عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | ہندوستان اور پاکستان میں پولیو کا ابھی تک خاتمہ نہیں کیا جاسکا ہے |
قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ بعض نامعلوم مسلح افراد نے پولیو مہم میں شامل محکمۂ صحت کے ایک اہلکار کو اغواء کرلیا ہے۔ مہمند ایجنسی کے سرکاری ہسپتال کے سرجن ڈاکٹر ضیاءالرحمن خلیل نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی دوپہرگاڑی میں سوار چار نامعلوم مسلح افراد نے صدر مقام غلنئی سے تقریباً اٹھارہ کلومیٹر دور یکہ غونڈ کے مقام پر ڈاکٹر وزیر کو چوکیدار کے ہمراہ اغواء کرلیا ہے۔ ان کے مطابق مغوی ڈاکٹر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے بعد صدر مقام غلنئی واپس آرہے تھے۔ ان کے بقول اغواء کاروں نے بعد میں چوکیدار کو چھوڑ دیا تاہم ڈاکٹر وزیر کوچوبیس گھنٹے گزرنے کے باوجود بازیاب نہیں کرایا جاسکا ہے۔ایجنسی سرجن کا مزید کہنا تھا کہ مہمند ایجنسی میں پولیو کے خلاف مہم گزشتہ چار دنوں سے جاری ہے اور اس دوران انہیں کسی قسم کی کوئی دھمکی نہیں ملی ہے۔ ان کے مطابق انہیں مہمند ایجنسی کے تحصیل صافی، حلیم زئی، انبار، پنڈیالئی اور مچنی میں پولیو مہم چلانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بہت سے والدین نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کردیا ہے۔ان علاقوں کو طالبان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ قبائلی علاقے اور صوبہ سرحد کے ضلع سوات سمیت کئی اضلاع میں تشدد کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں کی وجہ سے گزشتہ دو سالوں سے پولیو مہم چلانے میں حکام کو مشکلات کا سامنا ہے۔گزشتہ سال باجوڑ میں بھی ایک ڈاکٹر کو اس وقت قتل کردیا گیا تھا جب وہ پولیو مہم کے خلاف مقامی لوگوں سے بات چیت کرنے کے بعد صدر مقام خار واپس آرہے تھے۔
|