BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 January, 2009, 08:11 GMT 13:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان کی ’شرعی عدالتیں‘ دوبارہ

فائل فوٹو
طالبان ترجمان کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ اپنے مسائل لے کر عدالت کے سامنے پیش ہورہے ہیں۔
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں فوجی آپریشن کے جاری رہنے کے باوجود زیادہ تر علاقوں میں طالبان کی جانب سے قائم کی جانے والی مبینہ’ شرعی عدالتوں‘ نے دوبارہ کام شروع کردیا ہے۔

سوات میں طالبان ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انکی جانب سے قائم ہونے والی مبینہ’ شرعی عدالتیں‘ تحصیل مٹہ، خوازہ خیلہ، کبل اور دیگر علاقوں میں اب دوبارہ سے فعال کردی گئی ہیں۔ان کے بقول ہر علاقہ میں طالبان نے تین تین علماء پر مشتمل ایک’ شرعی بنچ‘ تشکیل دی ہے جو لوگوں کی جانب سے لائے گئے کیسز کے فیصلے’ شریعت‘ کے مطابق کرواتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان علماء کے سامنے اپنے آپس کے قضیے پیش کرتے ہیں جنہیں کم سے کم ایک دن میں حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ ان کے پاس لوگ اتنی بڑی تعداد میں آرہے ہیں کہ انکے کیسز کی سماعت کے لیے انہوں نے بعض لوگوں کو دو ماہ کا وقت بھی دے رکھا ہے۔

اس سلسلے میں جب صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین سے رابطہ کیا گیا تو انہوں اس بات کو رد کردیا کہ طالبان کی عدالتیں دوبارہ فعال ہوگئی ہیں۔

 سوات میں طالبان ترجمان مسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انکی جانب سے قائم ہونے والی مبینہ’شرعی عدالتیں‘ تحصیل مٹہ خوازہ خیلہ، کبل اور دیگر علاقوں میں اب دوبارہ سے فعال کردی گئی ہیں۔ان کے بقول ہر علاقہ میں طالبان نے تین تین علماء پر مشتمل ایک’ شرعی بنچ‘ تشکیل دی ہے جو لوگوں کی جانب سے لائے گئے کیسز کے فیصلے’ شریعت‘ کے مطابق کرواتے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ طالبان دہشت پھیلاتے ہیں اور لوگ ان سے متنفر ہوچکے ہیں لہذا کوئی بھی شخص ان کے پاس جانے کی خواہیش نہیں رکھ سکتا۔

تاہم آزاد ذرائع نے بی بی سی کو طالبان کی عدالتوں کے دوبارہ فعال ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔انکا کہنا ہے کہ صدر مقام مینگورہ کے علاوہ سوات کے زیادہ تر علاقوں کے مساجد میں طالبان کی جانب سے اس قسم کی عدالتیں مساجد میں لگائی گئی ہیں۔

ان کے مطابق طالبان زبردستی لوگوں کو اس بات پر مجبور نہیں کرتے کہ وہ انکے پاس اپنے کیسز لے کےجائیں بلکہ فوری اور سستی انصاف کے حصول کے لیے وہ خود ان عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں۔

صوبائی وزیر میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ سوات میں مبینہ شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے پہلے سے قائم شرعی عدالتوں کو مزید مؤثر بنانے کے لے نظامِ عدل ریگولیشن انیس سو ننانوے کا جو ترمیمی مسودہ مرکزی حکومت کو بھیجا گیا تھا۔ اس میں کالعدم تحریکِ نفاذ شریعت محمدی کے رہنماء مولانا صوفی محمد کی تجاویز کو شامل کرنے اور بعض دیگر ٹیکنیکل خامیاں دور کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے واپس منگوالیا ہے۔

ان کے بقول صوبائی حکومت اس سے اب بہت جلد گورنر کے ذریعے سیفران اور صدر مملکت کے پاس بھیج دے گی۔

یاد رہے کہ سوات میں مولانا فضل اللہ کی جانب سے قائم ہونے والی مبینہ’شرعی عدالتیں‘ فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد غیر فعال ہوگئی تھیں مگر اب کچھ عرصے سے طالبان کی بڑھتی ہوئی قوت کے بعد’ شرعی عدالتوں‘ کے علاوہ باقی سرگرمیاں بھی تیز ہوگئی ہیں۔

دریں اثناء سوات ہی گزشتہ شب تحصیل خوازہ خیلہ کے علاقے شین میں واقع لڑکوں کےہائی سکول کو نامعلوم مسلح افراد نے نذرِ آتش کردیا ہے۔اس واقعہ میں ملوث ہونے کا شک طالبان پر کیا جارہا ہے تاہم انہیں نے تاحال اسکی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

سواتغیر فعال ریاست
سوات میں طالبان کی متوازی حکومت:محقق
اورکزئی(فائل فوٹو)پشاور سے اورکزئی
طالبان سے ملاقات کے کٹھن سفر کا احوال
 لشکرخطرے کی گھنٹی
طالبان مخالف لشکر کو درپیش مشکلات
اسی بارے میں
شرعی عدالتوں کا نظام بہتر
27 September, 2008 | پاکستان
مذہبی جماعتیں اور چھچوندر!
07 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد