BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان سے ملاقات کے کٹھن سفر کا احوال

اورکزئی ایجنسی
اورکزئی ایجنسی کا ایک منظر
پشاور کے صحافی جب بھی طالبان سے ملاقات کےلیے جاتے ہیں تو انہیں کوئی نہ کوئی مشکل ضرور پیش آتی ہے۔ تازہ سفر بھی ایسی ہی داستان ہے۔

چند دن قبل جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک مرکزی کمانڈر حکیم اللہ محسود کی خصوصی دعوت پر پشاور کے تقریباً بیس کے قریب صحافی اورکزئی ایجنسی کےلیے روانہ ہوئے تو صبح سویرے روانگی سے تھوڑی دیر قبل معلوم ہوا کہ درہ آدم خیل میں مقامی انتظامیہ نے کرفیو نافذ کر کے پشاور کوہاٹ شاہراہ اور کوہاٹ سرنگ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی ہے۔

تمام ساتھیوں کا خیال تھا کہ شاید حکومت نے صحافیوں کو روکنے کےلیے سڑک بند کردی ہے کیونکہ درہ آ دم خیل میں اس سے ایک ہفتہ پہلے تک ایسی کوئی بات نہیں تھی، حالات نارمل تھے۔ بہرحال فیصلہ کیا گیا کہ اٹک کے راستے کوہاٹ اور پھر وہاں سے ہنگو کے راستے اورکزئی ایجنسی جائیں گے۔

حکیم اللہ کے قہقے
 صحافی اور طالبان حکیم اللہ کے گرد جمع تھے اور اس کے ساتھ تصویریں بنا رہے تھے کہ اس دوران انہوں نے اچانک اپنی بندوق (کلاکوف) سے ایک ہوائی فائر کیا جس سے سب صحافی پریشان ہوگئے۔ گولی کچھ اس انداز سے چلائی گئی کہ وہ اپنی جگہ سے ہلے اور نہ ہی بندوق کا بولٹ کھینچا۔ فائر کے بعد ہم ایک دوسرے کو خوف سے دیکھ رہے تھے جبکہ حکیم اللہ قہقہے لگا رہا تھا
چھ گاڑیوں کا یہ قافلہ اٹک کے راستے کوہاٹ کےلیے روانہ ہوا۔ یہ راستہ زیادہ تر صحافیوں کےلیے نیا تھا۔ تمام گاڑیاں ایک ہی سفید رنگ کی نئی کرولا گاڑیاں تھیں جنہیں دور سے قطار میں دیکھ کر بعض جگہوں پر تو لوگ شسدر رہ جاتے۔ ایک دو مقامات پر تو قبائلیوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ طالبان کے ہاتھ اچھا شکار لگا ہے یعنی وہ سمجھ رہے تھے کہ شاید طالبان ان کو اغواء کر کے لا رہے ہیں۔

تقریباً تین گھنٹے کا کٹھن سفر طے کر کے کوہاٹ پہنچے تو وہاں ڈی آئی خان سے آئے ہوئے کچھ صحافی ہمارے انتظار میں تھے جنہیں ہمارے ساتھ اورکزئی ایجنسی جانا تھا۔

کوہاٹ میں معلوم ہوا کہ رئیسان ہنگو کے مقام پر فائرنگ کا ایک واقعہ ابھی ابھی پیش آیا ہے جس میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں اس لیے مقامی انتظامیہ نے علاقے میں شیعہ سنی فسادات کے خدشے کے پیش نظر ہنگو کوہاٹ روڈ بھی ہر قسم کے ٹریفک کےلیے بند کردی ہے۔

اب تو سب ساتھی اس بات پر متفق تھے کہ یہ سب کچھ اخبار نویسوں کو طالبان سے روکنے کےلیے کیا جارہا ہے۔ یہ صورتحال دیکھ کر بعض صحافیوں نے تو دورہ ملتوی کرنے اور واپس پشاور پہچنے پر زور دیا۔

تاہم طالبان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے سماری سڑک کےذریعے سے ہنگو پہنچنے کا مشورہ دیا۔ سماری ایک پہاڑی اور زیر تعمیر کچی سڑک تھی۔ ہم سب کےلیے یہ ایک نیا راستہ تھا، دو بار تو ہم راستہ بھی بھول گئے۔ اس راستے پر ایک دو مقامات پر گاڑیوں کو دھکے بھی دینے پڑے۔

ہمارے جانے سے دو دن پہلے اورکزئی ایجنسی سے یہ اطلاع مسلسل ملتی رہی کہ وہاں کچھ دنوں سے امریکی جاسوس طیارے گردش کر رہے ہیں۔ اس قسم کی اطلاع بڑی پریشانی سے کم نہیں تھی۔

تاہم یہ پریشانی مزید اس وقت بڑھی جب ہم اپر اورکزئی ایجنسی کے صدر مقام غلجو پہنچے جہاں طالبان نے لڑکیوں کے ایک زیر تعمیر کالج میں مرکز بنایا ہوا تھا۔ ہم گاڑیوں سے اترے ہی تھے کہ اس دوران وہاں فضا میں ایک طیارہ گشت کرتے ہوئے نظر آیا۔

لرزتا مرکز
 چیک پوسٹ پہنچے تو وہاں فوجی اہلکاروں نے ہمارے اوپر بندوقیں تانیں اور ہمارے موبائل چھین لیے۔ تقریباً پندرہ منٹ تک ہمیں گاڑیوں سے نیچے اترنے کی اجازت نہیں تھی اور گاڑیوں کے لائٹیں بند تھیں۔ پھر ہمیں ایک مرکز میں بٹھایا گیا اور تھوڑی دیر کے بعد سکیورٹی فورسز نے وہاں سے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فائرنگ شروع کردی جس سے مرکز لرزتا رہا
جہاز کے نمودار ہونے کے ساتھ ہی صحافی ادھر ادھر بھاگنے لگے، بعض نے تو اس منظر کو فلم بند کرنا شروع کر دیا۔ طالبان نے اسے جاسوسی طیارہ سمجھ کر اس پر کلاشنکوف اور لائٹ مشین گنوں سے فائرنگ شروع کر دی۔

طالبان طیارے پر مسلسل گولیاں چلاتے رہے اور آپس میں قہقہے بھی لگاتے رہے۔ تاہم بعد معلوم ہوا کہ وہ جاسوس نہیں بلکہ ایک مسافر طیارہ تھا۔

دوسرے دن ماموں زئی کے علاقے میں حکیم اللہ محسود نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور تقریباً ایک گھنٹہ تک صحافی مسلسل ان سے مختلف سوالات کرتے رہے۔ حکیم اللہ صحافیوں کی اتنی بڑی تعداد میں اورکزئی آنے پر بڑے خوش تھے۔ پریس کانفرنس کے بعد حکیم اللہ نے اپنی خوشی کا اظہار بڑے انوکھے انداز میں کیا۔

صحافی اور طالبان حکیم اللہ کے گرد جمع تھے اور اس کے ساتھ تصویریں بنا رہے تھے کہ اس دوران انہوں نے اچانک اپنی بندوق (کلاشکوف) سے ایک ہوائی فائر کیا جس سے سب صحافی پریشان ہوگئے۔ گولی کچھ اس انداز سے چلائی گئی کہ وہ اپنی جگہ سے ہلے اور نہ ہی بندوق کا بولٹ کھینچا۔ فائر کے بعد ہم ایک دوسرے کو خوف سے دیکھ رہے تھے جبکہ حکیم اللہ قہقہے لگا رہا تھا۔

جب ہم واپس جانے لگے تو حکیم اللہ نے تمام صحافیوں کو اکٹھا کیا اور فرداً فرداً سب سے ہاتھ ملانے کے بعد دو گاڑیاں ان کو بطور تحفے میں پیش کی۔ ان میں ایک گاڑی نیٹو افواج کے قافلے کے بعد قبضے میں لی گئی بکتر بند گاڑی اور ایک اقوام متحدہ کی لینڈ کروز گاڑی شامل تھی۔ تاہم صحافیوں کے ٹیم لیڈر سیلاب محسود نے دونوں گاڑیاں انہیں شکریہ کے ساتھ واپس کردی۔

