جرگہ: ’با اثر افراد کا رابطہ گروپ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور افغانستان کے جرگہ عمائدین امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دونوں جانب کے متحارب گروپوں سے بات چیت اور رابطے بڑھانے پر متفق ہو گئے ہیں۔ مذاکرات کے لیے دونوں جانب کے با اثر افراد کا رابطہ گروپ بنایا جائے گا۔ منگل کے روز اسلام آباد میں دو روز سے جاری پاک افغان منی جرگے کے اختتام پر جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے متحارب گروہوں سے مذاکرات کیے جائیں گے تاکہ خطے میں تنازعات کا حل نکالا جا سکے۔ تاہم بات چیت صرف ان لوگوں سے کی جائے گی جو دونوں ممالک کے آئین کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہیں ۔ جرگے کے اختتام پر پاکستان کے قبائلی عمائدین کی نمائندگی کرنے والے گورنر سرحد اویس احمد غنی نے پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے جرگہ اراکین میں سے دو کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جو جنگ و جدل میں مصروف متحارب گروہوں سے بات چیت کریں گی۔ اس کے علاوہ با اثر لوگوں کےگروپ متحارب گروہوں سے امن اور مصالحت کے لیے رابط کریں گے۔ تاہم انہوں نے رابطہ گروپ میں شامل کیے جانے والے افراد کے نام بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ مثبت نتائج حاصل کرنے کے لیے نام راز میں رکھیں جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے طالبان اور القاعدہ کا نام لیے بغیر کہا کہ’ اس بار مذاکرات کا دائرہ کا ر وسیع ہو گا اور ہراس فریق سے بات کی جائے گی جس کی خطے میں امن اور استحکام کے لیے ضرورت ہو گی۔اور اس کے بارے میں زیادہ نہیں کہا جا سکتا تاکہ فریقین کو کوئی غلط پیغام نہ پہنچے‘۔ اس موقع پر ان کے ساتھ پریس کانفرس میں افغانستان کے قبائلی عمائدین کی سربراہی کرنے والے سابق افغان وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ دونوں ممالک کو دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کرنا ہو گا اور اس کےلیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم افغانستان مذاکرات میں ان تمام گروہوں کا خیر مقدم کرتے ہیں جو قانون اور آئین کی پاسداری کرتے ہیں اور وہ جو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں‘ ۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ طالبان نے پہلے افغانستان کے صدر حامد کرزائی کے جانب سے مذاکرات کی پیش کش کو مسترد کر دیا تھا لیکن اب بات چیت سے مسئلہ حل کرنے کے لیے حالات زیادہ ساز گار ہیں‘۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں نیٹو فورس کے جاسوسی طیاروں سے میزائل حملوں کے بارے میں دونوں رہنماوں نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ حالات انتہائی حساس اور پیچیدہ ہیں لیکن متحارب گروہوں سے بات چیت کے فیصلہ مسئلے کے حل میں ایک اہم پیش رفت ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں اویس احمد غنی نے بتایا کہ منی جرگے کو محدور مینڈیٹ حاصل تھا اس لیے جرگے میں متحارب گروہوں سے بات چیت شروع کرنے کے بارے میں زیادہ بات ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئندہ منی جرگہ دو یا تین ماہ میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہوگا جس میں متحارب گروپس سے بات چیت کے لیے بنائی جانے والی کمٹیوں کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ کا جایزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ منی جرگہ دونوں ممالک کی حکومتوں سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے سفارشات کرے گا۔ واضح رہے کہ دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گذشتہ سال افغانستان کے دارالحکومت کابل میں منقعد کیا تھا جس کے مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی کو مشترکہ خطرہ کیا گیا تھا اور دہشت گردی کے مسلے کو حل کرنے کرنے کے لیے دونوں ممالک کے قبائلی عمائدین کا منی جرگہ تشکیل دیا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں پاک افغان لویا جرگہ اگست میں04 May, 2007 | آس پاس کابل جرگے کے سامنے کئی سوالات08 August, 2007 | آس پاس حملے غیرافغانیوں کا کام ہیں: کرزئی09 August, 2007 | آس پاس ماضی کی تلخیاں بھلانا ضروری ہے11 August, 2007 | آس پاس ’دہشتگردی دونوں کیلیے خطرہ ہے‘12 August, 2007 | آس پاس ’دہشت گردی دونوں ملکوں کے لیے خطرہ ہے‘12 August, 2007 | آس پاس ان گِلے شکووں کا کیا ہوا12 August, 2007 | آس پاس سفارشات کیا قابل عمل ہیں؟15 August, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||