BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 October, 2008, 06:03 GMT 11:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لوئی سم پر کنٹرول کا دعویٰ

اکتوبر 2008 کی تصویر
باجوڑ ایجنسی میں حال میں گرفتار ہونے والے چند مشتبہ افراد
فرنٹیئر کور کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل طارق خان نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے باجوڑ ایجنسی کے علاقے لوئی سم پر قبضہ کرلیا ہے۔

لوئی سم باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار سے پچیس کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔انہوں نے بتایا کہ باجوڑ ایجنسی میں طالبان کے خلاف کئی ہفتوں سے جاری فوجی کارروائی میں ڈیرھ ہزار طالبان مزاحمت کار مارے گئے ہیں۔

میجر جنرل طارق خان نے یہ بھی بتایا کہ اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز کے چوہتر اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں جن میں بیالیس فوجی ہیں۔ انہوں نے یہ باتیں پاکستانی فوج کے ساتھ جانے والے صحافیوں کو بتائی۔

چند روز قبل میجر جنرل طارق خان نے کہا تھا کہ باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ برسرِ پیکار عسکریت پسندوں کی مدد کے لیے افغانستان سے پاکستان کے علاقوں میں دراندازی جاری ہے۔

ان کے بقول فوجی کارروائی کے ابتدائی دنوں ہردوسرے یا تیسرے دن کم سے کم دو سو مسلح عسکریت پسند افغانستان سے باجوڑ میں داخل ہوتے تھے جو یہاں موجود عسکریت پسندوں کے ساتھ مل کر سکیورٹی فورسز کے خلاف لڑنا شروع کردیتے تھے۔

انہوں نے دعویٰٰ کیا تھا کہ باجوڑ میں عسکریت پسند افغان کمانڈر قاری ضیاءالرحمن کی قیادت میں سکیورٹی فورسز کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ باجوڑ میں چیچن، ازبک، افغان اور ترکمن جنگجو موجود ہیں جنہیں بیرونی ممالک کی مدد حاصل ہے۔

باجوڑ میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے جاری آپریشن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ اس عرصے کے دوران صدر مقام خار سے لیکر ٹانک خطا، رشکئی، لوئی سم اور آس پاس تک تقریباً چالیس کلومیٹر تک کے علاقے پر کنٹرول حاصل کرلیاگیا ہے۔

میجر جنرل طارق خان سے پوچھا گیا کہ باقی قبائلی علاقوں میں مبینہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کے باوجود باجوڑ ایجنسی میں کارروائی کرنے کو کیوں اتنی زیادہ اہمیت دی گئی ہے تو ان کہنا تھا کہ ’باجوڑ سٹریٹیجک لحاظ سے ایک اہم علاقہ ہے۔ یہاں سے افغانستان، مہمند ایجنسی، دیر، سوات اور صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں تک رسائی بہت آسان ہے۔اسے جنگ کا مرکز سمجھا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز کو باجوڑ میں ایک روایتی نہیں بلکہ ایک ایسی جنگ کا سامنا ہے جس میں عسکریت پسند انتہائی منظم انداز میں سرگرم عمل ہیں۔ ان کے بقول آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے غار اور سُرنگیں دریافت کی ہیں۔

باجوڑ آپریشن
باجوڑ میں حکومتی عملداری کہاں تک؟
باجوڑ باجوڑ سے نوشہرہ
لڑائی کی وجہ سے باجوڑ سے نقل مکانی کرنے والے
باجوڑ ایجنسی سے نقل مکانیباجوڑ: امریکی امداد
باجوڑ کے بے گھروں کے لیے امریکی امداد
باجوڑ ایجنسی سے نقل مکانی’جنگ بندی‘ کی جائے
باجوڑ کے ارکانِ اسمبلی کا آپریشن روکنے کا مطالبہ
مہاجروں کے لیے لنگرباجوڑ سے پیدل فرار
باجوڑ میں بمباری سے بچ کر پشاور پہنچنے والے
باجوڑ ایجنسی سے نقل مکانی کرنے پر مجبور لوگ باجوڑ سے نقل مکانی
باجوڑ کے ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور
باجوڑ ایجنسی سے نقل مکانیباجوڑ کے مہاجر
باجوڑ سے آنے والے خواتین اور بچے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد