مہمند، گولہ باری میں’چار ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز کی گولہ باری میں کم سے کم چار عام شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف ضلع چارسدہ میں بھی مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شیلنگ کی گئی ہے جبکہ سوات میں طالبان نے تین سکیورٹی اہلکاروں کو اغواء کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔ مہمند ایجنسی کے صدر غلنئی سے ملنے والی اطلاعات میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اتوار کو سارا دن سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر چاروں اطراف سے شدید گولہ باری کی جس سے کئی مارٹر گولے گھروں پر لگے۔ انہوں نے کہا کہ گولہ باری اتنی شدید تھی کہ کئی گھنٹوں تک پورا علاقہ فائرنگ سے لرزتا رہا جبکہ لوگ خوف و ہراس کے مارے گھروں کے اندر محبوس ہوگئے تھے۔ ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ دویزئی کے علاقے میں ایک مارٹر گولہ گھر پر گرنے سے تین افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ اتمان زئی اور مچنی کے علاقوں میں بھی مارٹر گولے گھروں پر لگنے سے ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے جبکہ گزشتہ روز میاں کلی میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں زخمی ہونے والا نامعلوم موٹر سائیکل سوار اتوار کو ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں کچھ مارٹر گولے گھروں پر گرنے سے عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ علاقے میں آپریشن کی وجہ سےگزشتہ دس دنوں سے علاقے میں غیر اعلانیہ طور پر کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے تمام اہم مراکز اور تجارتی مراکز بند ہیں۔ دوسری طرف مہمند ایجنسی کے سرحدی علاقے ضلع چارسدہ میں بھی سکیورٹی فورسز نے مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر تیسرے دن بھی گولہ باری جاری رکھی۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اتوار کو دو مرتبہ سکیورٹی فورسز نے شنو غنڈئی کے علاقے میں عسکریت پسندوں کے مراکز کو نشانہ بنایا جبکہ جمعہ خان کورونہ اور کالاشاہ بیگ کے مقامات پر پولیس نے دو نئی چیک پوسٹیں قائم کی ہے۔گزشتہ رات جمعہ خان کورونہ پر گولہ باری میں چار عام شہری زخمی ہوئے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق علاقے میں کارروائیوں کی وجہ سے گزشتہ کئی دنوں سے غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے شب قدر اور آس پاس کے علاقوں میں تمام بازار اور دوکانیں بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کی وجہ سے ہزاروں لوگوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی ہے جبکہ دیگر کئی خاندان نقل مکانی کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ادھر صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں مقامی طالبان نے تین سکیورٹی اہلکاروں کو اغواء کرنے کا دعوٰی کیا ہے جبکہ حکام نے ایک اہلکار کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے بتایا کہ گزشتہ دو دنوں میں تین سکیورٹی اہلکار کو اغواء کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تحویل میں کل سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد اب چھ ہوگئی ہے کیونکہ بقول ان کے تین سکیورٹی اہلکار اس سے پہلے اغواء کیے گئے تھے۔ مسلم خان نے ان اہلکاروں کے بدلے میں مختلف جیلوں میں قید اپنے پچیس طالبان جنگجوؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سوات میں مقامی انتظامیہ نے ایک سکیورٹی اہلکار کی لاپتہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔ گزشتہ روز سوات میں فوج نے دو مختلف کاروائیوں میں ایک طالبان کمانڈر سمیت گیارہ جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعوٰی کیا تھا۔ | اسی بارے میں چارسدہ: خود کش حملہ، تین ہلاک12 November, 2008 | پاکستان ایک طالب ہلاک، دوسرا گرفتار29 October, 2008 | پاکستان موجودہ آپریشن میں باجوڑ اہم کیوں؟29 October, 2008 | پاکستان مہمند ایجنسی مدرسے پر حملہ 27 October, 2008 | پاکستان مہمند: چیک پوسٹ پر حملہ26 October, 2008 | پاکستان لوئی سم پر کنٹرول کا دعویٰ25 October, 2008 | پاکستان باجوڑ: حکومتی عملداری کہاں تک04 October, 2008 | پاکستان ’دوبارہ آپریشن کی وجہ حکومتی فیصلے‘29 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||