’سوات: طالبان کی متوازی حکومت‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شورش زدہ علاقے سوات میں اگر طالبان کا اثر و رسوخ پورے ضلع پر نہیں ہے تو ان کی عملداری اسی فیصد علاقے پر ہے۔ ان کی یہ عملداری ان کی اپنی عدالتوں، ملیشیا اور ایف ایم ریڈیو کے ذریعے قائم کی گئی ہے۔ سوات میں سنہ دو ہزار چار میں میں مولانا فضل اللہ کا ایف ایم چینل شروع ہو گیا اور اس ایف ایم چینل پر مغرب کے خلاف، امریکہ کے خلاف، حفاظتی ٹیکوں کے خلاف، لڑکیوں کی پڑھائی کے خلاف خطبے دیے گئے۔ لیکن چونکہ یہ خطبے درس پر مشتمل تھے تو لوگوں نے اس کی مخالفت نہیں کی۔ لیکن پھر بات حد سے بڑھتی گئی تو سنہ دو ہزار چھ میں ڈی سی او کے دفتر میں جرگہ کیا گیا۔ اس جرگے میں ڈی سی او نے جرگے کو باور کروایا کہ مولانا فضل اللہ نے اس بات کی خود تردید کی ہے کہ انہوں نے اس قسم کی باتیں نہیں کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل اللہ قرآن پڑھاتا ہے تفسیر سناتا ہے اور مذہب کی طرف ترغیب دیتا ہے۔ انہوں نے جرگے کو یقین دلایا کہ وہ بے فکر رہیں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ لیکن جب سنہ دو ہزار چھ کے آخر میں مقامی پولیس نے انتظامیہ کے ساتھ فضل اللہ کے خلاف آپریشن کرنے کا ارادہ کیا۔ لیکن اس وقت کی صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے صلح کروائی اور ایک جرگہ کروایا۔ اس جرگے میں انتظامیہ اور مولانا فضل اللہ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت فیصلہ ہوا ہے فضل اللہ کو حکومت کی عملداری کا احترام، حکومتی اداروں کا احترام، پولیس اور فوج پر حملہ نہیں کریں گے، حفاظتی ٹیکے لگوانے سے لوگوں کو نہیں روکیں گے اور لڑکیوں کو سکول جانے سے نہیں روکیں گے۔ اس کے علاوہ اس معاہدے میں کئی اور شقیں بھی تھیں۔ سنہ دو ہزار سات کے آخر تک خودکش حملے، سکولوں پر حملے اور اغوا کے واقعات میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس کے علاوہ مولانا فضل اللہ اور ان کے ساتھیوں کے ہر وادی اور ہر درے میں پندرہ سے زائد ایف ایم چینل چل رہے تھے۔ مقامی انتظامیہ نے ایک بار پھر مولانا فضل اللہ کے خلاف کارروائی کا ارادہ کیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ضلع سوات میں سیاحت کو بے حد نقصان پہنچا اور مقامی لوگوں نے انتظامیہ پر دباؤ ڈالا۔ اس دباؤ کے نتیجے میں پولیس اور نیم فوجی دستوں نے مشترکہ کارروائی شروع کی۔ پھر نومبر دو ہزار سات میں سوات کے معتبرین، ایم این اے اور ایم پی اے کا جرگہ اس وقت کے وزیر اعلٰی اکرم درانی کے پاس گیا اور مطالبہ کیا کہ اس بدامنی سے نجات دلائی جائے۔ اس پر وزیر اعلٰی نے وفاقی حکومت سے فوج بھیجنے کی درخواست کی اور فوج ایک محدود مینڈیٹ کے ساتھ سوات میں آئی۔ فوج کی تعیناتی کے بعد فوج نے ایک بریفنگ دی جس میں کہا گیا کہ دو ہفتے میں سوات میں امن لے آئیں گے۔ تاہم اس آپریشن کے دوران خودکش حملے، سکولوں پر حملے اور اغوا کے واقعات ہوتے رہے اور این جی اوز نے کام کرنا بند کردیا، سرکاری دفاتر بہت حد تک محدود ہو کر رہ گئے، مٹہ، کبل، چارباغ اور خواذہ خیلا جیسے علاقوں میں حکومت کی عملداری ختم ہو گئی اور ایک اور طالبان کی حکومت قائم ہو گئی۔ نومبر دو ہزار سات سے جنوری دو ہزار آٹھ تک جو کارروائی کی گئی اس میں کبل، چارباغ اور امام ڈھیری کے علاقے میں بمباری کی گئی۔ لیکن ان کارروائیوں میں دیکھا گیا کہ زیادہ دشواری عام لوگوں کو ہوئی۔ عوام کو تکلیف ان کارروائیوں میں ہونے والے ان کے نقصان اور کرفیو وغیرہ سے تھی۔ ان لوگوں نے بھی مطالبہ کیا کہ اگر فضل اللہ کا شریعت کا مطالبہ مان لیا جائے تو امن آ سکتا ہے۔
دوسری طرف مولانا فضل اللہ نے اس فوجی آپریشن کے دوران امام ڈھیری میں اپنا ہیڈ کوارٹر چھوڑ کر اپر سوات میں پیوچار کے علاقے میں چلے گئے۔ عوام کا سوچنا یہ تھا کہ سکیورٹی فورسز نے ایک بڑا کارنامہ انجام دیا ہے کہ مولانا فضل اللہ کا ہیڈ کوارٹر خالی کرا لیا ہے اور اب سوات میں امن آ جائے گا۔ جنوری دو ہزار آٹھ کے پہلے ہفتے میں فوج نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنا ہدف پا لیا ہے۔ پھر آپریشن کی شدت میں کمی واقع ہوئی۔ شدت کی کمی کے ساتھ تین باتیں مشاہدے میں سامنے آئیں جو کہ بہت اہم ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ دو ہزار سات سے قبل مولانا فضل اللہ اور ان کے ساتھیوں کو مقامی مزاحمت کار کہا جا سکتا تھا۔ ان کے قصے نہایت مقامی تھے۔ اس وقت ایسا کہا جا سکتا تھا کہ ان کا تعلق باجوز یا شانگلہ کے جنگجوؤں کے ساتھ تعلق ہے جو کہ انہی کی طرح جہادی فلسفے پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن ان کا تعلق کسی طرح بھی وزیرستان کے طالبان کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا تھا۔ لیکن جنوری دو ہزار آٹھ میں فوجی آپریشن کی شدت میں کمی کے بعد یہ بات مشاہدے میں آئی کہ وزیرستان سے اہم ٹرینر جیسے کہ خودکش حملوں کے ٹرینر اور لڑائی کے ٹرینر سوات میں دکھائی دیے۔ اور اسی دوران پیوچار میں دو تربیتی کیمپوں کے وجود کا بھی پتہ چلا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ مولانا فضل اللہ جن کا دو ہزار سات تک نیٹ ورک مقامی سطح کا تھا ان کے روابط عالمی جنگجوؤں کے ساتھ ہو گئے۔ شدت کی کمی کے ساتھ دوسری اہم بات جو سامنے آئی وہ یہ تھی کہ مولانا فضل اللہ نے مقامی گروہوں وغیرہ کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ جو ان کے ساتھ نہیں ملے ان کو یا تو مروا دیا گیا یا پھر علاقہ بدر کروا دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ فضل اللہ نے سوات میں عدالتیں قائم کردیں جو کہ لوگوں کے مسائل کا فوری حل تلاش کرتی تھیں اور لوگوں کو فوری انصاف مہیا کرتی تھیں۔ یعنی مولانا فضل اللہ نے وہ تمام کام شروع کردیے جو کہ سنہ دو ہزار تین اور چار میں وزیرستان میں دیکھنے کو آئے۔ وہاں بھی ایسے ہی مقامی گروہوں کو ساتھ ملایا گیا اور وہاں بھی فوری انصاف مہیا کرنے کے لیے عدالتیں قائم کی گئیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ شروع کی گئی جو سیاسی، سماجی اور ثقافتی حوالے سے اس مرتبے پر تھے کہ لوگ ان کی بات سنتے۔ شدت کی کمی کے ساتھ تیسری اہم بات جو سامنے آئی وہ یہ تھی کہ فضل اللہ نے کارروائی کے حوالے سے مختلف فرنٹ کھول دیے۔ مٹہ یا پیوچار سے پہلے ہی لڑائی کا فرنٹ کھلا ہوا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ کبل اور چارباغ سے فرنٹ کھول دیے۔ اس کے علاوہ لوئر سوات میں شموزئی اور بری کوٹ میں بھی طالبان دکھائی دینے لگے اور ان کی کارروائیاں شروع ہو گئیں جیسے کہ پرائمری سکول اڑا دیے۔ دراصل فوجی آپریشن کے دوران ان کا نیٹ ورک اور ان کی قیادت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اور یہ آپریشن سے قبل کا تسلسل تھا جو کہ مزید مضبوط ہو کر سامنے آیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا فوری انصاف کا پروگرام محدود ہونے کی بجائے اور پھیل گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے جگہ جگہ فون نمبر چھوڑے ہوئے تھے۔ اور ایک وقت ایسا بھی تھا کہ سوات طالبان کے ترجمان مسلم خان کا نمبر منگورہ کے بچے بچے کو یاد تھا اور وہ اکثر کھیلتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ایسا نہ کرو یا ویسا نہ کرو نہیں تو مسلم خان کو فون کردوں گا۔ اس وقت سوات میں دو ایف ایم چینل ہیں۔ ایک مولانا فضل اللہ کا اور دوسرا ان کے قریبی ساتھی شاہ دران کا۔ فضل اللہ کے ایف ایم پر ان کا لہجہ ذرا نرم ہوتا ہے جبکہ شاہ دران کے ایف ایم کا لہجہ نہایت سخت۔ فضل اللہ اثر و رسوخ کا یہ حال ہے کہ لوگ اس کا ایف ایم اس لیے سنتے ہیں کہ فتووں کے بارے میں معلوم ہو کہ کہیں غلطی نہ ہو جائے۔ ان کے ایف ایم پر ہی ایک لوئر دیر میں تعویذ دینے والے کا ذکر کیا گیا تو وہ لوگوں کو کہتا پھرے کہ مولانا فضل اللہ تک پیغام پہنچا دے کوئی کہ اس نے یہ کام چھوڑ دیا ہے اور وہ مسلمان ہو گئے ہیں۔ وہ شخص پھر منگورہ گئے اور انہوں نے اپنی صفائی پیش کی۔
سوات میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ ان کو بنایا جاتا ہے جو شخص کا اتنا اثر و رسوخ ہو کہ وہ ان کی مخالفت کرسکے۔ اور اسی لیے اگر دیکھا جائے تو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ وہ لوگ بنے جو پیپلز پارٹی یا اے این پی سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسری طرف جماعت اسلامی، جمیعت علمائے اسلام جمیعت اہلحدیث جیسی مذہبی جماعتوں کے کوئی رکن ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ نہیں بنے۔ لیکن ایسے علماء کو ہلاک کیا گیا جو کہ طالبان کا کارروائی کے خلاف تھے۔ اب سوات میں طالبان کی عدالتیں تقریباً سارے اپر سوات میں ہیں جبکہ ان کی عدالت عظمیٰ پیوچار میں ہے۔ اگر کسی بھی شخص کو مقامی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنی ہو تو وہ پیوچار میں کر سکتا ہے جہاں فضل اللہ اور مسلم خان وغیرہ بیٹھے ہیں۔ بری کوٹ سے لے کر میادم تک اور دیر کی سرحد سے لے کر کوہستان کی سرحد تک لوگوں کے فیصلے طالبان کی عدالت ہی کراتی ہے اور ریاستی ادارے موجود نہیں ہیں۔ سوات میں کوئی فعال ریاست موجود نہیں ہے اور ایک متوازی نظام فضل اللہ اپنی عدالتوں، اپنی ملیشیا کے ذریعے اور اپنے فتوے اور ایف ایم ریڈیو کے ذریعے چلا رہے ہیں۔ خادم حسین بحریہ یونیوسٹی، اسلام آباد میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ شدت پسندی، علاقائی تعاون، ترقیاتی منصوبہ بندی اور دفاعی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ آریانہ انسٹیٹیوٹ فار ریجنل ریسرچ اینڈ ایڈوکیسی کے رابطہ کار بھی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||