مہمند ایجنسی مدرسے پر حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے کے بعد توپ بردار ہیلی کاپٹروں نے ایک دینی مدرسے کو نشانہ بنایا ہے جس میں ایک طالب علم زخمی ہوگیا ہے۔ دوسری طرف مقامی طالبان نے اتوار کی رات سکیورٹی چیک پوسٹ پر ہونے والے مبینہ خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ مہمند ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات میں عینی شاہدین کے مطابق پیر کو دوپہر کے وقت گن شپ ہیلی کاپٹروں نے قندہار کے علاقے میں ملاخیلو نامی ایک دینی مدرسے پر بمباری کی جس سے مدرسے میں پڑھنے والا ایک طالب علم زخمی ہوا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شیلنگ سے مدرسے کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم پولٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ مدرسے میں طالبان کی بڑی تعداد جمع ہونے کی اطلاع تھی اس لیے کارروائی کی گئی۔ یہ مدرسہ مولانا عبد المالک نامی ایک مقامی عالم دین کا بتایا جاتا ہے۔ دریں اثناء مہمند ایجسنی میں مقامی طالبان کے سربراہ کمانڈر عمر خالد نے اتوار کی رات سکیورٹی چیک پوسٹ پر ہونے والے مبینہ خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ طالبان کمانڈر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو فون کرکے دھمکی دی کہ اگر مہمند ایجنسی میں طالبان کے خلاف اپریشن شروع کیا گیا تو عسکریت پسند پشاور، چارسدہ اور شب قدر میں سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ مہمند ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پیر کی صبح مقامی انتظامیہ نے علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے ایجنسی کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی فورسز کے مزید دستے تعینات کردیئے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ صبح کےوقت مقامی انتظامیہ کی طرف سے لاوڈ سپیکروں پر اعلانات کئے گئے جس میں لوگوں کو دکانیں اور بازار فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلانات کے فوری بعد صدر مقام غلنئی، لکڑو، میاں منڈئی اور یکہ غنڈ بازار بند ہوگئے اور لوگ گھروں کی طرف بھاگنے لگے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ نے باجوڑ ایجنسی جانے والی شاہراہ بھی ہر قسم کے ٹریفک کےلئے بند کردی ہے۔ ان کے مطابق علاقے میں کرفیو جیسا سماں ہے اور ہر طرف سکیورٹی فورسز کے اہلکار گشت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ مہمند ایجنسی کے ایک اعلی پولٹیکل اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے گزشتہ رات سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ کرنے والے افراد کی تلاش شروع کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بازار اس لیے بند کئے گئے ہیں تاکہ حملے کرنے والے افراد علاقے سے باہر نہ نکل پائے۔ گزشتہ رات نامعلوم حملہ آوار نے بارود سے بھری گاڑی نحقی چیک پوسٹ سے ٹکرائی تھی جس میں حملہ آوار سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حملے میں چیک پوسٹ زمین بوس ہوگئی تھی۔ تاحال کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ | اسی بارے میں مہمند: چیک پوسٹ پر حملہ26 October, 2008 | پاکستان سوات لشکر طالبان جھڑپیں، تیرہ ہلاک26 October, 2008 | پاکستان بیت اللہ محسود کے بھائی قتل26 October, 2008 | پاکستان خیبر ایجنسی، قبائلی ملک ہلاک26 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||