واپسی پر دوبارہ کوہاٹ پہنچے تو چند ساتھی کوہاٹ سرنگ جبکہ کچھ گاڑیاں کوتل کے راستے پشاور روانہ ہوئے۔ کوہاٹ سرنگ شام ہونے کی وجہ سے بند تھی، لہذا وہاں چند صحافیوں کو فوجی اہلکاروں نے روک کر سرنگ کے قریب ایک فوجی مرکز میں بٹھا لیا۔

طالبان کے تحفے
 حکیم اللہ نے تمام صحافیوں کو اکھٹا کیا اور فرداً فرداً سب سے ہاتھ ملانے کے بعد دو گاڑیاں ان کو بطور تحفے میں پیش کی۔ ان میں ایک گاڑی نیٹو افواج کے قافلے کے بعد قبضے میں لی گئی بکتر بند گاڑی اور ایک اقوام متحدہ کی لینڈ کروز گاڑی شامل تھی۔ تاہم صحافیوں کے ٹیم لیڈر سیلاب محسود نے دونوں گاڑیاں انہیں شکریہ کے ساتھ واپس کردی
کوتل کے راستے جانے والوں صحافیوں کو کوتل چیک پوسٹ پر فوجی اہلکاروں نے روک لیا۔ ہم جب کوتل پہنچے تو کافی اندھیرا ہوچکا تھا۔ راستے میں اطلاع ملی کہ کوہاٹ شہر پر نامعلوم مقام سے کچھ راکٹ داغے گئے ہیں جس سے ہمارے خوف میں مزید اضافہ ہوا کیونکہ آتے ہوئے بھی درہ آدم خیل میں حالات ٹھیک نہیں تھے۔

چیک پوسٹ پہنچے تو وہاں فوجی اہلکاروں نے ہمارے اوپر بندوقیں تانیں اور ہمارے موبائل چھین لیے۔ تقریباً پندرہ منٹ تک ہمیں گاڑیوں سے نیچے اترنے کی اجازت نہیں تھی اور گاڑیوں کے لائٹیں بند تھیں۔ پھر ہمیں ایک مرکز میں بٹھایا گیا اور تھوڑی دیر کے بعد سکیورٹی فورسز نے وہاں سے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فائرنگ شروع کردی جس سے مرکز لرزتا رہا۔

سب صحافیوں کا خیال تھا کہ سکیورٹی اہلکار ان کو ڈرانے اور خوف زدہ کرنے کے لیےگولہ باری کر رہے ہیں تاکہ آئندہ اخبار نویس طالبان سے ملاقات کرنے نہ جائیں۔ اس دوران وہاں سے دیگر گاڑیاں گزرتی رہیں لیکن ہمیں روکا ہوا تھا جبکہ ہمارے دیگر ساتھیوں پر بھی بندوقیں تانی گئیں تھیں۔

ایک کیپٹن ہمیں بار بار کہتا رہا کہ صحافیوں کے حوالے سے ہمیں خصوصی ہدایات ملی ہیں، لہذا اپ لوگوں کو درہ آدم خیل سے واپس کوہاٹ سرنگ پار کر کے دوبارہ کوہاٹ جاناہوگا جہاں آپ کے باقی ساتھی بھی انتظار کر رہے ہیں۔

ہم نے ایسا ہی کیا اور ہمیں سرنگ کے قریب فوجی مرکز لے جایا گیا جہاں ہمارے دیگر ساتھی بھی موجود تھے۔ ہم تقریباً تین گھنٹوں تک فوجی اہلکاروں کے پاس رہے اور اس دوران ہمارے چند جذباتی صحافیوں نے خبر بھی چلائی تھی کہ ہمیں فوجی اہلکاروں نےگرفتار کر لیا ہے۔

بہرحال متعدد بار درخواستوں کے باوجود بھی ہمیں فوجی اہلکاروں نے کوہاٹ سرنگ سے پشاور جانے کی اجازت نہیں دی بلکہ ہم ایک بار پھر لمبے راستے اٹک سے پشاور کےلیے روانہ ہوئے۔ پشاور پہنچے تو رات کا تین بج رہا تھا۔

لاقانونیت کا دور دورہ
پشاور: خودکش حملے، اغوا کی وارداتیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد