سوات، ’ٹارگٹ کلنگ‘ کا نیا سلسلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں برسرِ پیکار سکیورٹی فورسز اور مسلح طالبان کے درمیان جاری لڑائی نے اب ایک نئی شکل اختیار کرلی ہے جہاں پر مختلف مقامات سے تقریباً ہر روز اوسطاً چار لاشوں کا ملنا اب ایک معمول سا بن گیا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران سوات کے مختلف علاقوں سے پینتیس سے زائد افراد کی لاشیں ملی ہیں جن میں سے ایک رقاصہ اور بھکارن سمیت کئی خواتین بھی شامل ہیں۔ ہلاکتوں کی یہ واردادتیں عموماً رات کو ہوتی ہیں اور صبح ہوتے ہی مقامی لوگوں کو لاشیں نظر آجاتی ہیں۔زیادہ تر لاشیں سوات کے وسط میں واقع گرین چوک سے ملی ہیں۔گرین چوک اب لوگوں کے خون سے رنگ کر سرخ چوک میں بدل چکا ہے جس سے بعض مقامی افراد ’قتل گاہ‘ کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ’ٹارگٹ کلنگ‘ کے بعد لاش کو گرین چوک میں پھینکنے سے ان وارداتوں میں مبینہ طور پر ملوث افراد کا مقصد بظاہر شہریوں پر اپنی وحشت اور بربریت ظاہر کر کے انہیں مزید خوفزدہ کرنا ہے۔ ابھی تک جتنی بھی لاشیں ملی ہیں انکے بارے میں عمومی تاثر یہی تھا کہ ان وارداتوں میں مسلح طالبان ممکنہ طور پر ملوث ہوسکتے ہیں۔اسکی دلیل یہی تھی کہ طالبان نے بعض ہلاکتوں کی ذمہ داریاں بھی قبول کرلی تھیں۔
جن افراد کو مارا گیا ہے ان میں سے بعض ایسے پیشوں سے مبینہ طور پر منسلک تھے جنہیں طالبان نے غیر اسلامی قرار دیکر مرتکب افراد کو سزائیں دینے کی دھمکیاں دی تھیں۔ان میں منشیات، رقص و سرود کی محفلیں سجانے، چوری، ڈکیتی، مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث ہونا، غیر منکوحہ خواتین کو رکھنا وغیرہ شامل تھے۔ لیکن لاشیں ملنے کے حوالے سے تصویر کا دورسرا رخ اس وقت سامنے آیا جب دو دن قبل طالبان ترجمان مسلم خان نے گرین چوک اور اوڈی گرام میں ملنے والے تین افراد کی لاشوں کے بارے میں الزام لگایا کہ یہ انکے ساتھی تھے جو گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے سکیورٹی فورسز کی حراست میں تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان افراد کو ٹارچر کرکے مارا گیا ہے۔ اگلے دن یعنی اتوار کو طالبان نے جواب میں دو ایف سی اہلکاروں کو گلا کاٹ کر ماردیا اور کہا کہ یہ انکے ساتھیوں کے قتل کا بدلا ہے۔ ایک اور واقعہ میں منگل کے روز ایک حکومتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ رات مسلح طالبان نے تحصیل مٹہ کے کالج چوک میں ان پانچ اہلکاروں کو گولیاں مار کر قتل کردیا جنکو کچھ عرصے قبل انہوں نےاغواء کیا تھا۔ان میں سے ایک اہلکار زندہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔
سوات میں ہونے والی’ٹارگٹ کلنگ‘ میں سکیورٹی فورسز کی مبینہ طور پر ملوث ہونے کے حوالے سے آزاد ذرائع کے ذریعے جب حقائق جاننے کی کوشش کی تو یہ بات سامنے آئی کہ گزشتہ روز جن تین افراد کی لاشیں ملی تھیں وہ ایک ماہ سے سکیورٹی فورسز کی تحویل میں تھے۔ ان تنیوں افراد کو سکیورٹی فورسز نےعید الاضحٰی سے چند روز قبل فضاء گٹ کے مقام سے گرفتار کیا تھا۔ علاقے کے معتبرین نے اس سلسلے میں ضلعی رابطہ افسر اور سکیورٹی فورسز کے بعض اعلٰی حکام سے ملاقاتیں کیں کہ یہ سبھی افراد عام شہری ہیں جن کا طالبان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان ملاقاتوں میں شریک ایک مقامی شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان افراد کے نام عصمت علی، اقبال سید اور جاوید ہیں جو منگلور کے علاقے کے باشندے ہیں۔ان میں سے عصمت علی مینگورہ میں واقع اباسین مارکیٹ کے لاہور ٹیوب ویل کی دوکان میں کام کتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقاتوں کے دوران انہیں کہا گیا کہ یہ افراد مبینہ طور پر طالبان کو گاڑیوں میں ایک جگہ سے دوسرے جگہ منتقل کرنے میں مدد فراہم کرتے تھے۔ ان کی رہائی کی کوششوں میں شامل ایک اور شخص نے بتایا کہ ان افراد کی لاشوں کو دیکھ کر ہمیں بہت بڑا دھچکا پہنچا ہے کہ علاقے میں جاری’ ٹارگٹ کلنگ‘ میں ہلاک ہونے والوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو سکیورٹی فورسز کی تحویل میں تھے۔ تاہم مسلم خان کے اس الزام کے بعد سوات میں قائم سرکاری میڈیا سینٹر کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان الزامات کی تردید کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||