عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، باجوڑ ایجنسی |  |
 | | | باجوڑ ایجنسی میں حال میں گرفتار ہونے والے چند مشتبہ افراد |
فرنٹیئر کور کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل طارق خان نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے باجوڑ ایجنسی کے علاقے لوئی سم پر قبضہ کرلیا ہے۔ لوئی سم باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار سے پچیس کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔انہوں نے بتایا کہ باجوڑ ایجنسی میں طالبان کے خلاف کئی ہفتوں سے جاری فوجی کارروائی میں ڈیرھ ہزار طالبان مزاحمت کار مارے گئے ہیں۔ میجر جنرل طارق خان نے یہ بھی بتایا کہ اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز کے چوہتر اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں جن میں بیالیس فوجی ہیں۔ انہوں نے یہ باتیں پاکستانی فوج کے ساتھ جانے والے صحافیوں کو بتائی۔ چند روز قبل میجر جنرل طارق خان نے کہا تھا کہ باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ برسرِ پیکار عسکریت پسندوں کی مدد کے لیے افغانستان سے پاکستان کے علاقوں میں دراندازی جاری ہے۔ ان کے بقول فوجی کارروائی کے ابتدائی دنوں ہردوسرے یا تیسرے دن کم سے کم دو سو مسلح عسکریت پسند افغانستان سے باجوڑ میں داخل ہوتے تھے جو یہاں موجود عسکریت پسندوں کے ساتھ مل کر سکیورٹی فورسز کے خلاف لڑنا شروع کردیتے تھے۔ انہوں نے دعویٰٰ کیا تھا کہ باجوڑ میں عسکریت پسند افغان کمانڈر قاری ضیاءالرحمن کی قیادت میں سکیورٹی فورسز کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ باجوڑ میں چیچن، ازبک، افغان اور ترکمن جنگجو موجود ہیں جنہیں بیرونی ممالک کی مدد حاصل ہے۔ باجوڑ میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے جاری آپریشن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ اس عرصے کے دوران صدر مقام خار سے لیکر ٹانک خطا، رشکئی، لوئی سم اور آس پاس تک تقریباً چالیس کلومیٹر تک کے علاقے پر کنٹرول حاصل کرلیاگیا ہے۔ میجر جنرل طارق خان سے پوچھا گیا کہ باقی قبائلی علاقوں میں مبینہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کے باوجود باجوڑ ایجنسی میں کارروائی کرنے کو کیوں اتنی زیادہ اہمیت دی گئی ہے تو ان کہنا تھا کہ ’باجوڑ سٹریٹیجک لحاظ سے ایک اہم علاقہ ہے۔ یہاں سے افغانستان، مہمند ایجنسی، دیر، سوات اور صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں تک رسائی بہت آسان ہے۔اسے جنگ کا مرکز سمجھا جا سکتا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز کو باجوڑ میں ایک روایتی نہیں بلکہ ایک ایسی جنگ کا سامنا ہے جس میں عسکریت پسند انتہائی منظم انداز میں سرگرم عمل ہیں۔ ان کے بقول آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے غار اور سُرنگیں دریافت کی ہیں۔ |