دبئی میں نشریات بند کرنےکاحکم:جیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے نجی نیوز چینل جیو کا کہنا ہے کہ اسے دبئی انتظامیہ نے وہاں سے اپنی نشریات بند کرنے کے لیے کہا ہے۔ ٹی وی چینل نے اس کی وجہ معزول ججوں کی بحالی کے لیے حمایت اور صدر پرویز مشرف پر تنقید بتائی ہے۔ دبئی حکام کے ایک مراسلے کا حوالہ دیتے ہوئے چینل کا کہنا ہے کہ اسے کم سے کم دو ٹاک شو ’کیپٹل ٹاک‘ اور ’میرے مطابق‘ بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دبئی حکام کے مطابق یہ پروگرام دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا سبب بن رہے ہیں۔ دریں اثناء جیو نے صدر پرویز مشرف کو پیشکش کی ہے کہ وہ روزانہ یا ہفتہ وار اپنی آواز قوم تک پہنچا سکتے ہیں۔اس اشتہار میں صدر مشرف کو مخطاب ہوکر کہا گیا ہے کہ بین اقوامی میڈیا کے مطابق اگر سرکاری ٹی وی اور ریڈیو ان کے خیالات کی ترجمانی نہیں کر رہے تو وہ جیو کے ذریعے ایسا کر سکتے ہیں۔ چینل کے مطابق اس نے میزبان انتظامیہ پر واضع کیا ہے کہ دباؤ کے تحت وہ اپنا سیٹ اپ برطانیہ یا پھر ہانگ کانگ منتقل کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کے صدر پرویز مشرف اور ان کے اتحادی ٹی وی چینلوں کو ججوں کے مسئلے پر پروگرام کرنے سے روک رہے ہیں۔ جیو کے مطابق اس تازہ دباؤ کی وجہ ان کے گزشتہ دنوں سابق فوجی افسران لیفٹنٹ جنرل گلزار کیانی اور لیفٹنٹ جنرل معین الدین حیدر کے انٹرویو ہیں جن میں انہوں نے صدر سے مستعفی ہونے اور ان کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ گزشتہ برس نومبر میں ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد ’کیپیٹل ٹاک‘ بند رہاجومارچ میں دوبارہ شروع ہوا۔’میرے مطابق‘ کی بھی صورتحال تقریباًیہی تھی۔ وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کل صحافیوں کو بتایا تھا کہ ان کی حکومت کا پروگراموں کی بندش سے کچھ لینا دینا نہیں۔ صحافیوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی عالمی تنظیموں نے متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو کو مبینہ طور پر دھمکانے پر احتجاج کیا ہے۔ آر ایس ایف یا رپورٹرز سانس فرنٹئرز (سرحد بناء صحافی) نے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع اپنے ہیڈکوارٹر سے جاری کردہ ایک بیان میں تنظیم نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں کہ جیو ٹی وی کو کس وجہ سے حالات حاضرہ کے دو پروگرام بند نہ کرنے کی صورت میں اسکا لائسنس منسوخ کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ دوسری طرف انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) نے بھی دوبئی حکام کے اس اقدام پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”جیو ٹی وی پر اس تازہ پابندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں کے مابین میڈیا کی آزادی کے خلاف وہ معاہدہ اب بھی برقرار ہے جو پچھلے سال پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد منظر عام پر آیا تھا جب پاکستان نے دوبئی حکام سے آزاد ٹی وی چینلز پر دباؤ ڈلوایا تھا۔‘ | اسی بارے میں دبئی: جیو کی نشریات بحال30 November, 2007 | پاکستان ’جیو‘ ٹیلی ویژن کی بین الاقوامی نشریات بھی بند ہو رہی ہیں16 November, 2007 | پاکستان جیو نشریات کو بحال کرنے کا حکم20 January, 2008 | پاکستان سپریم کورٹ: جیو، جنگ کی طلبی09 May, 2008 | پاکستان فوجیوں پر مقدمہ چلائیں، فوجیوں کا مطالبہ04 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||