عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | طالبان نے ابھی تک اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے |
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مسلح طالبان نے مبینہ طور پر چار افراد کے کان کاٹ کر انہیں زندہ چھوڑ دیا ہے۔ ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ صدر مقام خار کے دننہ خار علاقے میں سنیچر کی رات پیش آیا۔ اہلکار کے مطابق ان افراد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خیمے میں آگ کے ارد گرد بیھٹے تھے کے مسلح طالبان داخل ہوئے اور انہیں اٹھا کر لے گئے۔ ان کے بقول اس دوران مسلح طالبان نے شہر کے مختلف علاقوں سے اٹھارہ چوکیداروں کو بھی اٹھایا اور انہیں نامعلوم مقام کی جانب لے گئے جہاں ان میں سے چار کا ایک ایک کان کاٹ دیا گیا کیونکہ یہ چاروں ان چوکیداروں کے سربراہ سمجھے جاتے تھے۔ ان کے مطابق مسلح طالبان نے بعد میں باقی اٹھارہ افراد سے اسلحہ اور دیگر چیزیں چھین کر انہیں واپس شالیمار چینہ کے مقام پر چھوڑدیا۔جن چوکیداروں کے کان کاٹ دیئے گئے ہیں ان کے نام شیرین، محمد، بہرام اور جہانگیر بتائے جاتے ہیں۔ ان چاروں کو طبی افراد فراہم کرنے کے لیے خار سول ہسپتال پہنچایا گیا ہے جہاں درجنوں لوگ انہیں دیکھنے کے لیے آرہے ہیں۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ خار میں طالبان یا نامعلوم مسلح افراد کا داخلہ روکنے کے لیے یہ افراد نہ صرف پہرہ دیتے تھے بلکہ باقی چوکیداروں کی نگرانی بھی کیا کرتے تھے۔ طالبان نے ابھی تک اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ یادرہے کہ باجوڑ میں حکومت کے حامی افراد کو مبینہ خودکش حملوں یا پھر گلاکاٹ کر ہلاک کرنے کے بہت سے واقعات پیش آئے ہیں مگر یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی کے جسم کا کوئی عضو کاٹ کر زندہ چھوڑدیا گیا ہے۔ |