BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 October, 2008, 16:54 GMT 21:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذہبی جماعتیں اور چھچوندر!

طالبان
آج انتہا پسند گروہ مذہبی جماعتوں کے لئے سیکولر قوتوں سے زیادہ بڑا خطرہ بن چکے ہیں

اب سے چند برس پہلے تک پاکستان میں نفاذِ شریعت کا نعرہ ان مذہبی سیاسی جماعتوں کی میراث تھا جو اپنے مقصد کے حصول کے لئے مسلح جدوجہد کے بجائے سیاسی راستہ اختیار کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔ تاہم انیس سو اسی سے جاری افغان بحران ، کشمیر کی صورتحال، خلیج کی دو جنگوں اور پھر نائن الیون نے پوری دنیا میں جو ریڈیکل فضا پیدا کی ہے اس نے مذہبی سیاسی جماعتوں کے بارے میں اس تاثر کو مزید بڑھاوا دیا ہے کہ یہ جماعتیں سیاست کی منڈی میں صرف اپنا سودا بیچنے اور حصولِ مراعات کے لئے شریعت کے نفاذ کا نعرہ لگاتی ہیں۔

اس تاثر کے سبب جو خلا پیدا ہوا اسے وہی مسلح گروہ بھر رہے ہیں جنہیں مسلح جدوجہد کی راہ پر لگانے کا کام بھی انہی روایتی مذہبی سیاسی جماعتوں نے یہ سوچ کر دیا تھا کہ یہ مسلح گروہ ہمیشہ ان کے نظریاتی دستِ نگر رہیں گے۔ لیکن آج یہ گروہ ان مذہبی جماعتوں کے لئے سیکولر قوتوں سے زیادہ بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ جبکہ مذہبی جماعتوں کو شدت پسندی کی یہ چھچوندر نہ نگلتے بن رہی ہے اور نہ اگلتے۔

دو مختلف مثالوں سے ان جماعتوں کا المیہ سمجھنے میں شاید آپ کو مدد مل سکے۔

طالبان
مذہبی جماعتوں نے کبھی دوٹوک موقف نہیں اپنایا کہ وہ خرگوش کے ساتھ ہیں یا شکاری کے ساتھ

پہلی مثال سری لنکا کی ہے جہاں سن ستر کے عشرے تک تامل خودمختاری کا نعرہ تامل یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ ( ٹی یو ایل ایف) کی میراث تھا۔ ٹی یو ایل ایف سری لنکا کی قومی سیاست کے اندر رہتے ہوئے خودمختاری کی جدوجہد پر یقین رکھتی تھی۔ لیکن جب مایوس تامل نوجوانوں کے ایک گروہ نے پربھاکرن کی قیادت میں لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام ( ایل ٹی ٹی ای) کے پلیٹ فارم سے ایک علیحدہ تامل ریاست کے قیام کے لئے بندوق اٹھائی تو تامل یونائٹڈ فرنٹ نے تامل کمیونٹی میں انتہا پسندانہ رحجہانات کے تدارک اور متبادل سیاسی راستہ اور حکمتِ عملی تجویز کرنے کے بجائے خاموشی اور مصلحت کا راستہ اختیار کیا۔اس سے تامل کمیونٹی کو یہ پیغام ملا کہ مقاصد کے حصول کے لئے مسلح جدو جہد ہی واحد راستہ ہے۔چنانچہ تامل ٹائیگرز نے تاملوں کی واحد آواز بننے کے لئے سب سے پہلے اعتدال پسند ٹی یو ایل ایف کی قیادت کا صفایا کیا اور پارٹی کے صدر امرتا لنگھم سمیت متعدد رہنما قتل کر دیئے گئے۔اسکے بعد ٹائیگرز نے چھوٹے گروہوں کا صفایا کیا۔ بقیہ گروہ یا تو معدوم ہوگئے یا پھر ٹائگرز کا حصہ بن گئے۔اور آج ٹی یو ایل ایف کا سیاسی وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ایک جانب تامل ٹائگرز ہیں تو انکے مدِمقابل سری لنکا کی سنہالہ اکثریتی حکومت ہے۔ اور دونوں بات چیت سے مسئلے کے حل کی بجائے بندوق کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔اس صورتِ حال میں آج کا سری لنکا ساٹھ ہزار سے زائد لاشیں گرنے کے نتیجے میں بیس برس پہلے کے سری لنکا کے مقابلے میں ایک زیادہ متحارب اور سیاسی طور پر کھوکھلا معاشرہ بن چکا ہے۔

