ڈرون حملوں کے ’درست‘ نشانے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سرزمین پر سرحد پار افغانستان سے جتنے بھی مبینہ امریکی میزائل حملے ہوئے ہیں ان میں جو دو باتیں زیادہ نمایاں نظر آئی ہیں وہ ہیں حملے کی شدت اور ہدف کا صحیح انتخاب۔ یہی دو چیزیں ہیں جسے امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر کیے جانے والے میزائل حملوں میں بڑے مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔اس قسم کے زیادہ تر حملے پاکستان کے قبائلی علاقوں بالخصوص شمالی اور جنوبی وزیرستان میں کیے گئے ہیں۔ ان میں ہمیشہ یہ دیکھا گیا ہے کہ حملوں میں ان مکانات کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں پر امریکہ کو شبہہ ہو کہ یہاں پر مشتبہ غیر ملکی بالخصوص عرب جنگجو موجود ہوسکتے ہیں ۔ جن صحافیوں نے امریکی میزائل حملوں کے بعد ان مقامات کا دورہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ جاسوسی طیاروں سے میزائل داغنے والوں کے پاس ان مکانوں اور ان میں موجود لوگوں کے بارے میں کافی معلومات ہوتی ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی شوکت خٹک کا کہنا ہے کہ انہوں ایسے تین مقامات کا دورہ کیا ہے۔
انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں شکتوئی میں جس مکان کو امریکی میزائل حملہ کا نشانہ بنایا گیا تھا وہاں جاکر انہوں نے تین مکانات کو دیکھا جن میں سے دو کے درمیان ایک خالی مکان واقع تھا جس میں مال مویشی کو رکھا جاتا تھا۔ ان کے مطابق حملہ کچھ اس انداز سے کیا گیا تھا کہ بیچ کے خالی مکان کو چھوڑ کر باقی دو کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں کئی لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ اسکے علاوہ انکا کہنا ہے کہ میرعلی میں جس مکان میں القاعدہ کے ایک اہم رہنماء ابو حمزہ ربیعہ کو میزائل حملے میں ہلاک کیا گیا تھا اس مکان میں تین کمروں میں سے صرف اس کمرے کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ مبینہ طور پر موجود تھے۔ اگر چہ صحیح ہدف کے حوالے سے یہی کہا جاتا ہے کہ اس میں زیادہ عمل دخل اس چھوٹے سائز کے’چپ‘ یا سم کا ہوتا ہے جو حملے سے قبل وہاں پر کسی جاسوس کے ذریعے پھینکا جاتا ہے۔ چپ پھینکنے کے بعد ڈرونز اسی مقام کو نشانہ بناتے ہیں۔ اگر کبھی غلط نشانہ لگا بھی ہے تو چپ کی غلط جگہ پر پھینکے جانے کو اسکی اہم وجہ قراردیا جاتا ہے۔ امریکی میزائل حملوں میں دوسری اہم بات حملے کی شدت ہے۔قبائلی علاقوں میں زیادہ تر مکانات مٹی کے بنے ہوئے ہیں اور اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب بھی فوجی کارروائی کے دوران مکان پر توپ یا مارٹر کا کوئی گولہ لگا ہے تو وہ مکان کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی بجائے دیوار میں سوراخ کر کے اسکے پار نکل گیا ہے۔
لیکن امریکی میزائل حملے میں اب تک جس جگہ کو بھی نشانہ بنایاگیا ہے وہ تہس نہس ہو کر مکمل طور پر زمین بوس ہو گئی ہے۔ان علاقوں میں کام کرنے والے صحافی عالملگیر بیٹنی کا کہنا ہے کہ انہوں نے دیکھا ہے کہ ان حملوں میں جانی نقصان زیادہ سے زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے بھی کئی ایسے حملوں سے تباہ ہونے والے مکانات کا دورہ کیا ہے۔ انہیں وہاں پر کوئی لاش صحیح سلامت نظر نہیں آئی اور مرنے والوں میں زیادہ تر کے جسم کے اعضاء بکھرے ہوئے نظر آئے۔ان کے بقول ہر طرف بارود کی بو ہوتی ہے۔ اس بات کا اندازہ حال ہی میں طالبان کی جانب سے جاری ہونے والی ایک ویڈیو سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں شمالی وزیرستان کے ایک علاقے میں امریکی میزائل حملے میں تباہ ہونے والے مکان اور لاشوں کو دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ میزائل کا نشانہ بننے والے افراد میں سے صرف ایک شخص کی لاش صحیح سلامت ہے باقی تمام مرنے والوں کے جسم کے اعضاء بکھرے ہوئے ہیں جنہیں بعد میں بوریوں میں ڈال کر ایک اجمتماعی قبر میں دفنایا گیا۔ ویڈیو میں انسانی اعضاء سے بھری تقریباً نو بوریوں کو مقامی لوگ ایک اجتماعی قبر میں دفناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’وردی اتروانے میں بائیڈن کااہم کردار‘12 January, 2009 | پاکستان امریکہ کے ساتھ معاہدہ نہیں: مشرف10 January, 2009 | پاکستان 2009: دو دنوں میں دوسرا ڈرون حملہ02 January, 2009 | پاکستان سال نو کا پہلا امریکی ڈرون حملہ01 January, 2009 | پاکستان وزیرستان:میزائل حملے پانچ ہلاک22 December, 2008 | پاکستان وزیرستان:میزائل حملوں میں پانچ افراد ہلاک22 December, 2008 | پاکستان وزیرستان:میزائل حملوں میں پانچ افراد ہلاک22 December, 2008 | پاکستان وزیرستان: میزائل حملہ، دو ہلاک15 December, 2008 | پاکستان وزیرستان: میزائل حملہ، دو ہلاک15 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||