شرعی عدالتوں کا نظام بہتر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں بائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل مخلوط حکومت نے نظام عدل ریگولیشن میں اصلاحات کے مسودے کو حتمی شکل دیدی ہے تاکہ سوات میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے شرعی عدالتوں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔ صوبہ سرحد کے وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں لوگوں کو فوری انصاف فراہم کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے نظام عدل ریگولیشن انیس سوننانوے میں متعدد ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے بقول اس مسودے پر صدرِ پاکستان کے دستخط ہو جانے کے بعد اسے نظام عدل ریگولیشن دو ہزار آٹھ کہا جائے گا جس پر اس سال دسمبر تک عملدرآمد ہوگا۔
ان کے بقول مسودے میں اہم تجویز یہ پیش کی گئی ہے کہ شرعی عدالت میں سول مقدمات کے فیصلہ چھ مہینے کے اندر اور فوجداری کے چار ماہ میں کیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مقدمے سے قبل قاضی فریقین کو پندرہ دن کی مہلت دیگا تاکہ عدالت سے باہر مسئلے کا حل نکالا جاسکے۔ تاہم بقول ان کے اگر ضروری سمجھا گیا تو قاضی اس میں مزید پندرہ دن کا اضافہ کرسکتے ہیں۔ ان کے بقول ضلع سوات میں ہائی کورٹ کا ایک شرعی اپیلیٹ بینچ بھی قائم کیا جارہا ہے جس کے فیصلوں کو حتمی تصور کیا جائے گا۔ ان کے بقول صوبائی حکومت نے شرعی عدالتوں کے لیے علاقہ قاضیوں کی تعداد بڑھا کر چھ جبکہ ایڈیشنل قاضی کی چورانوے کردی ہے اور اس کے علاوہ ان قاضیوں کی معاونت کے لیے پانچ سو سندیافتہ علماء کو بھی بھرتی کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اور قاضیوں کی جانب سے مقدمات میں تاخیری حربے استعمال کرنے کا بھی سدباب کیا گیا ہے جس کے مطابق پولیس کے بروقت چالان جمع نہ کرنے کی صورت میں ذمہ داران سے جواب طلبی ہوگی۔ سوات میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ مالا کنڈ ڈویژن اور ضلع کوہستان میں شرعی عدالتوں میں بہتری لانے کے حوالے سے اس حکومتی اقدام کا مقصد وہاں کے مخصوص حالات سے نمٹنا ہے۔ ان کے بقول شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت سیاسی اور معاشی اقدامات بھی کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سوات میں ہم حالت جنگ میں ہیں اور پاکستان کے دشمن عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول اس حالت میں حکومت کی مجبوریوں کو سامنے رکھ کر زیادہ توقعات نہ رکھی جائیں اور حکومت حالات پر قابو پانے کے لیے بھرپور کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس ترمیمی مسودے کے ذریعے کینگرو کورٹس نہیں بنا رہی ہے بلکہ پہلے سے موجود نظام عدل ریگولیشن میں اصلاحات کررہی ہے اور وہاں پر مصبت نتائج آنے کے بعد صوبے کے باقی اضلاع میں بھی شرعی عدالتیں قائم کی جاسکتی ہیں۔
اس سے قبل وزیر اعلی نے ملاکنڈ لاویژن سے منتخب ہونے والے قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین اسمبلی، ضلعی ناظمین، سیاسی اور سماجی معتبرین کے ساتھ ایک جرگہ کیا جس میں اس مسودے پر سیر حاصل بحث ہوئی اور انہیں اعتماد میں لیا گیا۔ انیس سو نوے کی دہائی میں کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے سینکڑوں مسلح کارکنوں نے ملاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام کے نفاذ کے مطالبے کے حق میں حکومتی املاک پر قبضہ کرلیا تھا جس کے بعد اس وقت کی صوبائی حکومت نے شرعی عدالتیں قائم کی تھیں۔ تاہم کچھ عرصے بعد تنظیم کے سربراہ مولانا صوفی محمد نے ان عدالتوں کی کارکردگی پر اعتراضات کی تھے۔ سوات میں حالیہ شدت پسندی کے بعد نومنتخب صوبائی حکومت نے مولانا صوفی محمد کو جیل سے رہا کردیا تھا اور مولانا فضل ا اللہ کی سر براہی میں سکیورٹی فورسز سے برسِر پیکار طالبان کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے میں تین ماہ کے دوران شریعت کے نفاذ کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم تین ماہ گزرنے کے بعد طالبان کے ساتھ معاہدے کے بظاہر ٹوٹ جانے کے بعد صوبائی حکومت نے شرعی نطام کے نفاذ کے لیے ان عدالتی اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔ طالبان نے کہا تھا کہ صوبائی حکومت کے اس اقدام کی اس وقت حمایت کی جائے گی جب مولانا صوفی محمد اس کی منظوری دیدیں مگرغیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مولانا صوفی محمد نے حکومت کی جانب سے بھیجے جانے والے اس مسودے کو رد کردیا ہے۔ تاہم وزیر اعلی نے کہا کہ انہوں نے مولانا صوفی محمد سے مشاورت کی ہے اور آئندہ بھی کیا کریں گے۔ | اسی بارے میں قبائلی علاقوں میں ’شرعی‘ عدالتیں 15 July, 2008 | پاکستان سوات میں چوروں کو کوڑوں کی سزا18 September, 2008 | پاکستان حکام سے عاصمہ جہانگیر کی اپیل25 September, 2008 | پاکستان سوات میں مزید دو سکول نذرِ آتش24 September, 2008 | پاکستان ’مردہ بھینس بیچنے پر کوڑوں کی سزا‘25 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||