دوسری مثال الجزائر کی ہے جہاں دسمبر انیس سو اکیانوے میں اسلامک سالویشن فرنٹ ( ایف آئی ایس ) نے پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے میں اکثریت حاصل کی تو سیکولر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ وجہ یہ تھی کہ فرنٹ نے نفاذِ شریعت کا نعرہ لگایا تھا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ ڈرانے والی وجہ یہ تھی کہ اسلامک فرنٹ نے اس بارے میں کبھی واضح موقف نہیں اپنایا کہ آیا وہ کثیر الجماعتی نظامِ جمہوریت پر یقین رکھتا ہے یا پھراقتدار ملنے کی صورت میں وہ ملک کو یک جماعتی مذہبی آمریت میں ڈھالنے کی کوشش کرے گا۔یہ خدشات رفع کرنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ نے ڈائلاگ کے بجائے طاقت کا سہارا لیا اور انتخابی نتائج کالعدم قرار دے دیے۔ جب سیاسی راستہ بند ہوا تو اعتدال پسند اسلامک فرنٹ کے کچھ ریڈیکل حامیوں اور افغان جنگ سے واپس آنے والے جہادی عناصر نے الجماع الاسلامیہ المسلح ( جی آئی اے) کے نام سےبندوق اٹھالی۔ان عناصر نے ایک جانب تو الجزائری اسٹیبلشمنٹ کو ہدف بنایا اور ساتھ ہی ساتھ اسلامک فرنٹ کی اعتدال پسند قیادت کے بھی پیچھے پڑ گئے۔فرنٹ کے بانی عبدالقادر ھشانی اور عبدالباقی سروہی کو قتل کر دیا گیا۔فرنٹ کے ایک اور کلیدی رہنما ربا کبیر کو دھمکیاں ملتی رہیں۔جی آئی اے نے’سیاسی کثیرالجہتی غداری ہے‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے کار بم دھماکوں ، مخالف دیہاتوں کے صفائے، غیرملکیوں، صحافیوں ،موسیقاروں، کھلاڑیوں، بے حجاب عورتوں اور دانشوروں کے قتل اور مغویوں کے سر قلم کرنے کو اپنا وطیرہ بنا لیا۔مخلوط تعلیم کے اداروں کو خاص طور سے نشانہ بنایا گیا۔جی آئی اے نے اعلان کیا کہ الجزائر میں اگر نفاذِ شریعت ہونا ہے تو اسکا راستہ صرف مسلح جہاد ہے ۔اور معاشرہ اگر انکا ساتھ نہیں دیتا تو یہ معاشرہ بھی مشرک، قابلِ تعزیر اور ایک جائز ہدف ہے۔ان حالات میں اعتدال پسند اسلامک سالویشن فرنٹ کے کچھ رہنما روپوش ہوگئے، کچھ سرکاری قید خانوں میں رہے اور بعض نے انتہاپسند جی آئی اے میں شمولیت اختیار کر لی۔

طالبان
طالبان اب کسی کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں

خانہ جنگی میں جب ہزاروں لوگ مرگئے تو حکومت کے قیدی اسلامک فرنٹ کے دو کلیدی رہنماؤں عباسی مدنی اور علی بالحج نے اعلان کیا کہ فرنٹ کثیر جہتی اور کثیر الجماعتی سیاست پر یقین رکھتا ہے۔ لیکن یہ اعلان اسوقت ہوا جب تصویر میں صرف الجزائری سیکولر اسٹیبلشمنٹ اور انتہا پسند جی آئی اے باقی رھ گئی تھی اور اسلامک سالویشن فرنٹ سیاسی طور پر غائب ہوچکا تھا۔اگر فرنٹ یہی اعلان انیس سو اکیانوے کے انتخابات سے پہلے کردیتا تو نہ صرف ایک خونی خانہ جنگی سے بچا جا سکتا تھا بلکہ فرنٹ شاید اسی طرح برسرِ اقتدار آ جاتا جس طرح ترکی میں آک پارٹی کو اقتدار ملا۔ آج جی آئی اے کی کمر ٹوٹ چکی ہے ۔اسلامک سالویشن فرنٹ کی قیادت بھی آزاد ہے ۔لیکن الجزائری سیاست میں سرکردہ موثر کردار سے محروم ہوچکی ہے۔

سری لنکا کی خونی قوم پرستی اور الجزائر میں مذہب کے نام پر دھشت گردی کے آئینے میں اگر پاکستان کو دیکھنے کی کوشش کی جائے تو یہاں کی اعتدال پسند مذہبی سیاسی جماعتیں بھی شائد وہی غلطی کر رہی ہیں جو تامل یونائیٹڈ فرنٹ اور اسلامک سالویشن فرنٹ نے کی۔ یعنی بروقت درست اور فوری فیصلے نہ ہوسکے۔ لال مسجد ہو یا خودکش بمباری کا رجہان یا عوامی مقامات اور سرکاری تنصیبات کو بم دھماکوں سے اڑانا، یا اقلیتی فرقوں پر حملے یا خواتین کے اسکولوں، میوزک سینٹروں، حجاموں اور طبی ٹیموں کو نشانہ بنایا جانا۔ کسی بھی مسئلے پر خود کو اعتدال پسند کہنے والی مذہبی جماعتوں نے دوٹوک موقف نہیں اپنایا جس سے یہ اندازہ ہوسکے کہ وہ خرگوش کے ساتھ ہیں یا شکاری کے ساتھ۔ اس کے نتیجے میں نہ تو انہی کی معنی خیز خاموشی سے حوصلہ پانے والے شدت پسند ان جماعتوں کو اپنا سمجھنے پر آمادہ ہیں اور نہ ہی ان جماعتوں کے ووٹروں کو معلوم ہے کہ نظریاتی پرنالہ کہاں بہہ رھا ہے۔

مولانا فضل الرحمان
کل تک جمیعت علما اسلام طالبان کو اپنا برخوردار سمجھتی تھی

اسکے نتیجے میں جمیعت علما اسلام جو کل تک طالبان کو اپنا برخوردار سمجھتی تھی آج اسکی قیادت کو افغان یا پاکستانی طالبان کا کوئی گروہ سنجیدگی سے سننے پر تیار نہیں ہے۔ بلکہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو مبینہ طور پر کئی مرتبہ نہ صرف دھمکیاں بھی مل چکی ہیں بلکہ ان کے ڈیرہ اسماعیل خان کے گھر پر حملہ بھی ہوچکا ہے۔دوسری جانب جماعتِ اسلامی جو باجوڑ ، مالاکنڈ بالخصوص سوات میں ایک موثر سیاسی قوت سمجھی جاتی تھی آج اس قوت کو ریاستی رٹ چیلنج کرنے والے مقامی شدت پسند عناصر ہائی جیک کر چکے ہیں۔جبکہ ان علاقوں میں اسکا ووٹ بینک سیکولر عوامی نیشنل پارٹی کیش کرا رہی ہے۔اور جماعت کی قیادت شدت پسندی کو صرف امریکی کھاتے میں ڈال کرمہنگائی اور گڈگورننس کے مسائل پر ٹرین مارچ کرتی پھر رہی ہے۔

مذہبی سیاسی جماعتوں کی طرح طالبان کا بھی دعوی ہے کہ انکی مسلح جدوجہد نفاذِ شریعت کی خاطر ہے چنانچہ طالبان، سیکولر اور مغرب نواز قوتوں کے ساتھ ساتھ اگر وہ شریعت کی روایتی وکیل اورسیاسی عمل پر یقین رکھنے والی جماعتوں کو بھی اپنی راہ کا پتھر سمجھ رہے ہیں تو یہ ایک منطقی بات ہے۔

ویسے بھی ایک نظریاتی میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں۔آج نہیں تو کل طالبان ان مذہبی جماعتوں سے اسی طرح نمٹیں گے جس طرح وہ کچھ سال پہلے افغانستان میں نفاذِ شریعت کی دعویدار دوسری تنظیموں سے نمٹ چکے ہیں۔یا جس طرح وہ پاکستان میں اپنی مخالف نظریاتی قوتوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔چنانچہ فیصلہ طالبان کو نہیں روایتی مذہبی سیاسی جماعتوں کو کرنا ہے کہ وہ کونسی کشتی میں سوار ہونا پسند کرتی ہیں۔اور یہ فیصلہ بھی جلد کرنا ہوگا۔

نواز شریفافغان مصالحتی عمل
نواز شریف کے کردار پر چہ مگوئیاں
باجوڑ آپریشن
باجوڑ میں حکومتی عملداری کہاں تک؟
طالبان کا خوف
ایم کیو ایم کہتی ہے کہ طالبان کراچی پہنچ چکے
’نو گو ایریا‘
ہنگو حملہ، علاقہ نو گو ایریا سمجھا جاتا ہے
چیک پوسٹجگہ جگہ تلاشی
سوات میں لوگ چیک پوسٹوں سے پریشان
طالبان (فائل فوٹو)’حتمی معاہدہ جلد‘
جنگ و جدل سے کچھ حاصل نہیں: مقامی طالبان
مولانا فقیرامن و امن کی شرط
وردی نہیں خارجہ پالیسی میں تبدیلی چاہیے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد