BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 January, 2009, 07:25 GMT 12:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہمندایجنسی میں جھڑپ آٹھ ہلاک

پاکستان قبائلی علاقہ فائل فوٹو
جھڑپ کے بعد کئی سکیورٹی اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاعات ہیں
قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز کے کیمپ اور چیک پوسٹوں پر حملوں میں ایف سی اہلکاروں اور طالبان سمیت آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

جھڑپ کے بعد کئی سکیورٹی اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ سنیچر کی رات تحصیل صافی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں اور کیمپ پر ہونے والے حملوں میں فرنٹئیر کور کے چھ اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جوابی کارروائی میں کئی طالبان جنگجو بھی مارے گئے ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع نے دو عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

دریں اثناء سکیورٹی فورسز کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ مہمند ایجنسی میں ایف سی اہلکاروں نے شدت پسندوں کے ایک بڑے حملے کو ناکام بناتے ہوئے چالیس شدت پسندوں کو ہلاک کردیا ہے۔

بیان کے مطابق سرحدی علاقوں سے آنے والے تقریباً چھ سو عسکریت پسندوں نے فرنٹیر کور کی چیک پوسٹوں پر حملے کیے۔حملہ آواروں میں اکثریت غیرملکیوں کی تھی۔ بیان کے مطابق جھڑپوں میں چھ ایف سی اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلح عسکریت پسندوں نے رات کی تاریکی میں تحصیل صافی کے علاقوں محمد گٹ، لکڑو اور ساگی میں قائم سکیورٹی فورسز کے کیمپ اور چیک پوسٹوں پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملے کیے۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی میں توپ خانے کا استعمال کیا اور اس طرح دونوں جانب فائرنگ کا سلسلہ صبح تک جاری رہا۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپ کے بعد کئی سکیورٹی اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ تاہم سرکاری طورپر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح سے علاقے میں توپ بردار ہیلی کاپٹر گشت کررہے ہیں اور کہیں کہیں مشتبہ ٹھکانوں پر شیلنگ بھی کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جھڑپوں کی وجہ سے علاقے میں سخت خوف وہراس پایا جاتا ہے جبکہ مرکزی مہمند باجوڑ سڑک بند کردی گئی ہے۔

اسی بارے میں
مہمند ایجنسی مدرسے پر حملہ
27 October, 2008 | پاکستان
مہمند: چیک پوسٹ پر حملہ
26 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد