اخبار کے باقاعدہ ملازم نہیں ہیں بلکہ وہ جزوقتی طور پر ان کے لیے کام کر رہے ہیں۔

پیر زبیر شاہ کا تعلق جنوبی وزیرستان سے بتایا جاتا ہے۔انہوں نےقائداعظم یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعقات میں ایم اے کیا ہے اور گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے وہ مختلف بین الاقومی اخبارات کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ایک ماہ قبل ہی نیویارک ٹائمز کے لیے جز وقتی طور پر کام شروع کیا تھا۔

اختر سومرو کا تعلق سندھ سے بتایا جاتا ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے نیویارک ٹائمز کے ساتھ بطور فوٹوگرافر منسلک ہیں۔ دو سال قبل جب نیویارک ٹائمز کی خاتون نامہ نگار کارلوٹا گال نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پاکستان کے خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کی جانب سے انہیں ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا تو اس وقت انہوں یہ دعوٰی بھی کیا تھا کہ اس دوران فوٹو گرافراختر سومرو کو سخت زدو کوب بھی کیا گیا تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ کے بعد وہاں پر صحافت ایک پر خطر پیشہ بن گیا ہے ۔ اس دوران کئی مقامی صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے اور پولٹیکل حکام ان علاقوں میں باہر سے آنے والے کسی بھی صحافی کو کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد