’شدت پسندی بند کرنے کا حلف‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ مقامی طالبان کے ایک مضبوط ترین گڑھ ماموند میں عسکریت پسندوں نے ایک قبائلی جرگہ کے سامنے حلف اٹھایا ہے کہ وہ آئندہ علاقے میں شدت پسندی کے کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے۔ باجوڑ ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بدھ کو وڑہ ماموند کے علاقے کس کلی میں باڑوزئی، اوریازئی اور برم قاضی کے قبائل کا ایک بڑا جرگہ منقعد ہوا جس میں ان قبیلوں کے مشران اور عمائدین نے شرکت کی۔ جرگہ میں مشران نے وڑہ ماموند میں طالبان سے جاری مذاکرات کے بارے میں قبائل کو آگاہ کیا۔ ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے تصدیق کی کہ عسکریت پسندوں نے جرگہ کے ارکان کے سامنے قسم کھا کر غیر مشروط طورپر ہتھیار ڈال دینے کا اعلان کیا اور علاقے میں ہر قسم کی شدت پسندانہ کارروائیاں ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے کہا کہ جرگہ نے فیصلہ کیا ہے کہ غیر ملکیوں کو پناہ دینے والوں پر جرمانے کے علاوہ ان کےگھر جلائے جائینگے اور علاقہ بدر بھی کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں طالبان کا موقف معلوم کرنے کےلیے ان کے ترجمان مولوی عمر سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔ قبائلی ملک کا کہنا تھا کہ وڑہ ماموند میں گزشتہ تین دنوں سے عسکریت پسندوں اور قبائلی جرگہ کے مابین مذاکرات جاری تھے۔انہوں نے کہا کہ بات چیت میں تحریک طالبان کے مرکزی رہنما مولوی فقیر کی نمائندگی ان کے کمانڈروں جان ولی عرف شینا اور شیر بہادر نے کی۔ قبائلی رہنما کے مطابق مذاکرات کے دوران کمانڈر شینا بار بار (مخابرے) یعنی وائرلس کے ذریعے سے مولوی فقیر سے رابط کرتے رہے اور جرگہ کےمطالبات ان کے سامنے بیان کرتے رہے۔ واضح رہے کہ ماموند تحصیل باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان کا مضبوط ترین گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان کے سربراہ مولوی فقیر محمد، طالبان ترجمان مولوی عمر، کمانڈر شینا اور دیگر اہم کمانڈروں کا تعلق بھی اسی علاقے سے بتایا جاتا ہے۔ باجوڑ ایجنسی میں طالبان کی سرگرمیاں بھی سب سے پہلے وڑہ ماموند میں شروع ہوئے جبکہ شدت پسندوں کی طرف سے قائم کردہ مرکزی شرعی عدالت بھی اسی مقام پر قائم کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں موجودہ آپریشن میں باجوڑ اہم کیوں؟29 October, 2008 | پاکستان ایک طالب ہلاک، دوسرا گرفتار29 October, 2008 | پاکستان جرگہ: ’با اثر افراد کا رابطہ گروپ‘28 October, 2008 | پاکستان لوئی سم، ’عسکریت پسندوں کی سپلائی لائن کٹ گئی‘26 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||